کابل کے سفارتی علاقے میں بم دھماکے میں 80 افراد ہلاک، 300 سے زیادہ زخمی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
بم دھماکے کی شدت سے کئی سو میٹر کے فاصلے پر واقع گھروں کو بھی نقصان پہنچا

افغان حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل میں غیر ملکی سفارتخانوں اور صدارتی محل کے قریب ہونے والے ایک دھماکے میں 80 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

افغان حکام کے مطابق یہ دھماکہ بدھ کی صبح آٹھ بج کی بیس منٹ پر وزیر اکبر خان نامی علاقے میں ہوا جسے شہر کا سفارتی علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

افغانستان: رمضان کے پہلے دن خود کش حملہ، 13 ہلاک

کابل میں دھماکے کے بعد کے مناظر

بتایا جا رہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کسی ٹرک یا پانی کے ٹینکر میں لایا گیا تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ شہر کے سب سے محفوظ سمجھے جانے والے علاقے میں یہ گاڑی کیسے پہنچی۔

ہلاک ہونے والوں میں بی بی سی کی افغان سروس کے لیے بطور ڈرائیور کام کرنے والے محمد نذیر بھی شامل ہیں۔ محمد نذیر گذشتہ چار سالوں سے بی بی سی کے ساتھ منسلک تھے۔

اس دھماکے میں بی بی سی کے لیے کام کرنے والے چار صحافی زخمی بھی ہوئے ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

افغان وزارتِ صحت کے اہلکار اسماعیل کاؤسی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دھماکے میں اب تک 80 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور اس میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ زخمیوں کی تعداد 300 سے زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ہسپتال ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔

ذمبیق سکوائر میں ہونے والے اس بم دھماکے کی شدت سے کئی سو میٹر کے فاصلے پر واقع گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق اس واقعے میں کچھ پاکستانی سفارتکاروں اور سفارتخانے کے عملے کی رہائش گاہیں بھی متاثر ہوئی ہیں اور ان میں سے کچھ معمولی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

کابل کے ایک دکان دار سید رحمان نے خبر رساں ادارے روئٹر کو بتایا ’یہ بہت زور دار دھماکہ تھا، ہماری دکان مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔ ہمارے عملے کا ایک شحض زخمی ہوا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسا خوفناک دھماکہ نہیں دیکھا۔‘

ایک اور رہائشی عبدالودود نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دھماکہ ایک شدید زلزلے کی طرح تھا۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار ہارون نجفی زادہ کے مطابق دھماکے کے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ پولیس اور فوجی اہلکاروں نے جائے وقوعہ کے گرد حصار قائم کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

کابل پولیس کے ترجمان بصیر مجاہد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’بم حملہ جرمنی کے سفارتخانے کے قریب ہوا لیکن اس علاقے میں کئی دوسری اہم عمارتیں اور دفاتر ہیں۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ حملہ آور کا ہدف کیا تھا۔‘

تاحال کسی گروہ نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم گذشتہ ماہ ہی طالبان نے اپنے موسمِ بہار کے حملوں کا اعلان کیا تھا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا نشانہ غیر ملکی افواج ہوں گی۔

محمد نذیر

بی بی سی ورلڈ سروس ڈائریکٹر فرانسِسکا انسورتھ : بی بی سی کو انتہائی افسوس کے ساتھ اس بات کی تصدیق کرنا پڑ رہی ہے کہ بی بی سی کے افغان ڈرائیور محمد نذیر اپنی ساتھی صحافیوں کو آفس لے جاتے ہوئے کابل میں ہونے والے کار بم حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

محمد نذیر گذشتہ چار سال سے زائد عرصے سے بی بی سی کے ساتھ منسلک تھے۔ان کی عمر 35 سے 40 سال کے درمیان تھی۔ یہ بی بی سی اور محمد نذیر کی فیملی اور دوستوں کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

ٹونی ہال، ڈائریکٹر جنرل: ہمارے بہت سے سٹاف کے ارکان دنیا بھر کے خطرناک علاقوں سے رپورٹ کرنے کے لیے پر خطر حالات میں کام کرتے ہیں۔ یہ ان کی بہادری کا ثبوت ہے کہ ہم بااعتماد اور غیر جانبدار کوریج کرتے ہیں، لیکن اس قسم کے واقعات ہم سب کے لیے بہت دردناک ہیں۔ ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں محمد نذیر کے رشتہ داروں اور ان کے بہت سے دوستوں کے ساتھ ہیں۔

پاکستان اور انڈیا کی مذمت

پاکستان اور انڈیا کی جانب سے کابل دھماکہ کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے بیان میں دھماکے مذمت کرتے ہوئے افغان حکومت اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان چونکہ خود دہشت گردی کا شکار ہے اس لیے وہ اس درد سمجھ سکتا ہے۔

انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے بھی سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا۔

سماجی رابطے کی سائٹ فیس بک نے کابل میں موجود صارفین کے لیے ’آئی ایم سیف‘ یعنی ’میں محفوظ ہوں‘ کے نام سے فیچر جاری کر دیا ہے تاکہ وہاں موجود لوگ اپنے احباب کو اس دھماکے میں محفوظ رہنے کے بارے میں مطلع کر سکیں۔

خیال رہے کہ حالیہ چند ماہ میں کابل سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں بڑے حملے ہوئے ہیں جو ملک کی خراب ہوتی ہوئی سکیورٹی کی صورتحال ظاہر کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک اور رہائشی عبدالودود نے بی بی سی کو بتایا کہ 'دھماکہ ایک شدید زلزلے کی طرح تھا۔'

کابل میں ہونے والے حالیہ بڑے حملے

  • آٹھ مارچ 2017- سردار داؤد خان ملٹری ہسپتال میں حملہ آور ڈاکٹروں کے حلیے میں عمارت میں داخل ہوئے جس کے نتیجے یں 30 سے زائد افراد مارے گئے
  • 21 نومبر 2016- باقر العلوم مسجد میں شیعہ مسلمانوں کی ایک تقریب کے دوران ہونے والے خود کش حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوئے تھے
  • 23 جولائی 2016- شیعہ ہزارہ اقلیت کی ریلی میں دو دھماکے ہوئے جس میں 80 کے قریب افراد مارے گئے تھے
  • 19 اپریل 2016- افغان وزارت دفاع کی عمارت کے قریب ایک بڑا دھماکہ ہوا جس میں 28 افراد ہلاک ہوئے
  • یکم فروری 2016- پولیس ہیڈکوارٹر میں ایک خود کش حملہ ہوا اور 20 افراد مارے گئے
  • سات اگست 2015- کم از کم 35 افراد دارالحکومت میں ہونے والے مختلف بم دھماکوں میں مارے گئے

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں