unseenkashmir#: جنت ارضی سے دہلی کی لڑکی کے نام خط

دعا اور سومیا
Image caption کشمیر میں رہنے والی دعا اور دہلی میں مقیم سومیا نے ایک دوسرے کو خط لکھے

انڈیا کے زیر انتظام وادی کشمیر میں کشیدگی کے ماحول میں پلنے بڑھنے والی لڑکیوں اور ہندوستان کی باقی حصوں میں رہنے والی لڑکیوں کی زندگی کتنی یکساں اور کتنی مختلف ہو سکتی ہے؟

یہی سمجھنے کے لیے وادی میں رہنے والی دعا اور دہلی میں مقیم سومیا نے ایک دوسرے کو خط لکھے۔ سومیا اور دعا کی ایک دوسرے سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے ایک دوسرے کی زندگی کو گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران خطوط کے ذریعے ہی جانا۔ آپ آئندہ چند دنوں تک ان کے خطوط یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

’انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں شادی نہ کریں‘

'ایک بیٹی انڈین ہے تو ایک پاکستانی،یہی ان کی تقدیر ہے'

’میں اپنے دوستوں کو اب کبھی نہیں دیکھ سکوں گا‘

سومیا کے نام دعا کا پہلا خط

پیاری سومیا،

جنت ارضی قرار دیے جانے کشمیر سے محبت بھرا سلام۔ میں دعاۃ البرزم ہوں۔ یہ طویل نام ہے، تو تم مجھے صرف دعا کہہ سکتی ہو۔

میری عمر 15 سال ہے اور میں ہندوستان کے معروف ترین سکولوں میں سے ایک پریزنٹیشن کانوینٹ میں پڑھتی ہوں۔ میں نے ایک معمولی لیکن پیارے خاندان کی سیدھی سادی لڑکی ہوں۔

میرے چھوٹے سے کنبے میں میرے ہیرو - میرے پاپا (بابا)، میری پیاری ماں (مما) اور نو سال کا میرا شیطان بھائی (اوين) ہیں۔

میری بہت سہیلیاں ہیں جو میری زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہیں اور ان میں میری سب سے قریبی دوست آئرہ (چھٹكي)، فاطمہ (فیٹي) اور لقا (دی سرکیسٹک ون) ہے۔)

انھی کی وجہ سے میری سکول کی زندگی بہت مزے کی ہے۔

تمہیں بھی زندگی میں دوست ہونے کا مطلب خوب معلوم ہوگا، تمہاری بھی بہت گہری سہیلیاں ہوں گی جو تمہیں تقریبا ہر وقت پریشان کرتی ہوں گی (میری سہیلیاں تو مجھے چھوڑتی ہی نہیں)۔

تم کشمیر کے بارے میں سوچتی ہو گی۔ جیسا کہ میں نے کہا یہ زمین پر جنت ہے۔ ہمارے یہاں کڑاکے کی سردی اور اچھی خاصی گرمی پڑتی ہے۔

سردی اتنی شدید ہوتی ہے کہ موسم سرما کے ان مہینوں کو چلہ کلاں کہا جاتا ہے۔

ہمارے یہاں سیر کے لیے بہت اچھے اور خوبصورت مقامات ہیں۔ جیسے پہلگام، سونمرگ، يوسمرگ اور موسم سرما کا بادشاہ گلمرگ۔

میں نے یہ تمام مقامات دیکھ رکھے ہیں لیکن رواں سال پہلی بار موسم سرما میں گلمرگ کو برف سے ڈھکے ہوئے دیکھنے کا موقع ملا۔

کیا تم اندازہ لگا سکتی ہو، کہ تمہارے ارد گرد تمہارے قد سے بھی بلند سات فٹ کی اونچائی تک برف ہی برف اور صرف برف ہو۔

اس سال جموں و کشمیر کی حکومت نے گلمرگ میں کئی ونٹر گیمز منعقد کیے۔ میں تو نہیں لیں میرا بھائی اوين کھیل کود میں دلچسپی رکھتا ہے۔

میں حیران رہ گئی جب وہ اس سال سکیئنگ کے کھیل میں اوّل آیا، جبکہ گذشتہ سال تک وہ کہتا تھا کہ سکیئنگ اسے بہت بورنگ کھیل لگتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption موسم سرما میں گل مرگ میں سکیئنگ کے مقابلے ہوتے ہیں

تم بھی کسی کھیل میں دلچسپی رکھتی ہو گی؟ میں جاننا چاہوں گی کہ تم کون سا کھیل کھیلتی ہو۔

جیسا کہ میں نے کہا کہ میں ایک سیدھی سادی لڑکی ہوں، سیدھی سادی لڑکی جسے پڑھنا، لکھنا، ڈانس کرنا، اپنے چھوٹے بھائی کو پریشان کرنا اور میوزک سننا اچھا لگتا ہے۔

موسیقی کی بات چھڑی ہے کہ تو بتا دو گہ مجھے موسیقی کا بہت شوق ہے۔ میں سکون دینے والی ویسٹرن اور کشمیری موسیقی، دونوں سے بہت متاثر ہوں۔

جب میں تمبکناري (ایک قسم کا ڈھول) اور نوٹ (سٹیل کے برتن جیسا آلہ) جیسے موسیقی کے آلات کو ایک ساتھ بجتے سنتی ہوں تو تو پاگلوں کی طرح جھوم کر رقص کرنے کے لیے دل بےتاب ہو جاتا ہے۔

کبھی گیتوں کے بول دل کو چھو جاتے ہیں اور کئی بار بہت گدگداتے ہیں۔ (یقین مانو اگر مزاحيہ کشمیری گیت سنو گی تو ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جاؤ گی)

ویسٹرن موسیقی میں مجھے پاپ، آلٹرنیٹو پاپ، راک اور آر اینڈ بی پسند ہے۔ ون ڈائریکشن (ویسے آج کل وہ بریک پر ہیں)، لٹل مکس، زین ملک، سیلینا گومز اور جسٹن بیبر (میں بہت خوش ہوں کہ وہ ہندوستان آئے) جیسے آرٹسٹ میرے پسندیدہ فنکار ہیں۔

تم سوچ رہی ہوگی کہ میں کتنی پاگل ہوں کہ تمہیں اپنے موسیقی کے شوق کے بارے میں اتنا بتا رہی ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ میرے ذوق کی موسیقی تمہیں میرے بارے میں بہت کچھ بتائے گی۔

میں اپنے فارغ وقت میں گاتی ہوں (ظاہر ہے پروفیشنل کی طرح نہیں۔۔۔) لیکن ماں کے سامنے جب بھی گاتی ہوں وہ مجھے خاموش کرا دیتی ہیں۔ ان سے برداشت ہی نہیں ہوتا (دراصل کسی سے بھی نہیں)

اب تک بس اتنا

دعا

(خطوط کی یہ سیریز بی بی سی ہندی کی نمائندہ دیویا آریہ نے تیار کی ہے)

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں