انڈیا میں این ڈی ٹی وی پر چھاپوں کے بعد آزاد میڈیا پر بحث

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پرنائے رائے کو ملک میں ٹی وی نیوز جرنلزم کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے

انڈیا میں نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے دفاتر اور اس کے مالکان کےگھروں پر سی بی آئی کے چھاپوں سے ملک میں میڈیا کی آزادی پر بحث چھڑگئی ہے۔ چینل کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف عائد نادہندگی کے الزامات بالکل بے بنیاد ہیں جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی سی بی آئی نے اپنی معلومات کی بنیاد پر کی ہے اور اس سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

مرکزی تفتیشی بیورو نے این ڈی ٹی کے مالکان ڈاکٹر پرنائے روائے اور ان کی اہلیہ رادھیکا رائے کے گھروں اور چینل کے دفاتر پر پیر کی صبح چھاپے مارے تھے۔

پرنائے رائے کو ملک میں ٹی وی نیوز جرنلزم کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سی بی آئی کا الزام ہے کہ انھوں نے ایک پرائیویٹ بینک سے قرض لیا تھا اور بینک کے ملازمین کے ساتھ مل کر اسے اڑتالیس کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔ این ڈی ٹی وی کا دعویٰ ہے کہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور اسے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

این ڈی ٹی وی کے سینیر اینکر رویش کمار نے اپنے ایک پروگرام میں کہا کہ ’دلی میں آپ کو دو طرح کے صحافی ملیں گے، ایک وہ جو ڈرے ہوئے ہیں اور ایک وہ جنہیں ڈرایا جا رہا ہے۔۔۔ کچھ لوگوں کو ڈرنے کی بھاری قیمت ادا کی جارہی ہے۔۔۔ لیکن این ڈی ٹی وی کی آواز خاموش نہیں کی جاسکتی۔‘

این ڈی ٹی وی اور حکمران بی جے پی کے درمیان تعلقات پہلے سے کشیدہ ہیں اور حکومت پہلے بھی اس کے ہندی چینل کے خلاف کارروائی کر چکی ہے۔ چند روز قبل مویشیوں کی منڈیوں میں ذبیحے کے لیے جانوروں کی فروخت پر پابندی سے متعلق فیصلے پر ایک بحث کے دوران این ڈی ٹی وی کی اینکر ندھی رازدان نے بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا سے کہا تھا کہ وہ یا تو ان کے شو سے چلے جائیں یا چینل پر یہ الزام لگانے کے لیے معافی مانگیں کہ وہ ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت کام کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شیکھر گپتا نے کہا کہ میڈیا کے لیے پیغام واضح ہے، مزاحمت کرنی ہے تو اس کے مضمرات بھی برداشت کرنے ہوں گے

سی بی آئی کے چھاپوں پر سینیئر مدیران نے سخت تنقید کی ہے۔ ان کی تنظیم ایڈیٹرز گلڈ نے کہا کہ وہ پریس کی آواز دبانے کی کسی بھی کوشش کی سخت مذمت کرتی ہے۔

سینیئر صحافی شیکھر گپتا نے کہا کہ میڈیا کے لیے پیغام واضح ہے، مزاحمت کرنی ہے تو اس کے مضمرات بھی برداشت کرنے ہوں گے۔

کچھ صافحیوں نے ان چھاپوں کا موازنہ ایمرجنسی کے دور سے کیا ہے جب ملک میں پہلی اور آخری مرتبہ سینسر شپ نافذ کی گئی تھی۔ ان میں سینیئر صحافی پروین سوامی بھی شامل ہیں۔

سیاسی جماعتوں نے بھی سی بی آئی کے چھاپوں کو سیاسی محرکات پر مبنی بتایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عام آدمی پارٹی کے لیڈر آشوتوش نے کہا کہ یہ ایک خطرناک کھیل ہے اور مقصد میڈیا کی آواز کو دبانا ہے

کانگریس کے ترجمان اجے ماکن نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت خوف کا ماحول بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ میڈیا کی آزادی پر بڑا حملہ ہے۔

عام آدمی پارٹی کے لیڈر آشوتوش نے کہا کہ یہ ایک خطرناک کھیل ہے اور مقصد میڈیا کی آواز کو دبانا ہے۔ آشوتوش خود سیاست میں آنے سے پہلے ایک سینیئر ایڈیٹر تھے۔

لیکن بی جے پی کے وفاقی وزیر وینکیا نائڈو نے کہا کہ ملک میں میڈیا جو چاہے لکھنے کے لیے آزاد ہے لیکن اگر کوئی قانون توڑتا ہے تو اس کےخلاف کارروائی ہونی چاہیے چاہے وہ صحافی ہو یا کوئی اور۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار میں تین سال مکمل کر لیے ہیں لیکن ابھی تک ایک بھی پریس کانفرنس سے خطاب نہیں کیا ہے۔ انڈیا میں آجکل میڈیا میں بھی کھلے عام جنگ جاری ہے اور چینل ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

ایک حلقے کا الزام ہے کہ کچھ چینل بکے ہوئے ہیں اور آنکھیں بند کرکے حکومت کی حمایت کرتے ہیں، جواب میں ان کا الزام ہے کہ یہ الزام لگانے والے چینل خود ملک کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں