unseenkashmir#:'مذہب کوئی بھی ہو، کشمیر میں بہت بھائی چارہ ہے'

دعا اور سومیا
Image caption کشمیر میں رہنے والی دعا اور دہلی میں مقیم سومیا نے ایک دوسرے کی زندگی کو خطوط کے ذریعے ہی جانا ہے

انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کے کشیدہ ماحول میں پلنے بڑھنے والی لڑکیوں اور ملک کے باقی حصوں میں رہنے والی لڑکیوں کی زندگی کتنی یکساں اور کتنی مختلف ہو سکتی ہے؟

یہی سمجھنے کے لیے وادی کشمیر میں رہنے والی دعا اور دہلی میں مقیم سومیا نے ایک دوسرے کو خط لکھے۔ سومیا اور دعا کی ایک دوسرے سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے ایک دوسرے کی زندگی کو گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران خطوط کے ذریعے ہی جانا۔ آپ آئندہ چند دنوں تک ان کے خطوط یہاں پڑھ سکیں گے۔

سومیا کے نام دعا کا پہلا خط پڑھنے کے لیے کلک کریں

دعا کے خط کا جواب پڑھنے کے لیے کلک کریں

دعا کا دوسرا خط سومیا کے نام

پیاری سومیا،

تمہارا خط ملا اور یہ جان کر اچھا لگا کہ میری طرح تمھیں بھی کتابیں پڑھنا اور موسیقی سننا پسند ہے بلکہ تم میری ہی طرح 'ون ڈائركشنر‘ بھی ہو۔

تم نے اپنے خط میں مجھ سے ایک سوال پوچھا کہ جب بھی کشمیر کے باہر کے لوگ وادی کے بارے میں کچھ بھی سنتے ہیں تو ان کے دماغ میں جو پہلی بات آتی ہے وہ 'مسلم' ہے اور تم جاننا چاہتی ہو کہ کیا یہاں صرف مسلم ہی رہتے ہیں۔

اس کا جواب نہیں ہے لیکن یہاں رہنے والے زیادہ تر لوگ مسلمان ہیں۔

’انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں شادی نہ کریں‘

'ایک بیٹی انڈین ہے تو ایک پاکستانی،یہی ان کی تقدیر ہے'

پورے جموں کشمیر کی بات کریں تو 70 فیصد مسلمان ہیں، ہندو 20 فیصد اور باقی مذاہب (مسیحی، جین مت، بدھ مت، سكھ وغیرہ) 10 فیصد.

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دعا کہتی ہیں کہ چلۂ کلاں کے دوران سری نگر میں درجہ حرارت منفی 15 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے

مذہب کوئی بھی ہو، یہاں کشمیر میں تمام لوگ بہت بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں۔

ہم اردو کی ایک کہاوت ’ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، آپس میں سب بھائی بھائی‘ میں یقین کرتے ہیں۔

یہ سمجھانے کے لیے میں تمہیں ایک مثال دیتی ہوں۔ تقریباً دو سال پہلے، شوپیاں نام کے ایک علاقے میں مسلمانوں نے ایک غریب ہندو کی بیٹی کی شادی کروانے میں اس کی مدد کی تھی۔

تم نے موسم کی بھی بات کی اور خواہش ظاہر کی کہ دہلی کا موسم بھی کشمیر جیسا ہو جائے لیکن یقین مانو تم یہ پسند نہیں کرو گی، کیونکہ جیسا میں نے تمہیں اپنی گذشتہ خط میں لکھا تھا، ہمارے یہاں شدید سردی پڑتی ہے۔

چلۂ کلاں کے دوران تو درجہ حرارت منفی 15 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ یہاں موسم کبھی بھی بدل جاتا ہے۔

گذشتہ دو دن خوب دھوپ نکلی، اب جب میں یہ خط لکھ رہی ہوں مجھے باہر سے بارش کی آواز سنائی دے رہی ہے۔

اور ٹھنڈک اس قدر ہے کہ قلم تک پکڑنے میں انگلیاں برف سی ہوئی جا رہی ہیں۔

’میں اپنے دوستوں کو اب کبھی نہیں دیکھ سکوں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گرمیوں میں موسم گرم نہیں بلکہ خوشگوار ہوتا ہے

یہاں گرمیوں میں گرمی نہیں بلکہ اچھا موسم ہوتا ہے (تمہارے لیے ہو نا ہو لیکن ہمارے لیے 33 ڈگری بھی بہت گرم ہوتا ہے)۔

میں سکول میں ایک اچھی سٹوڈنٹ ہوں۔ جیسا میں نے تمہیں بتایا تھا کہ میں نویں کلاس میں ہوں۔

ساتھ ہی ساتھ میں دسویں کلاس کی تیاری بھی کر رہی ہوں۔ اب یہ سمجھ نہیں آرہا کہ دسویں کلاس میں کون سے سبجیکٹس (مضامین) لوں۔

کیا تم مجھے اس سلسلے میں کوئی مشورہ دے سکتی ہو؟ تم کون کون سے مضامین لینے والی ہو؟

تمہارے مطابق کس سبجیکٹ میں مستقبل میں زیادہ مواقع ملیں گے، كريئر بنے گا اور جن پر توجہ دی جانی چاہیے؟

تمہارے ذہن میں کچھ ہو تو مجھے ضرور لکھ بھیجنا۔

تمہارے جواب کی منتظر

تمہاری دوست

دعا

(خطوط کی یہ سیریز بی بی سی ہندی کی نمائندہ دیویا آریہ نے تیار کی ہے)

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں