کشمیریوں کے دل و دماغ جیتنے کے لیے بات چیت ضروری ہے: منی شنکر ایئر

منی شنکر ائیر
Image caption منی شنکر ائیر نے کہا کہ کشمیری رہنما آزادی چاہتے ہیں لیکن یہ واضح نہیں کرتے کہ ان کے لیے 'آزادی' کا مطلب کیا ہے

انڈیا میں کانگریس پارٹی کے سینیئر لیڈر منی شنکر ائیر کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں سے بات چیت کے بعد اگر ملک کے آئین میں ترمیم کرنے کی ضرورت بھی پیش آئے تو اس پر غور کیا جانا چاہیے۔

منی شنکر ائیر حال ہی میں ایک وفد کے ساتھ انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کا دورہ کر کے دہلی واپس آئے ہیں۔ اپنے اس دورے میں انھوں نے حریت کانفرنس سمیت مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کے نمائندوں سے مذاکرات کیے۔

منی شنکر ائیر کے ساتھ بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو دیکھیں

کشمیر کی ان سنی کہانیاں: بی بی سی کی خصوصی سیریز

جمعرات کو بی بی سی اردو کے فیس بک لائیو میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئین میں ملک کی 11 ریاستوں کو خصوصی اختیارات یا مراعات دی گئی ہیں اور 'جب آپ 11 ریاستوں کے لیے خصوصی انتظام کر سکتے ہیں تو کشمیریوں سے بات کر کے، اس کے بعد کسی نتیجے پر پہنچ کر اگر ضرورت پڑے کہ ہم اپنے آئین میں ترمیم کریں تو اس پر سوچیں گے۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ' کشمیر میں شورش کو کچلنے کے لیے فوج بھیجی جا سکتی ہے لیکن وہاں لوگوں کے دل و دماغ جیتنے کے لیے آپس میں بات چیت کرنا ضروری ہے اور اگر بات چیت کی راہ میں آپ نے ایک قدم بھی اٹھایا تو شاید بھاگے بھاگے بہت سے لوگ آپ کے پاس آئیں گے۔'

منی شنکر ائیر نے کہا کہ کشمیری رہنما آزادی چاہتے ہیں لیکن یہ واضح نہیں کرتے کہ ان کے لیے 'آزادی' کا مطلب کیا ہے۔

'2001 میں جموں کشمیر اسمبلی نے (خِودمختاری کے بارے میں) اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کی تھی۔۔۔۔اور (1995 میں) میں نے خود وزیراعظم نرسمہا راؤ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ جہاں تک خود مختاری کا سوال ہے، سکائی از دی لمٹ (ہم کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں) لیکن پہلے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی حکومت نےاور پھر دس برسوں تک ہماری سرکار نے اس قرارداد کو نظر انداز کیا۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'موجودہ حکومت بھی کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہی ہے علاوہ اس کے کہ وہاں اور زیادہ فوج بھیجو اور کشمیریوں کی آواز بند کرو۔'

انڈیا میں حکومتوں کا دیرینہ موقف یہ رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ انڈیا کے آئین کے دائرے میں رہ کر ہی حل کیا جا سکتا ہے لیکن ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ اگر کشمیری زیادہ خود مختاری چاہتے ہیں تو یہ کوئی بے جا مطالبہ نہیں ہے۔

Image caption انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ برس جولائی میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے شورش کا سلسلہ جاری ہے

کانگریس کے سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم بھی کہہ چکے ہیں کہ انڈیا سے الحاق کے وقت کشمیریوں سے جو وعدے کیے گئے تھے، وہ پورے کیے جانے چاہییں۔

منی شکنر ائیر سے پہلے بی جے پی کے سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا بھی ایک وفد کے ساتھ کشمیر گئے تھے اور انہوں نے بھی مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے چند روز قبل کہا تھا کہ حکومت کشمیر کے مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرے گی لیکن انھوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ اس کا طریقۂ کار کیا ہوگا۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ برس جولائی میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے شورش کا سلسلہ جاری ہے۔

کشمیر میں گذشتہ ماہ فوج کے ایک میجر کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں وہ ایک مقامی نوجوان کو جیپ کے بونٹ سے باندھ کر 'انسانی ڈھال' کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

اس واقعے کے بعد وادی میں حالات اور کشیدہ ہوئے ہیں لیکن حکومت اور فوج نے میجر کے فیصلے کی ستائش کی ہے۔

متعلقہ عنوانات