یوگی آدتیہ ناتھ کے ایودھیا جانے پر سوال

یوگی آدتیہ ناتھ تصویر کے کاپی رائٹ Manoj singh
Image caption بی جے پی کے بڑے رہنما جانتے ہیں کہ وزیراعلیٰ یوگی کی ایودھیا یاترا سے رام جنم بھومی کی تحریک پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں

انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مسمار شدہ بابری مسجد کے مقام پر تعمیر متنازع رام مندر میں پوجا تو کی لیکن اس کا مقصد ہندوتوا اور رام مندر کے تئیں اپنی وفاداری کا ڈنگا بجانا نہیں تھا۔

ہندوتوا کے انتہا پسند نظریے پر عمل کرنے والوں کو اپنے عزم کا پیغام دینے کے لیے انہیں ایسا کوئی علامتی کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

٭ سختگیر رہنما یوگی آدتیہ ناتھ یو پی کے وزیر اعلی

٭ اترپردیش کا مسلمان اتنا پریشان کیوں؟

تو پھر وہ لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اما بھارتی جیسے بی جے پی کے سینیئر رہنماؤں کے خلاف بابری مسجد کی مسماری سے متعلق کیس میں مجرمانہ سازش کی فرد جرم عائد کیے جانے کے صرف ایک دن بعد ایودھیا کیوں گئے؟

یہ دراصل ہندوتوا کے کڑھائی کو کبھی دھیمی تو کبھی تیز آنچ پر ابالتے رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

جب وہ پہلے رام مندر اور پھر ایودھیا سے گزرنے والی سریو ندی کے گھاٹ پر پوجا کر رہے تھے تو ایک طرح سے وہ اسی سیاسی پیغام کو دہرا رہے تھے جو بھارتیہ جنتا پارٹی نے اتر پردیش کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں ریاست کے مسلمانوں کو دیا تھا: 'نہ ہم مسلمان کو ٹکٹ دیں گے اور نہ ہمیں ان کے ووٹ کی ضرورت ہے۔'

بی جے پی کے بڑے رہنما جانتے ہیں کہ بحیثیت وزیراعلیٰ یوگی کی ایودھیا یاترا سے رام جنم بھومی کی تحریک پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ہے۔

بی جے پی لگاتار کہتی رہی ہے کہ اس مسئلے کو باہمی مذاکرات یا عدالت کے ذریعہ ہی حل کیا جائے گا۔

Image caption بابری مسجد کو چھ دسمبر سنہ 1992 میں سخت گیر ہندؤں نے منہدم کر دیا تھا

لیکن ہندوتوا کی بھٹی کی آگ کو لگاتار سلگائے رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ رام جنم بھومی کا مسئلہ سرخیوں میں رہے تاکہ لوگ اسے بھول نہ جائیں اور اسے ہندوؤں کے حقوق کی لڑائی سے جوڑا جا سکے۔ اس آگ کو جلائے رکھنے کے لیے آر ایس ایس یا اس سے وابستہ اداروں سے وابستہ درجنوں لوگ اور تنظیمیں اپنی حیثیت اور طاقت کے مطابق کبھی گائے تو کبھی انڈین فوج، جواہر لال نہرو یونیورسٹی، لو جہاد، اینٹی رومیو سکواڈ یا گھر واپسی جیسے معاملات اٹھاتے رہتے ہیں۔

اس طرح ہندوتوا کی کڑھائی کو سنگھ پریوار نے گذشتہ تین برسوں سے تیز آنچ پر رکھا ہے کیونکہ اسے حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ ان تین برسوں میں دلی کے قریب دادری میں ایک مسلمان کو صرف اس افواہ کی بنیاد پر مار دیا گیا کہ اس کے گھر میں گائے کا گوشت تھا اور جب ملزمان میں سے ایک کی بیماری کی وجہ سے جیل میں موت ہوگئی تو اس کی لاش کو قومی پرچم میں لپیٹ کر ’شہید‘ کا درجہ دیا گیا۔

انہیں تین برسوں میں سوامی اسیم آنند اور سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر جسیے کئی ایسے لوگ بھی ضمانت حاصل کر کے جیل سے باہر آ گئے جنھیں دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسیم آنند کو مکہ مسجد، اجمیر شریف اور سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکے کرنے کے الزام کا سامنا ہے۔ ان واقعات میں درجنوں لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ قومی تفتیشی بیورو یا این آئی اے کا کہنا ہے کہ اسیم آنند کی ضمانت کو وہ اعلیٰ عدالت میں چیلنج نہیں کرے گی۔

Image caption اترپردیش کے مسلمانوں میں ایک قسم کی بے چینی اور خوف و ہراس کا احساس پیدا ہوا ہے

ان واقعات سے ہندوتوا کے 'فٹ سولجرز' کو یہ پیغام ملتا ہے کہ قانون توڑنے پر اگر وہ پولیس اور عدالت کے چکر میں پھنس بھی گئے تو آخرکار انہیں بچا لیا جائے گا۔

خود وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر 2007 میں مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام ہے لیکن ان کے خلاف مقدمہ ریاستی حکومت کی اجازت کے بغیر نہیں چل سکتا۔ وہ خود وزیراعلیٰ ہیں لہٰذا ظاہر ہے کہ ریاستی حکومت نے اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

لیکن اس سے پہلے بھی کئی دہائیوں سے یہ آنچ خاموشی سے جل رہی تھی۔ سنگھ پریوار کی کامیابی یہ ہے کہ اس نے ہندوتوا کے نظریے اور ہندو مذہب کے فرق کو پوری طرح بھلے ہی ختم نہ کیا ہو لیکن عام لوگوں کی نظروں میں دھندلا ضرور کر دیا ہے۔ ایسے میں یوگی آدتیہ ناتھ کے ایودھیا جانے پر سوال اٹھیں بھی تو اٹھتے رہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں