گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے: راجستھان ہائی کورٹ

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا میں ہندؤں کا ایک حلقہ گائے کو مقدس مانتا ہے

انڈیا کی مغربی ریاست راجستھان کی ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے سفارش کی ہے کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے۔

انڈیا میں ہندوؤں کا ایک حلقہ گائے کو مقدس مانتا ہے اور ملک کی زیادہ تر ریاستوں میں گاؤ کشی پر پابندی ہے۔

راجستھان میں فی الحال گاؤ کشی کے لیے زیادہ سے زیادہ دس سال کی سزا کی گنجائش ہے تاہم جے پور کی ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ گاؤ کشی کی سزا عمر قید کر دی جانی چاہیے۔

واضح رہے کہ گاؤ کشی کے سلسلے میں ہر ریاست میں الگ الگ قانون ہے کیونکہ یہ معاملہ ریاستوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

عدالت گذشتہ برس گائیوں کے لیے حکومت کے زیرانتظام چلائے جانے والے ایک مرکز میں پانچ سو گائیوں کی موت سے متعلق پٹیشن کی سماعت کر رہی تھی۔

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق یہ سفارش اپنے فیصلے میں شامل کرنے والے جج مہیش چند شرما بدھ کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔

چند ہفتے قبل راجستھان میں گائے کا تحفظ کرنے والے ہندو ’گاؤ رکشکوں‘ نے پہلو خان نامی ایک مسلمان شخص کو ہلاک کردیا تھا۔

یہ شخص مویشی منڈی سے گائے خرید کر لے جارہا تھا اور اس کے پاس تمام کاغذات بھی موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وفاقی حکومت نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا جس کے تحت اب صرف کھیتی باڑی سے متعلق کام کے لیے ہی جانور خریدے جاسکیں گے

گذشتہ ہفتے وفاقی حکومت نے ایک نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا تھا جس کے تحت مویشیوں کی منڈیوں سے اب صرف کھیتی باڑی سے متعلق کام کے لیے ہی جانور خریدے جاسکیں گے، ذبیحے کے لیے نہیں۔

اس نئے قانون کے خلاف کیرالہ اور مغربی بنگال سمیت کئی ریاستوں میں سخت مزاحمت ہوئی ہے۔

تمل ناڈو کی ہائی کورٹ نے ریاست میں اس فیصلے کے اطلاق پر چار ہفتے کے لیے پابندی لگادی ہے جبکہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس پر عمل نہیں کریں گی۔

ذبیحہ خانے چلانے والوں کا کہنا ہے کہ اس قانون سے گوشت کی صنعت تباہ ہو جائے گی کیونکہ ذبیحے کے لیے زیادہ تر جانور مقامی منڈیوں سے ہی خریدے جاتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں