چین کی یونیورسٹی میں شراب کی سائنس کا کورس متعارف

متائی تصویر کے کاپی رائٹ Javier Petrucci
Image caption متائی کی ایک بوتل 166 ڈالر کی ہے اور اس شراب کی 95 فیصد فروخت چین ہی میں ہوتی ہے

دنیا کی قیمتی ترین شراب بنانے والی کمپنی ایک یونیورسٹی قائم کر رہی ہے جس میں سینکڑوں طلبہ شراب کی سائنس پڑھ سکیں گے۔

چین کی اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق وزارت تعلیم سے منظوری ملنے کے بعد جلد ہی چین کی سرکاری کمپنی کوئے چاؤ متاؤ کمپنی صوبہ گوانگژو میں متاؤ یونیورسٹی قائم کرے گی۔

مقامی آبادی سے 600 طلبہ کو منتخب کیا گیا ہے جو وائن بنانے، خوراک کی کوالٹی کے کورسز پڑھیں گے۔ اس یونیورسٹی کا کیمپس 32 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔

اس یونیورسٹی کو قائم کرنے میں دو کروڑ 80 لاکھ ڈالر لاگت آئی ہے۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق چین کی شراب کی صنعت کو ماہرین کی کمی کا سامنا کافی عرصے سے ہے اور اس یونیورسٹی کے ذریعے اس کمی کو پورا کیا جاسکے گا۔

چاؤ متاؤ کمپنی متائی نامی شراب بناتی ہے جس کو چین کی قومی مشروب بھی کہا جاتا ہے اور سرکاری تقریبات میں بہت مقبول ہے۔

چینی حکام غیر ملکی شخصیات کو متائی تحفے کے طور پر دیتے ہیں۔ اس شراب کو رشوت کے طور پر دینے کے باعث اس کی فروخت میں 30 فیصد کمی اس وقت واقع ہوئی جب 2014 میں حکومت نے بدعنوانی کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔

فوربز جریدے کے مطابق تاہم انسداد بدعنوانی کی مہم میں نرمی کے بعد اور بڑے پیمانے پر اشتہاری مہم کے باعث اس کمپنی کی قدر میں بے حد اضافہ ہوا اور یہ شراب جانی واکر شراب بنانے والی کمپنی ڈیاگیو سے بھی بڑی ہو گئی۔

متائی کی ایک بوتل 166 ڈالر کی ہے اور اس شراب کی 95 فیصد فروخت چین ہی میں ہوتی ہے۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق یہ یونیورسٹی ملک میں پہلی یونیورسٹی نہیں ہے جو غیر معمولی کورس آفر کر رہی ہے۔ اس سے قبل کئی یونیورسٹیاں قائم ہیں جہاں طلبہ کرے فش کی تیاری، لاٹری اور ہاٹ نوڈلز کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں