مہاراشٹر کے کسانوں کی ہڑتال اور احتجاج

کسانوں کا احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ ASHWIN AGHOR
Image caption کسانوں نے اشیا فراہم کرنے والوں کو نشانہ بنایا ہے

انڈيا کی ریاست مہاراشٹر میں کاشت کاروں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے ہڑتال شروع کی تھی اور اب وہ احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔

ہڑتال کا آغاز جمعرات کی صبح سے ہوا تھا اور اب کسانوں نے زراعت سے منسلک مصنوعات کو لے جانے والی گاڑیوں کا پہیہ جام کرنا شروع کردیا ہے۔

مقامی صحافی سمر کھڑس نے موجودہ صورت حال کے بارے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ابھی تک تو حالات قابو میں ہیں لیکن اگر حکومت نے وقت پر مناسب اقدامات نہیں کیے تو مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تحریک کو کئی ریاستی کسان تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ ان کی پیداوار کی بہترین قیمت ملے اور ان کے قرض معاف کیے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کسانوں کا مطالبہ ہے کہ ان کی پیداوار کی بہترین قیمت ملے اور ان کے قرض معاف کیے جائیں

سبزیاں، پھل، دودھ، پولٹری سے منسلک اشیا اور گوشت لے کر ممبئی، پونے، ناسک اور اورنگ آباد جانے والی گاڑیوں کو کسانوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سمر کھڑس کے مطابق ان ٹرینوں کے ساتھ توڑ پھوڑ کرنے کی بھی خبریں ہیں جو ضروری اشیا فراہم کرتی ہیں۔

ناسک سے ممبئی اور تھانے میں ضروری اشیا کی فراہمی وسیع پیمانے پر ہوتی ہے۔ لیکن یہاں کے کسان 800 کلومیٹر سے زیادہ طویل ممبئی ناگ پور کے درمیان راہداری کے لیے کاشت کاروں کی زمین حاصل کرنے کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق اگر یہ تحریک طول پکڑتی ہے تو ظاہر ہے مسئلہ شدت اختیار کر جائے گا اور اس کا اثر دہلی تک محسوس ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

كھڑس کا کہنا ہے: 'ممبئی بین الاقوامی کاروبار کا گڑھ ہے۔ ریاست اور مرکز دونوں میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ تو اگر یہ تحریک طول پکڑتی ہے تو اس کی آواز دہلی تک گونجے گی۔'

’مون سون اچھا ہوتا ہے تو فصل اچھی ہوتی ہے۔ لیکن فصل اچھی ہوئی تو قیمت بھی اچھی ملنی چاہیے تاہم کسانوں کو قیمت اچھی نہیں ملتی ہے۔ ‘

ارہر اور سویابین کے معاملے میں کسانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ سبزیوں کے معاملے میں تو کسان بری طرح پریشان ہیں اور ٹماٹر تو کوڑیوں کے دام بک رہے ہیں۔

مہاراشٹر پیاز کی پیداوار کے معاملے میں اوّل نمبر ہے۔ ناشك ضلع میں سب سے زیادہ پیاز پیدا ہوتا ہے جہاں پیاز چار روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ ایسی صورت حال سے کسان ناراض ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption مہاراشٹر پیاز کی پیداوار کے معاملے میں اوّل نمبر ہے

سمر کھڑس کے مطابق آزاد ہندوستان کا یہ پہلا موقع ہے جب کسانوں نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

کسان اس کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ کسانوں کی جتنی لاگت لگتی ہے اس سے 50 فیصد زیادہ قیمت انھیں ملنی چاہیے۔

کسان اپنے قرضوں کی معافی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ اگر حکومت ان مطالبات کو تسلیم کر لیتی ہے تو کسان اپنی اس تحریک سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔

سمر کھڑس کے مطابق ریاستی حکومت اپنے کسانوں کو نظر انداز کر رہی ہے اور حکومت کو چاہیے کہ یا تو وہ آزاد بازار کی پوزیشن کو قبول کرے یا پھر اسے کنٹرول بازار کے راستے پر چلنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ زرعی معاشیات سے متعلق اس حکومت کی سوچ اور سمجھ بہت ہی سطحی نوعیت کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں