راہول گاندھی مذہبی کتابیں کیوں پڑھ رہے ہیں؟

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راہل گاندھی تمل فلمیں تو ضرور دیکھیں لیکن شروع میں رجنی کانت کی فلموں سے پرہیز کریں، ان سے خود اعتمادی کو بہت نقصان ہو سکتا ہے

لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے اور ذرا دیر سے ہی سہی، اب کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہول گاندھی کو بھی یہ خبر ہوگئی ہے۔

وہ آج کل ہندوؤں کی مذہبی کتابیں پڑھ رہے ہیں تاکہ حکمراں بی جے پی کی سیاست کو چیلنج کر سکیں! یہ بات انھوں نے جنوبی ریاست تمل ناڈو میں پارٹی کے رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

راہول گاندھی کو بظاہر لگتا ہے کہ ان کا مقابلہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے ہے جنھوں نے ہندوتوا کو اپنی سیاست کی بنیاد بنایا ہے۔

اجلاس میں شامل ایک رہنما کے مطابق راہل نے کہا کہ ’اب میں آر ایس ایس والوں سے پوچھتا ہوں کہ میرے دوست آپ یہ کیا کر رہے ہیں، لوگوں پر زیادتی کر رہے ہیں لیکن اپنشدوں میں تو لکھا ہے کہ سب لوگ برابر ہیں، تو کیا آپ اپنے ہی مذہب کی تعلیمات کی خلاف ورزی کرر ہے ہیں؟‘

آر ایس ایس والے کیا جواب دیتے ہیں یا دیں گے یہ بھی ابھی واضح نہیں ہے لیکن جیسا کسی نے ٹوئٹر پر لکھا ہے: وہ یہ تو کہہ ہی سکتے ہیں کہ دستور ہند میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ مذہبی کتابوں پر عمل کرنا لازمی ہے۔

یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کہیں کہ ’ارے بھائی، غلطی ہوگئی، ہم نے اپنشد اور گیتا کا ٹھیک سے مطالعہ نہیں کیا تھا، یا پڑھے ہوئے بہت وقت ہوگیا اس لیے تھوڑا کنفیوژن ہوگیا تھا، آئندہ سے خیال رکھیں گے! اچھا ہوا آپ نے یاد دلادیا۔‘

راہول گاندھی نے یہ بھی کہا کہ وہ تمل ناڈو کے کلچر کو سمجھنے کے لیے تمل فلمیں دیکھنا شروع کریں گے اور تمل کلچر کے بارے میں کتابیں بھی پڑھیں گے۔

تمل فلمیں تو تمل زبان میں ہی ہوتی ہیں، اس لیے سمجھ میں تو کچھ نہیں آتا لیکن انہیں دیکھنے میں مزا بہت آتا ہے۔

تمل فلموں میں وہ سب ہو جاتا ہے جو اصل زندگی میں نہیں ہوسکتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تمل فلموں کے سب سے بڑے سپر سٹار رجنی کانت بھی فلمیں چھوڑ کر اب سیاست میں اپنی مقبولیت کا پرچم لہرانا چاہتے ہیں۔

وہ اگر سیاست میں آ گئے تو بس اشارہ کریں گے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے بٹن خود بہ خود دبنا شروع ہو جائیں گے۔

اتنی گرمی میں ان کے مداحوں کو اپنے گھروں سے باہر آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور اگر انھوں نے پلک جھپکتے دوبارہ اشارہ نہیں کیا تو ہو سکتا ہے کہ ووٹروں سے زیادہ ووٹ پڑ جائیں!

لیکن رجنی کانت کے پاس ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے، وہ ایک انگلی میں اپنی گاڑی یا ہوائی جہاز کی چابی گھماتے ہوئے کہیں گے کہ جو ووٹ زیادہ ڈل گئے ہیں انھیں اگلے دو تین انتخابات میں گن لیا جائے گا!

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رجنی سر کی ہر فلم میں 'ایکشن' ہوتا ہے اور وہ ہمشیہ کامیاب ہوتی ہیں!

وہ نشانہ لگار کر گولی چلاتے ہیں اور پھر اگر ذہن بدل جائے تو راستے میں ہی گولی کو روک کر واپس بندوق میں بھیج سکتے ہیں۔ گولی ہو یا ووٹ، کچھ بھی ضائع کرنا اچھی بات نہیں!

اس لیے راہول گاندھی تمل فلمیں تو ضرور دیکھیں لیکن شروع میں رجنی کانت کی فلموں سے پرہیز کریں، ان سے خوداعتمادی کو بہت نقصان ہو سکتا ہے۔

راہول گاندھی نے یہ بھی کہا کہ ’میں نے اپنی بہن پرینکا کو ایس ایم ایس بھیجا کہ مجھے تمل ناڈو اور یہاں کے لوگ بہت پسند ہیں، ان سے ایک تعلق محسوس ہوتا ہے۔ پرینکا کاجواب آیا کہ مجھے بھی تملوں سے محبت ہے۔‘

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تمل ناڈو کے لوگ کانگریس کو زیادہ پسند نہیں کرتے۔ وہاں اب صرف دو بڑی جماعتیں ہیں، ایم کروناندھی کی ڈی ایم کے اور آنجہانی وزیراعلیٰ جیا للتا کی آل انڈیا انا ڈی ایم کے۔

گذشتہ 50 برسوں سے ریاست پر ان دونوں کی ہی حکومت رہی ہے، کانگریس وقت اور حالات کے مطابق کسی ایک سے ہاتھ ملاکر الیکشن لڑتی ہے۔

راہول گاندھی بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لیے بظاہر بہت محنت کر رہے ہیں۔ یوں آسانی سے اپنشد جیسی بھاری بھرکم کتابیں کوئی نہیں پڑھتا لیکن شاید انھیں ضرورت صرف رجنی کانت کی کچھ فلمیں دیکھنے کی ہے۔

رجنی سر کی ہر فلم میں ’ایکشن‘ ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ کامیاب ہوتی ہیں!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں