کشمیر: انڈین فوج کا جھڑپ میں چار 'شدت پسندوں' کی ہلاکت کا دعوی

انڈین فوجی تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption گذشتہ ایک ہفتے میں اب تک ایک درجن سے زیادہ شدت پسند مختلف آپریشنوں میں مارے جا چکے ہیں

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں فوج نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ایک حملے کو ناکام بناتے ہوئے چار غیرکشمیری شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے، ان ہلاکتوں کے بعد بانڈی پورہ میں مظاہرے ہوئے ہیں۔

انڈین فوج نے دعوی کیا ہے کہ پیر کی صبح کشمیر کے شمالی ضلع بانڈی پورہ میں فورسز پر خود کش حملہ کرنے والے چار مسلح شدت پسندوں کو مختصر جھڑپ کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔

مارے جانے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ تاہم پولیس اور فوج کا دعوی ہے کہ چاروں پاکستانی شدت پسند ہیں۔

تاہم پاکستان کا اس دعوے پر تاحال کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

٭ کشمیر میں فوجی قافلے پر مسلح حملہ

٭ کشمیر میں 'گندی جنگ' پر بحث

ان ہلاکتوں کے بعد بانڈی پورہ کے نائد کھائے، سُنبل اور حاجن علاقوں میں لوگوں نے حکومت مخالف مظاہرے کیے۔ اس سے قبل ہفتے کو جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ علاقے میں حزب المجاہدین کے حملہ آوروں نے فوجی قافلے پر فائرنگ کی تھی جس میں دو فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے تھے۔

27 مئی کو حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر سبزار احمد اور اس کے ساتھی فیضان کی ہلاکت کے بعد سے اب تک ایک درجن سے زیادہ شدت پسند مختلف آپریشنوں میں مارے جا چکے ہیں۔

واضح رہے سبزار کی ہلاکت کے بعد کئی روز تک وادی میں کرفیو اور ہڑتال رہی جبکہ اس دوران جگہ جگہ لوگوں نے مظاہرے کیے۔ مظاہرین کےخلاف فورسز کی کاروائیوں میں ایک نوجوان مارا گیا جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کشمیر میں سبزار بٹ کی ہلاکت کے بعد متعدد مقامات پر انڈین سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم کے واقعات پیش آئے ہیں

سنیچر کو سرینگر میں واقع فوجی ہیڈکوارٹر پر ایک اہم کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے کی تھی۔ کانفرنس کے دوران ایل او سی اور کشمیر کے اندرونی علاقوں میں مسلح شدت پسندوں کی بڑھتی سرگرمیوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی مرتب کی گئی۔ اس دوران ایسے 12 مسلح کمانڈروں کی فہرست جاری کی گئی جن کے بارے میں حزب المجاہدین یا لشکر طیبہ کے ساتھ وابستگی کا دعوی کیا گيا۔ فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کو بتایا گیا کہ 'اس گرما کے دوران ان سب کے خلاف کاروائی کی جائے۔'

انڈین حکومت باربار یہ اصرار کرتی ہے کہ پاکستان سوشل میڈیا کے ذریعہ لوگوں کو مشتعل کررہا ہے اور غیرقانونی چینیلز سے علیحدگی پسندوں کو بھاری رقومات بھیجی جارہی ہیں۔

اس سلسلے میں پہلے ہی حکومت ہند کے مشترکہ تفتیشی ادارے نیشنل انوسٹگیشن ایجنسی یا این آئی اے نے تین حریت رہنماوں کی نئی دلی میں پوچھ گچھ کی ہے۔ سنیچر کوبھی این آئی اے کے اہلکاروں نے سرینگر اور اس کے اطراف میں متعدد حریت رہنماوں اور تاجروں کے گھروں میں چھاپے مارے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں