unseenkashmir#: ’انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں شادی نہ کریں‘

شہناز بھٹ ان خواتین میں سے ایک ہیں جو انڈین حکومت کی جانب سے سرینڈر سکیم کے تحت پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے واپس انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر جانے والے خاندانوں کا حصہ ہیں لیکن وہ اُس پار چھوٹ جانے والے اپنے میکے اور آزاد فضاؤں کو یاد کرتی ہیں۔

Image caption انٹرنیٹ اور واٹس ایپ کے ذریعے اس طرف بات ہو جاتی ہے لیکن حکومت بار بار انٹر نیٹ پر پابندی لگا دیتی ہے

’میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے ہوں لیکن انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے آئے ایک عسکریت پسند سے میری شادی ہوئی۔ پھر عمر عبداللہ حکومت کے وقت 2011 میں ’سرینڈر سکیم‘ کے چکر میں میرے شوہر نے بھارت کو واپس کرنے کی ضد کی اور ان کے ساتھ میں اور ہمارے بچے بھی اس پار کے کشمیر آگئے۔‘

* ’میں اپنے دوستوں کو اب کبھی نہیں دیکھ سکوں گا‘

لیکن ہم اب یہاں پھنس گئے ہیں، چاہ کر بھی واپس اس طرف والے کشمیر میں نہیں جا پا رہے ہیں۔

میں پاكستان کی طرف والے کشمیر کی تمام عورتوں کو كہوں گی کہ کبھی اپنا رشتہ ادھر نہ کریں۔

حکومت میرے شوہر کو دہشت گرد سمجھتی ہے ہمارا کیا قصور ہے۔ ہم نے تو انہیں دہشت گرد نہیں بنایا۔

ہم نے تو صرف شادی کی اور پھر یہاں چلے آئے۔ ہمیں باندھ کر کیوں رکھا ہے؟

ان ساڑھے پانچ سالوں میں ایک بار بھی واپس اپنے وطن، اپنے خاندان کے پاس جانے کا موقع نہیں ملا۔ اس دوران میرے والد چل بسے اور مجھے ایک سال بعد خبر ملی۔

Image caption انڈیا سے یہ تمام کشمیری کم عمر میں عسکریت پسند بننے کے لیے پاکستان آئے تھے

میرے جیسی ہزاروں لڑکیاں ہیں مظفر آباد میں، جنہوں نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے مردوں سے شادی کی ہے۔

انڈیا سے یہ تمام کشمیری کم عمر میں عسکریت پسند بننے کے لیے پاکستان آئے تھے اور پھر کچھ سال میں وہ سب چھوڑ کر عام زندگی گزارنے لگے۔

میرے شوہر بھی سبزی پھل کی دکان لگانے لگے تھے۔ ماں باپ کی رضامندی سے ہماری شادی ہو گئی۔ پھر سال 2011 میں ’سرینڈر سکیم‘ آئی اور انھوں نے ضد کی کہ وہ اپنے ماں باپ، بھائی بہن سے ملنا چاہتے ہیں۔

میرے ماں باپ نے بہت منع کیا اور کہا کہ انہیں ڈر ہے کہ واپس آنے کا راستہ نہیں ملے گا۔

مجھے یقین نہیں ہوا۔ مجھے بھارت کا کشمیر دیکھنے کا بڑا شوق بھی تھا۔ تو ان کی بات مان لی۔

یہ چاہتے تھے کہ ان کے گھر والے بھی مجھ ملیں، ایک شادی شدہ عورت کے پاس اور کیا چارہ تھا۔ نہ کہنے سے گھر ٹوٹ سکتا تھا جس سے بچوں کی زندگی برباد ہو جاتی۔

ہم 10 دسمبر 2011 کو نیپال کے راستے سے کشمیر آئے۔ ’سرینڈر اسکیم‘ میں بتائے گئے چار سرکاری راستوں میں یہ نہیں تھا پر ان راستوں سے ہمیں پاکستانی انتظامیہ جانے ہی نہیں دے رہی تھی۔

Image caption ساڑھے پانچ سالوں سے ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں کسی جیل میں بند کر دیا ہے

یہاں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں آنے کے بعد ہمیں گرفتار کر لیا گیا اور غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرنے کا مقدمہ دائر کر دیا۔ وہ آج بھی چل رہا ہے۔

میں جب یہاں آئی تھی تو سوچا تھا ایک ماہ بعد واپس جاؤں گی، پر تھانے اور عدالت کے ہی چکر کاٹ رہی ہوں۔

اب تک شناخت کا کوئی کارڈ نہیں ملا ہے۔ جب بھی کوئی بات اٹھاتے ہیں آنے جانے کی، پاسپورٹ بنوانے کی، تو کہہ دیا جاتا ہے کہ آپ غیر قانونی ہیں۔

اگر ہم اتنے ہی غیر قانونی ہیں تو ہمیں واپس کیوں نہیں بھیج دیتے؟ اور سارے ملکوں میں بھی تو یہی کیا جاتا ہے۔

ایک طرف تو انڈیا پاکستان دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں، اور پھر ہم عوام کو قانونی مقدموں میں الجھايا جاتا ہے۔

یہاں کے لوگوں پر اعتماد نہیں ہوتا۔ یہاں سہیلیاں ہیں میں دل کی بات کسی سے نہیں کر پاتی ہوں۔ لوگوں کے چہرے کچھ اور ہیں اور لگتا ہے کہ اندر سے وہ کچھ اور ہیں۔

ساڑھے پانچ سالوں سے ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں کسی جیل میں بند کر دیا ہے۔ اس دوران چھوٹے بھائی کی شادی ہو گئی اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔

Image caption یہاں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں آنے کے بعد ہمیں گرفتار کر لیا گیا

اب قریب آٹھ ماہ سے انٹرنیٹ اور واٹس ایپ کے ذریعے اس طرف بات ہو جاتی ہے۔

پر یہاں حکومت بار بار انٹرنیٹ بند کر دیتی ہے۔ ہر وقت یہاں تشدد ہوتا رہتا ہے، ہر وقت خطرے کا احساس رہتا ہے. ٹینشن رہتی ہے۔

کھیت میں کام کرنا پڑتا ہے جو پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ زبان اور طور طریقے بھی مختلف ہیں.

بہت لڑکیاں بھی ہیں جو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے باہر کے ممالک میں شادی کر کے جاتی ہیں پر انہیں واپس آنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔

ہم یہی سوچتے ہیں کہ انڈیا کیوں آئے؟ ان لوگوں پر غصہ آتا ہے کہ کیوں لائے تھے؟ ہمیں جھوٹ بول کر وہاں سے کیوں لے آئے؟ سب کچھ بس جھوٹ ہی لگتا ہے۔

(تحریر شہناز بھٹ کی بی بی سی ہندی کی دیویا آریہ اور ماجد جہانگیر سے بات چیت کی بنیاد پر لکھی گئی ہے)

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں