یہ دل مانگے مور!

مور تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جب سے راجستھان ہائی کورٹ کے ایک جج نے یہ انکشاف کیا ہے کہ مور کبھی سیکس نہیں کرتے، ذہن میں طرح طرح کے سوال اٹھ رہے ہیں۔

ایسا تو نہیں کہ جج مہیش چندر شرما کسی ایک خاص مور کی بات کر رہے ہوں جس نے برہم چاریہ' (یا صنف نازک سے دور رہنے) کی قسم کھا رکھی ہو؟ یا وہ کسی اچھے گھر کا مور ہو جسے اس کے ماں باپ نے سکھایا ہو کہ شادی سے پہلے سیکس سے دور ہی رہنا چاہیے۔

مور کبھی سیکس نہیں کرتا: انڈین جج

گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے: راجستھان ہائی کورٹ

یا پھر وہ ہم جنس پرست ہو اس لیے مورنی سے دور رہتا ہو؟ یا پہلے وہ زندگی میں کچھ کرنا چاہتا ہو، اپنے پیروں پر کھڑے ہونا چاہتا ہو، اپنے خوبصورت پر کھول کر بس ناچنا چاہتا ہو اور شادی شدہ زندگی کی کمٹمنٹ یا ذمہ داریوں کے لیے ابھی ذہنی طور پر تیار نہ ہو؟

لیکن تصویر کا ایک رخ اور بھی ہو سکتا ہے، بس دیکھنے والا چاہیے۔

یہ ایک' پیٹری آرکل' معاشرہ ہے، یہاں ہر شعبۂ زندگی میں مردوں کو ہی فوقیت حاصل ہے، خواتین کی بات کم ہی سنی جاتی ہے۔ ایسا تو نہیں کہ جج مہیش چندر شرما کی معلومات پوری طرح درست نہ ہوں اور انکار مور نہیں مورنی کر رہی ہو؟ اسے مور پسند ہی نہ ہو اور محبت میں ناکامی کی وجہ سے مور کی آنکھوں میں آنسو آتے ہوں؟ اور کسی نرم دل لڑکی کی طرح وہ صرف ہمدردی میں مور کے آنسو صاف کر رہی ہو اور جج صاحب نے بس یہ سوچ لیا ہو کہ آنسو پی کر وہ ماں بننے کی کوشش کر رہی ہے؟

پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مور من چلا ہو، رومیو ٹائپ، سر پر کفن باندھ کر لو جہاد کے لیے نکلا ہو اور اس کا دل اپنی ہی نسل کی کسی اچھے گھر کی مورنی پر آنے کے بجائے کسی اور پر آ گیا ہو۔ انڈیا کے جنگلات میں قدرتی حسن کی کمی نہیں اور دل پر کب کس کا بس چلا ہے۔

بہرحال، بے چارے مور کی سیکس لائف تو بلا وجہ بحث کا محور بن گئی ہے، مور اپنی نجی زندگی میں کیا کر رہا ہے اس بات سے کسی کا کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ کیوں اس کے آنسوؤں کا اتنی باریک بینی سے پوسٹ مارٹ کیا جا رہا ہے؟ اصل سوال تو یہ ہے کہ جج صاحب کی سفارش کے مطابق کیا گائے کو قومی جانور بنایا جاسکتا ہے یا نہیں؟

ان کے یہ کہنے سے کہ سیکس نہ کرنے کی وجہ سے ہی مور انڈیا کا قومی پرندا ہے، یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا سیکس کوئی معیوب یا گندی بات ہے جس سے دور رہنا اچھے کردار کی نشانی ہے؟

اگر ایسا ہے تو قومی جانور کے تخت و تاج کے لیے گائے اور شیر دونوں ہی کوالیفائی نہیں کرتے!

اور ممکن ہو تو دو 'نارمل' آنسو زرا شیر کے لیے بھی بہا لیجیے۔ شیر کی کیا خطا ہے، جنگل سے اس کی حکومت کا تختہ پلٹنے کی یہ سازش کیوں رچائی جا ر ہی ہے؟ اب ہریانہ کےایک وزیر نے بھی جج صاجب کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔

گائے کے لیے پہلے ہی حکومت اتنا کچھ کر رہی ہے کہ شیر احساسِ کم تری کا شکار ہوں گے۔ گائیوں کے لیے جنگل میں محفوظ پناہ گاہیں بنانے کی تجویز ہے، انھیں شناختی کارڈ جاری کیے جا رہے ہیں، انھیں مارنے پر آپ کو باقی عمر جیل میں گزارنا پڑ سکتی ہے، اتر پردیش میں ان کے لیےایک ایمبولنس سروس شروع کی گئی ہے اور شیر بے چارے بیماری میں صرف جنگلی جڑی بوٹیوں سے ہی کام چلا رہے ہیں۔

انھیں ہٹانا ہی ہے تو ان کے لیے کم سے کم ایک ریٹائرمنٹ پنشن سکیم تو شروع کرنی ہی چاہیے۔ جن لوگوں سے اچانک اقتدار چھن جاتا ہے ان کا حال ہم نے دیکھا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں