چین پاکستان میں فوجی اڈہ بنا سکتا ہے: امریکی وزارت دفاع

چینی فوج تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین کا سالانہ دفاعی بجٹ 140 ارب امریکی ڈالر ہے

امریکی وزارت دفاع نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ چین دنیا بھر میں اپنی فوجی صلاحیت بڑھا رہا ہے اور اس حوالے سے مختلف ممالک میں فوجی اڈے بنا سکتا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیجنگ کے فوجی عزائم میں اضافہ ہو رہا اور وہ امریکہ کی برتری کو چیلنج دینے کی تیاری میں ہے۔

٭ چین کا دفاعی اخراجات میں سات فیصد اضافے کا اعلان

٭ ’امریکہ جنوبی بحیرہ چین کے مسئلے میں فریق نہیں‘

٭ ڈونلڈ ٹرمپ چین پر برس پڑے، ٹوئٹر کے ذریعے تنقید

امریکی وزارت دفاع کی سالانہ رپورٹ کے مطابق چین نے گذشتہ سال چینی فوج پیپلز لبریشن آرمی پر 180 ارب امریکی ڈالر خرچ کیے۔

اس کے ساتھ ہی حکام نے اعتراف کیا کہ یہ فوج پر کیے جانے والے تمام اخراجات کا مظہر نہیں ہے۔ یہ تخمینہ چین میں دفاع کے سالانہ بجٹ 140 ارب ڈالر سے خاطر خواہ زیادہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'چین پاکستان جیسے عسکری اہمیت کے حامل دیرینہ دوست ممالک میں اپنے اضافی فوجی اڈے قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پینٹاگون کی سالانہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال چین نے 180 ارب ڈالر خرچ کیا تھا

دوسرے ممالک کی بندرگاہوں پر اس کے بحری جہاز کے معمول کے سفر کے ساتھ یہ پیش قدمی چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کی غماز ہیں اور یہ چینی فورسز کی پہنچ میں اضافہ کرتی ہیں۔

خیال رہے کہ چین کی فوج دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے۔ گذشتہ سال اس نے اپنا پہلا غیرملکی اڈہ افریقی ملک جیبوٹی میں بنانا شروع کیا تھا۔ یہاں پہلے سے ہی دہشت گردی کے خلاف امریکی اڈہ قائم ہے۔

پینٹاگون نے اپنی رپورٹ میں جیبوٹی میں چینی فوجی اڈے کا باربار ذکر کیا ہے اور اس کے ممکنہ نئے فوجی اڈے کے قیام کے لیے پاکستان کا نام لیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان پہلے ہی چین سے سب سے زیادہ ہتھیار خریدنے والا ملک ہے۔

پینٹاگون کے مطابق بحرالکاہل میں پہلے سے ہی چین کی سب سے بڑی بحریہ ہے جس میں 300 سے زیادہ جہاز ہیں۔ تاہم چین ٹکنالوجی اور عسکری صلاحیت میں ابھی بھی امریکہ اور جاپان سے پیچھے ہے۔

اس کے علاوہ چین کا امریکہ کے ساتھ جنوبی بحیرۂ چین کے خطے میں مصنوعی جزائر بنانے اور وہاں فوجی سرگرمی پر سخت اختلاف ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں