unseenkashmir#: ’کیا واقعی کشمیر میں صرف مسلم رہتے ہیں؟'

دعا اور سومیا
Image caption کشمیر میں رہنے والی دعا اور دہلی میں مقیم سومیا نے ایک دوسرے کی زندگی کو خطوط کے ذریعے ہی جانا ہے

انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کے کشیدہ ماحول میں پلنے بڑھنے والی لڑکیوں اور ملک کے باقی حصوں میں رہنے والی لڑکیوں کی زندگی کتنی یکساں اور کتنی مختلف ہو سکتی ہے؟

یہی سمجھنے کے لیے وادی کشمیر میں رہنے والی دعا اور دہلی میں مقیم سومیا نے ایک دوسرے کو خط لکھے۔ سومیا اور دعا کی ایک دوسرے سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے ایک دوسرے کی زندگی کو گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران خطوط کے ذریعے ہی جانا۔ آپ آئندہ چند دنوں تک ان کے خطوط یہاں پڑھ سکیں گے۔

سومیا کے نام دعا کا خط پڑھنے کے لیے کلک کریں

دعا کے خط پر سومیا کا جواب

پیاری دعا

مجھے تمہارا خط ملا۔ یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ بھی میری طرح ون ڈائریکشن کو پسند کرتی ہو!

میں سب سے پہلے تمہیں اپنے بارے میں بتاتی ہوں۔ میرا نام سومیا ساگریكا ہے۔ میں 16 سال کی ہوں اور دہلی میں رہتی ہوں۔

میرا ایک چھوٹا اور خوبصورت خاندان ہے۔ میرے خاندان میں صرف تین لوگ ہیں، میں، میری ممی اور میرے پاپا۔

میرا کوئی بھائی بہن تو نہیں ہے، مگر میرے پڑوس میں ایک پانچ سال کا بچہ رہتا ہے اور اس کا نام سمرتھ ہے۔ وہ مجھے بھائی کی کمی نہیں محسوس ہونے دیتا، بالکل چھوٹے بھائی کی طرح مجھے پریشان کرتا رہتا ہے۔

وہ میرے ممی پاپا کی محبت کو دو حصوں میں بانٹ لیتا ہے۔

’انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں شادی نہ کریں‘

'ایک بیٹی انڈین ہے تو ایک پاکستانی،یہی ان کی تقدیر ہے'

میں اپنے گھر کے قریب کے ہی ایک سکول میں پڑھتی ہوں۔ میرے سکول میں میرے بہت سے دوست ہیں جو میری زندگی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

میں سب کو تو نہیں لیکن تمہیں اپنی سب سے پکی سہیلی کے بارے میں بتاتی ہوں۔ اس کا نام پلک ہے (وہ بہت پتلی ہے تو ہم اسے 'پدی' کہہ کر پکارتے ہیں)۔

جیسا کہ تم نے مجھ سے میرے پسندیدہ کھیل کے بارے میں پوچھا تھا، تو میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں میرا سب سے زیادہ پسندیدہ کھیل تائیكوانڈو ہے۔ میں سٹیٹ لیول چیمپیئن شپ میں سلور میڈل بھی جیت چکی ہوں۔

میں اب اگر تمہیں اپنے بارے میں بتاؤں تو صرف اتنا ہی بتا سکتی ہوں کہ میں باقی لڑکیوں سے تھوڑی مختلف ہوں (ایسا مجھے لگتا ہے)۔

مجھے باقی لڑکیوں کی طرح سجنا سنورنا بالکل پسند نہیں ہے۔ میں جانتی ہوں یہ تھوڑا عجیب ہے، مگر میں ایسی ہی ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سومیا کہتی ہیں کہ دہلی میں لوگ جب بھی کشمیر کا نام سنتے ہیں تو ان کے دماغ میں صرف ایک لفظ آتا ہے اور وہ ہے مسلم

مجھے فارغ وقت میں کتابیں پڑھنا اور تمہاری طرح گانے سننا پسند ہے۔

جیسا کہ میں نے تمہیں بتایا کہ میں دہلی میں رہتی ہوں تو میں تمہیں بتاؤں کہ یہاں کے موسم کا کچھ بھروسہ نہیں، کبھی دھوپ تو کبھی تیز بارش۔ کاش! یہاں کا موسم بھی کشمیر کی طرح ہو جائے۔

’میں اپنے دوستوں کو اب کبھی نہیں دیکھ سکوں گا‘

ایک اور بات، یہاں پر لوگ جب بھی کشمیر کا نام سنتے ہیں تو ان کے دماغ میں صرف ایک لفظ آتا ہے اور وہ ہے 'مسلم۔'

میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا واقعی وہاں صرف مسلم لوگ ہی رہتے ہیں؟

میں جانتی ہوں کہ تمہیں لگ رہا ہو گا کہ میں بار بار الگ الگ باتیں کہہ رہی ہوں، مگر میں کیا کروں مجھے تم سے بہت سی باتیں کہنی ہیں۔

امید ہے تمھیں میرا خط پسند آئے گا اور تم جلد ہی اس کا جواب دو گی۔

سومیا

(خطوط کی یہ سیریز بی بی سی ہندی کی نمائندہ دیویا آریہ نے تیار کی ہے)

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں