کشمیر میں 'گندی جنگ' پر بحث

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پہلے ایک فوجی افسر نے بڈگام کے دستکار فاروق ڈار کو پتھراؤ کے خلاف انسانی ڈھال بنایا۔ فوجی جیپ کے ساتھ کسی شکار کی طرح بندھے معصوم فاروق کی دلخراش تصویر نے دہلی سے سرینگر تک سیاسی و سماجی حلقوں کو برہم کردیا۔

مقامی حکومت اور فوج نے متوازی طور تحقیقات کا حکم دیا لیکن تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی بھارتی فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے فاروق کو انسانی ڈھال بنانے والے میجر نتن لیتول گگوئی کو نہ صرف توصیفی اعزاز سے نوازا بلکہ ان کی اس حرکت کو 'گندی جنگ' کے دوران اپنایا گیا انو ویٹیو یعنی غیرروایتی طریقہ قرار دیا۔

نریندر مودی کی کابینہ کے بعض وزرا نے جنرل راوت کے بیان کا دفاع کیا۔ جنرل راوت نے کشمیر کو نہ صرف 'گندی' جنگ کا خطہ قرار دیا بلکہ انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ پتھر پھینکنے والے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہتھیار ہوتے تو 'میں خوش ہو جاتا، پھر میں وہی کرتا جو میں کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ بندوق والوں سے نمٹنا آسان ہے'۔

اس سے قبل بھاجپا کے جدید نظریہ ساز رام مادھو فاروق ڈار کے معاملے سے متعلق کہہ چکے ہیں کہ 'محبت اور جنگ میں سب جائز ہے'۔ بعد میں وزیر دفاع ارون جیٹلی نے کہا کہ 'جہاں جنگ جیسی صورتحال ہو وہاں فوجی افسروں کو فیصلہ سازی میں آزاد ہونا چاہیے، انہیں ہر بار پارلیمنٹ سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں'۔

مطلب صاف ہے کہ کشمیر میں جنگ ہو رہی ہے، اور بقول جنرل راوت یہ 'گندی جنگ ہے، جسے گندے طریقوں سے کھیلا جارہا ہے'۔

کشمیر کے سیاسی اور سماجی حلقے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا حکومت ہند نے واقعی کشمیریوں کے ساتھ ایک 'گندی' جنگ کا اعلان کردیا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم کئی گروپوں کے اتحاد کولیشن آف سول سوسائٹیز کے ترجمان خُرم پرویز کہتے ہیں 'بھارت نے ادارہ جاتی سطح پر کشمیر میں دہائیوں سے ظلم کیا ہے۔ جنرل راوت کا بیان محض ایک اعتراف ہے۔'

ہیومن رائٹس واچ کے کینیتھ روتھ نے جنرل راوت کے بیان کو 'مجرمانہ قیادت' کا مظاہرہ قرار دیا۔ حریت کانفرنس کے رہنما میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ 'جب جنرل راوت مظاہرین کے ہاتھوں میں بندوق دیکھنا چاہتے ہیں تو عیاں ہے کہ کشمیریوں کو تشدد پرکون اُکسا رہا ہے۔'

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کئی برس سے کشمیر میں خودمختاری کی خواہاں ہے۔ کشمیر میں تعینات 15 ویں کور کے سابق کمانڈر عرصہ دراز سے کشمیر کی انتظامیہ کو ایک سٹریٹیجک عمل کہتے آئے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ یہاں کی یونیفائیڈ کمانڈ کو دفاعی مقاصد کے لیے انتظامی فیصلہ سازی میں شریک کرنا لازمی ہے۔

واضح رہے پورے بھارت میں کشمیر واحد ریاست ہے جہاں مقامی وزیر اعلیٰ ایک فوجی ادارہ یونیفائیڈ کمانڈ کا سربراہ بھی ہوتا ہے اور دو حاضر جنرل اس کے سکیورٹی مشیر ہوتے ہیں۔ فوج، نیم فوجی ادارے، پولیس، خفیہ ایجنسیاں اور دوسری فورسز کے سربراہ اس کمانڈ کے رکن ہوتے ہیں۔

مصنف اور کالم نگار پی جی رسول کہتے ہیں 'ویسے بھی کشمیر میں جمہوریت کے لبادے میں مارشل لا جاری ہے۔ یہاں کے بڑے فیصلے فوج کرتی ہے۔ ظاہر ہے مظاہرین سے کیسے نمٹنا ہے یا مزاحمت پر آمادہ آبادیوں کو کیسے ڈیل کرنا ہے، اس بات کا فیصلہ حکومت نہیں یونیفائیڈ کمانڈ کرتی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بعض دیگر حلقوں نے پاکستان اور حریت کانفرنس سے مسلح تشدد کے بارے میں پالیسی تبدیل کرنے کی اپیل کی ہے۔

تجارت پیشہ شاعر بشیر بیتاب کہتے ہیں 'جب بھارتی فوج کا سپہ سالار خود کہتا ہے کہ مسلح لڑکوں کے ساتھ لڑنے میں فوج کو مزہ آتا ہے، اور عسکریت پسندی کو ہینڈل کرنا زیادہ آسان ہے تو ظاہر ہے کہ عسکریت پسندی بھارتی فوج کے لیے مفید ہے، تحریک کے لیے نہیں۔ حریت اور پاکستان کو جنرل راوت کی بات کا نوٹس لینا چاہیے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں