انڈیا میں ایک مجسمہ جو خلا تک پہنچ سکتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Gujarat Information Bureau HO
Image caption سردرا ولبھ بھائی پٹیل انڈیا کے پہلے وزیر داخلہ تھے

انڈیا کے دو خلائی پروگرام بیک وقت آسمانوں کو چھو رہے ہیں، ایک اس کے بھاری بھرکم راکٹوں کی شکل میں اور دوسرا سردار پٹیل کے مجسمے کی شکل میں جو گجرات میں بنایا جا رہا ہے۔

سردار پٹیل کے 182 میٹر اونچے مجسمے پر سنا ہے کہ تقریباً تین ہزار کروڑ روپے لاگت آئے گی، اور وہ اتنا اونچا ہوگا کہ کام کہاں تک پہنچا اور ٹھیک سے کیا جارہا ہے یا نہیں، یہ دیکھنے کے لیے بھی خلائی راکٹوں کی ضرورت پڑے گی۔

ویسے تو یہ کام سیٹلائٹ سے بھی کیا جاسکتا ہے لیکن خود جاکر دیکھنے سے جو تسلی ملتی ہے اس کی بات اور ہی ہے۔ اس لیے انڈیا کے خلائی سائنسدان اب 'انسانی مشن' بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ جب چاند اور مریخ پر انسانی مشن جایا کریں گے تو زمین پر ٹھیکیدار کہا کریں گے کہ بھائی جاتے میں کچھ مزدور مجسمے کی اوپری منزل پر اتار دینا اور واپسی میں وہاں سے دوسرے دستے کو لیتے آنا، زمین پر ان کی چھٹی منظور ہوگئی ہے۔

یہ مجسمہ کچھ انٹرنیشنل سپیس سٹیشن کی طرح ہوگا، بس اس کی بنیاد زمین پر رکھی گئی ہے، تاکہ مضبوطی رہے۔

اسی لیے انڈیا نے جی ایس ایل وی مارک تھری راکٹ تیار کیا ہے جس کا وزن دو سو بڑے ہاتھیوں کے برابر بتایا گیا ہے! ضرورت پڑنے پر اسے مجسمے کی تعمیر کے لیے بھاری سامان انڈیا کی خلائی حدود میں پہنچانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سردار پٹیل کے مجسمے کو سٹیچو آف یونیٹی یعنی اتحاد کے مجسمے کا نام دیا گیا ہے

آپ شاید سوچیں گے کہ راکٹ تو بہت مہنگا بنتا ہوگا، لیکن مجسمے کی طرح یہ راکٹ بھی پوری طرح سے ملک کے اندر ہی تیارکیا گیا ہے اوراس پر صرف تین سو کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔ اگر مجسمے پر لاگت میں اضافہ نہ بھی ہوا تو ایسے دس راکٹ تو آسانی سے بنائے جاسکتے ہیں۔

بس یوں سمجھیے کہ سردار پٹیل کا یہ مجسمہ کم سے کم 30 عظیم االشان یونیورسٹیز کے برابر وزنی ہوگا۔

لیکن یہ 'سٹیچیو آف یونیٹی' ہے یعنی مجسمہ اتحاد اور اتحاد کے لیے تو جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے، کم ہے۔

اسی لیے آج اخبارات میں ایک دلچسپ خبر چھپی ہے۔ حکومت نے تیل اور گیس کی بڑی سرکاری کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مجسمے کی تعمیر کے لیے دو سو کروڑ روپے کا انتظام کریں۔

اور یہ رقم انھیں اپنے 'کارپورٹ سماجی ذمہ داری' (سی ایس آر) کے فنڈز سے دینے کی ہدایت دی گئی ہے، انڈیا میں کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ سماج کے غریب طبقے کی فلاح کے لیے ہر سال اپنی آمدنی کا ایک حصہ خرچ کریں، اور اتحاد سے بہتر اس پیسے کا اور کیا استعمال ہوسکتا ہے؟

لیکن سرکاری کمپنی او این جی سی نے اخبار کو بتایا کہ قانون میں اس بات کی اجازت ہے کہ خاص طور پر قبائلی علاقوں میں تعلیم، صحت اور صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے اور۔۔۔ ماحولیات، قومی تہذیب اور آرٹ کے تحفظ کے لیے سی ایس آر کے تحت رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔

مجسمہ آئندہ پارلیمانی انتخابات سے پہلے مکمل کرنے کی کوشش ہے اور اگر نریندر مودی دوبارہ وزیر اعظم بنتے ہیں تو حلف برداری کے لیے اس سے بہتر جگہ اور کیا ہوگی، وہ اپنا سینہ ٹھوک کر یہ کہہ سکیں گے کہ انھوں نے غریب سے غریب ہندوستانی کے لیے خلا میں گھومنے پھرنے کا راستہ کتنا آسان کردیا ہے!

اسی بارے میں