کشمیر میں فوجی قافلے پر مسلح حملہ

فوجی کانوائے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حملے کے بعد سری نگر جموں شاہراہ کو بند کر دیا گيا

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سنیچر کی صبح قاضی گنڈ علاقے میں مسلح شدت پسندوں نے انڈین فوج کے ایک کانوائے پر گھات لگا کر حملہ کیا جس کے نتیجے میں چھہ فوجی شدید زخمی ہو گئے۔

سرکاری ذرایع کے مطابق ان میں سے ایک فوجی اہلکار کی موت ہو گئی ہے تاہم فوجی ترجمان کرنل راجیش کالیا نے بتایا: 'چھہ فوجی زخمی ہیں جن میں ایک کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔'

کشمیر:فوجی کیمپ پر حملے میں تین انڈین فوجی ہلاک

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوجی کیمپ پر حملہ

حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی مسلح گروپ نے قبول نہیں کی ہے تاہم فوج اور پولیس نے علاقے کا محاصرہ کرکے سرینگر۔ جموں شاہراہ پر ٹریفک معطل کردیا ہے۔

یہ حملہ سرینگر سے جنوب کی جانب 60 کلومیٹر دُور 'لور منڈا' کسٹم چیک پوائنٹ کے قریب ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب رہے تاہم ان کی تلاش جاری ہے۔

فوج پر یہ مسلح حملہ سرینگر میں انڈین فوجی کمانڈروں کی کانفرنس کے دو روز بعد ہوا ہے۔ اس کانفرنس کی صدارت فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے کی تھی۔

کانفرنس کے دوران ایل او سی اور کشمیر کے اندرونی علاقوں میں مسلح شدت پسندوں کی بڑھتی سرگرمیوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی مرتب کی گئی۔ اس دوران ایسے 12 مسلح کمانڈروں کی فہرست جاری کی گئی ہے جو حزب المجاہدین یا لشکر طیبہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کو بتایا گیا 'اس گرما کے دوران ان سب کے خلاف کارروائی کی جائے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سبزار بٹ کی موت کے بعد وادی میں کرفیو کی سی صورت حال ہے

واضح رہے کہ 27 مئی کو جنوبی کشمیر کے ترال قصبہ میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر اور گذشتہ برس مارے گئے عسکریت پسند برہان وانی کے ساتھی سبزار بٹ کو اپنے ساتھی فیضان کے ہمراہ ایک جھڑپ کے دوران ہلاک کیا گیا تو وادی میں حالات مزید کشیدہ ہوگئے۔

ایک ہفتے بعد کرفیو اور ہڑتالوں کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے جبکہ انٹرنیٹ اور فون کی سہولیات پر عائد پابندی ختم کردی گئی ہے تاہم مظاہروں کے خدشے سے ہائرسینکڈری سکول اور کالج بند کیے گئے ہیں۔

حکومت ہند باربار یہ اصرار کرتی ہے کہ پاکستان سوشل میڈیا کے ذریعہ لوگوں کو مشتعل کررہا ہے اور غیرقانونی چینیلز سے علیحدگی پسندوں کو بھاری رقومات بھیجی جارہی ہیں۔

اس سلسلے میں پہلے ہی حکومت ہند کے مشترکہ تفتیشی ادارہ نیشنل انوسٹگیشن ایجنسی یا این آئی اے نے تین حریت رہنماوں سے نئی دلی میں پوچھ گچھ کی ہے۔

این آئی اے کے اہلکاروں نے سنیچرکو بھی سرینگر اور اطراف میں متعدد حریت رہنماوں اور تاجروں کے گھروں میں چھاپے مارے۔

انڈین نیوز چینل انڈیا ٹوڈے نے ایک 'سٹنگ آپریشن' کے دوران بعض علیحدگی پسند رہنماوں سے کیمرے پر یہ اعتراف کروا لیا تھ اکہ انھیں پاکستان اور حافظ سعید کی جانب سے بھاری رقومات ملتی ہیں جنھیں کشمیر میں افراتفری پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

حریت کانفرنس کا کہنا ہے کہ حکومت ہند علیحدگی پسند رہنماوں کی کردار کشی کرکے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں