اشرف غنی کی طالبان کو دفتر کھولنے کی پیشکش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو ’آخری بار‘ مذاکرات میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے انھیں کابل میں نمائندہ دفتر کھولنے کی پیش کش بھی کی ہے۔

انھوں نے یہ بات منگل کو کابل میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں کہی جس میں تقریباً دو درجن ممالک شریک ہوئے۔

صدر اشرف غنی نے طالبان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’یا تو وہ امن کو اپنا لیں یا پھر شدید نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔‘

کابل کے سفارتی علاقے میں بم دھماکے میں 80 ہلاک

افغان طالبان کا ’آپریشن منصوری‘ کے آغاز کا اعلان

دارالحکومت کابل میں ’کابل پراسیس‘ کے نام سے ہونے والی اس بین الاقوامی کانفرنس کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

صدر اشرف غنی نے طالبان کو نمائندہ دفتر کھولنے کی پیش کش کی اور مزید کہا کہ وہ مستقبل میں ہونے والے مذاکرات کی جگہ کے لیے لچک کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے کابل میں ہی ایک ٹرک بم حملہ ہوا تھا جس میں بقول صدر اشرف غنی ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 150 تک پہنچ گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ہم طالبان کو امن کی پیش کش کر رہے ہیں لیکن یہ ایک غیر مشروط پیش کش نہیں ہے۔‘

’وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ یہ آخری موقع ہے، اسے حاصل کریں یا شدید نتائج کا سامنا کریں۔‘

شدت پسندوں نے اس کانفرنس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے راکٹ داغا ہے جو ان کے دعویٰ کے مطابق نیٹو کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا تھا تاہم وہ انڈین سفارتکار کی رہائش گاہ میں گرا لیکن اس کے نتیجے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

افغان صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم ہمت نہ ہارنے والی قوم ہیں۔ دہشت گرد ہمارا خون تو بہا سکتے ہیں لیکن ہماری ہمت کو نہیں توڑ سکتے۔‘

خیال رہے کہ افغان دارالحکومت کابل میں غیر ملکی سفارتخانوں اور صدارتی محل کے قریب گذشتہ بدھ کو ہونے والے ایک دھماکے میں ابتدائی طور پر 80 افراد ہلاک اور 300 سے زائد کے زخمی ہونے کے اطلاعات آئی تھیں تاہم اب افغان صدر کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 150 ہوگئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں