unseenkashmir#: کشمیر کی کہانی، سی آر پی ایف کی زبانی

کشمیر

سکیورٹی فورسز کے بھی انسانی حقوق ہیں اور یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ان کی کتنی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ایسے ہی حالات کشمیر کے بھی ہیں جہاں تعینات انڈین سیکورٹی فورسز کو کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ انہی کی تفصیل بی بی سی کو بتائی ڈی آئی جی، سی آر پی ایف سنجے کمار نے۔

یہاں کم جگہ میں زیادہ لوگوں کو رہنا پڑتا ہے۔ عام آدمی کے آٹھ گھنٹوں کے مقابلے ہمارے جوان 12 سے 16 گھنٹے کام کرتے ہیں۔

ہمیشہ ایمر جنسی نافذ رہتی ہے جس کی وجہ سے بنیادی سہولیات کو بھی بھولنا پڑتا ہے۔

* ’انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں شادی نہ کریں‘

* 'ایک بیٹی انڈین ہے تو ایک پاکستانی،یہی ان کی تقدیر ہے'

* ’میں اپنے دوستوں کو اب کبھی نہیں دیکھ سکوں گا‘

ڈیوٹی کے وقت ان پر پتھر چلائے جاتے ہیں۔ یہ غیر انسانی ہے۔ ان پر حملہ کیا جاتا ہے، انہیں اکسایا جاتا ہے، مجبورا انہیں کئی بار ہتھیار اٹھانا پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس طرح اكسانا بھی غیر انسانی ہے۔ ابھی تک ایسے کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

بلکہ اس کے برعکس ایک ویڈیو دیکھیں جو ٹی وی اور سوشل میڈیا میں چل رہی ہے جس میں سی آر پی ایف کے چھ لوگ انتخابی ڈیوٹی کے لیے جا رہے ہیں، ان پر سنگ باری کی گئی، حملہ کیا گیا ہے۔

یہ کس کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے؟ جس پر حملہ کیا جا رہا ہے وہ ایک مسلح آدمی ہے پھر بھی وہ برداشت کیے جا رہا ہے۔ ورنہ وہ ہتھیار استعمال کر سکتا تھا۔ پر وہ خاموشی بڑھتا جاتا ہے۔

دنیا کی کوئی اور سیکورٹی فورس ہوتی تو اس طرح کی بدتمیزی برداشت نہیں کرتی جیسے سی آر پی ایف کے ان جوانوں نے کی۔ یہ اسی علاقے میں ہوتا ہے۔ پھر بھی سیکورٹی فورسز کو غیر انسانی بتایا جاتا ہے۔

ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ کشمیری لوگ ہمارے خلاف نہیں ہیں۔ بلکہ ہم ان کے لیے ان کے ساتھ ہیں۔

پتھراؤ کرنے والے عام کشمیری نہیں ہیں۔ ان لوگوں کے اپنے ذاتی مفاد ہیں جو یہ راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ بھی ہو سکتا ہے اور یہ بہت منظم انداز میں کام کرتے ہیں۔

ان مشکل حالات کی وجہ سے ہم اپنے خاندان کو ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ خاندان کے بغیر رہنا بھی ایک مسئلہ ہے۔

لیکن بچوں اور خاندان کی اپنی ضرورتیں ہوتی ہیں۔ ان اسکول چاہیے، بغیر روک ٹوک کے گھومنے پھرنے کی آزادی کی خواہش ہوتی ہے۔

یہاں رہنے والے بچوں کو بہت مشکل ہوتی ہے۔ چار چار ماہ اسکول بند رہتا ہے۔ دو تین ماہ برف کی وجہ سے چھٹیاں ہوتی ہیں۔

اس لیے ہمیں مجبوراً اپنے خاندانوں کو امن والے علاقوں میں رکھنا پڑتا ہے۔ جہاں تصادم والے حالات نہیں ہیں اور بچے اسکول جا سکتے ہیں۔ ہسپتال اور بازار جا سکتے ہیں۔

یہاں ہمارے پاس طاقت تو ہے لیکن ہم خود تنہا ہیں۔

(یہ تحریر ڈی آئی جی، سی آر پی ایف سنجے کمار کی بی بی سی ہندی کی دیویا آریہ اور ماجد جہانگیر سے بات چیت کی بنیاد پر لکھی گئی ہے)

اسی بارے میں