بابری مسجد: بی جے پی کے 3 سینیئر رہنماؤں کے خلاف فرد جرم عائد

Image caption بابری مسجد کو چھ دسمبر سنہ 1992 میں سخت گیر ہندؤں نے منہدم کر دیا تھا

انڈیا کی شمالی ریاست اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کی ایک خصوصی عدالت نے بابری مسجد کی مسماری سے متعلق مقدمے میں بی جے پی کے تین سینیئر رہنماؤں کے خلاف فرد جرم عائد کر دی گئی۔

بی بی سی اردو کے سہیل حلیم کے مطابق اس کیس میں اب سماعت کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

٭ 'بابری مسجد کا تنازع عدالت سے باہر حل کیا جائے'

٭ بابری مسجد کیس میں اڈوانی اور جوشی پر مقدمہ چلے گا

٭ اترپردیش کا مسلمان اتنا پریشان کیوں؟

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی، سابق وزیر مرلی منوہر جوشی اور موجودہ وفاقی وزیر اوما بھارتی پر مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔

بابری مسجد دسمبر 1992 میں مسمار کی گئی تھی لیکن اس کیس میں ابھی تک کسی کو سزا نہیں سنائی گئی ہے۔

الزام یہ ہے کہ مسجد کو ایک سازش کے تحت مسمار کیا گیا تھا جس میں ان تینوں رہنماؤں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

مسجد کی مسماری کے دن یہ رہنما ایودھیا میں موجود تھے جہاں بڑی تعداد میں ہندو کار سیوک یا رضاکار جمع ہوئے تھے اور ان رہنماوں کو کار سیوکوں کو اکسانے کے الزام کا بھی سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ایل کے اڈوانی کو ہزاروں ہندو مذہبی عقیدت مندوں کے جذبات بھڑکانے اور مجرمانہ سازش کے الزامات کا سامنا ہے

عدالت نے تینوں کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔ 25 برسوں میں یہ صرف دوسری مرتبہ تھا کہ لال کرشن اڈوانی عدالت میں پیش ہوئے۔

انھوں نے جج سے کہا کہ وہ سازش کے الزامات سے انکار کرتے ہیں اور یہ مقدمہ خارج کر دیا جانا چاہیے لیکن عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ یہ مقدمہ روزانہ کی بنیاد پر سنا جائے اور عدالت دو سال کے اندر اپنا فیصلہ سنائے۔

بابری سمجد کی مسماری کے بعد ملک کے کئی شہروں میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوگئے تھے جن میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔

لال کرشن اڈوانی کے لیے یہ مقدمہ بری خبر ہے کیونکہ اب ان کے لیے صدر جمہوریہ بننے کا راستہ بند ہو گیا ہے۔

وفاقی وزیر اوما بھارتی کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں کیونکہ کانگریس پارٹی ان سے اخلاقی بنیاد پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہی ہے۔

ان رہنماؤں کے خلاف سازش کے الزامات تکینی وجوہات کی بنیاد پر ختم کر دیے گئے تھے جس کے بعد سی بی آئی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہندوؤں کا ایک حلقہ مانتا ہے کہ جس جگہ بابری مسحد تعمیر تھی، وہاں ہزاروں سال پہلے ان کے بھگوان رام پیدا ہوئے تھے اس لیے وہاں ایک علیشان رام مندر تعمیر کیا جانا چاہیے۔

زمین کی ملکیت کا کیس فی الحال سپریم کورٹ میں ہے لیکن ابھی باقاعدہ سماعت شروع نہیں ہوئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں