بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کا مندسور ضلع کسانوں کے پرتشدد تحریک کی وجہ سے خبروں میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Prakash Hatvalne
Image caption مدھیہ پردیش کے کسانوں کا احتجاج پر تشدد ہو گیا

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کا مندسور ضلع کسانوں کی پرتشدد تحریک کی وجہ سے خبروں میں ہے۔

مندسور میں کسانوں کی تحریک کے مشتعل ہونے کے بعد پولیس فائرنگ میں پانچ کسانوں سمیت چھ افراد کی موت ہو چکی ہے۔

اتر پردیش میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد کسانوں کو ملنے والے قرض معاف کر دیے گئے جس کے بعد مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں بھی کسان اپنے اپنے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے کسانوں کے مطالبات کیا ہیں:

کسانوں کے قرضے معاف کیے جائیں۔

منڈی کا ریٹ فکس کیا جائے۔

کسانوں کو پینشن دی جائے۔

اور سوامی ناتھن سفارشات کو نافذ کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Prakash Hatvalne
Image caption کسان فصلوں کی طے شدہ قیمی نہ ملنے پر ناراض ہیں

پیپلز ریسرچ سوسائٹی سے وابستہ یوگیش دیوان کا کہنا ہے کہ مندسور اور مالوہ میں زراعت کافی اچھی ہوتی ہے اور لوگ بھی کافی پرسکون ہیں اس پور علاقے میں افیون سے لے کر نقد فصل جیسے آلو، مرچ، مصالحے، لہسن، پیاز اور اس طرح کے مصالحے ہوتے ہیں لیکن ان سب کو حکومت سے طے شدہ قیمت میں نہیں لیا جاتا ہے اور کسان اس بات سے ناراض ہیں۔

نقدی فصلوں پر حکومت طے شدہ قیمت نہیں دیتی جس سے نہ ہی حکومت اسے خریدتی ہے نہ ہی اسے منڈی میں لا سکتی ہے۔

اس علاقے میں زیر زمین پانی بہت زیادہ نیچے نہیں ہے اور اچھی سیاہ مٹی ہے جس سے پپیتے، آلو، پیاز، لہسن کی طرح بہت سے پھل اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کسانوں کی یہ لڑائی غربت سے زیادہ فصلوں کی صحیح قیمت نہ ملنے کی ہے

مدھیہ پردیش کے صحافی وشنو بیراگي کا کہنا ہے کہ 1970 کی دہائی میں یہاں پر کسانوں نے نقد فصلیں بونا شروع کیں لیکن آج نقدی فصلیں اگانے والا کسان کافی پریشان ہے۔

اس علاقے میں افیون کی بھی بڑے پیمانے پر کاشت ہوتی ہے جس کے لیے آبکاری محکمہ کے اپنے قوانین ہیں۔

یوگیش دیوان کے مطابق کسانوں کو زمین تحویل میں لینے سے متعلق نیا قانون ناگوار گزر رہا تھا مدھیہ پردیش حکومت نے گزشتہ سال زمین تحویل میں لینے کے لیے نیا قانون بنایا ہے جس میں کسانوں سے زمین لینے کا طریقہ کافی آسان ہو چکا ہے اور کسانوں کے ہاتھ سے آسانی سے زمین جا رہی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت مالوھ کے نیمچ اور مندسور کے ارد گرد کے علاقوں کو صنعت میں تبدیل کر رہی ہے اور لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

حکومت کی بے رخی

اس علاقے کے لوگ کبھی پر تشدد نہیں رہے لیکن کسان زمین تحویل میں لینے کے قانون اور سرکاری قیمت نہ ملنے پر ناراضگی کے سبب اپنا ہی مال جیسے دودھ، پھل، سبزیاں سڑکوں پر پھینک رہے تھے اس کے بعد بھی مدھیہ پردیش کی حکومت نے کوئی اقدام نہیں کیا۔

وشنو بیراگي کا کہنا ہے کہ جب کسانوں میں بے چینی بڑھنے لگی اور ایک جون سے کسانوں نے تحریک شروع کی تب بھی حکومت کسانوں سے بات چیت کے لیے آگے نھیں بڑھی ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Prakash Hatvalne
Image caption یہاں کی زمین کافی زرخیز ہے

وشنو بیراگي کا کہنا ہے کہ مندسور میں بی جے پی کو زبردست حمایت حاصل رہی ہے اور بی جے پی کی حکومت کی طرف سے نظر انداز کیے جانے پر کسان غصہ ہو گئے۔

ان کا کا کہنا ہے کہ وہ مندسور کے کسانوں کی پر تشدد کارروائی سے حیران ہیں کیونکہ یہ امیر علاقہ ہے اور بڑی تعداد میں کسان اچھی حیثیت کے مالک ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں تقریباً 25 سے 30 فیصد کسان ہی خط افلاس کے نیچے ہوں گے یا پھر اپنا قرض ادا کرنے میں مشکل محسوس کر رہے ہوں گے۔

وشنو بیراگي کا خیال ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں اپنی پیداوار کی حقیقی قیمت نہ ملنے سے کسانوں کی حالت کافی خراب ہو گئی ہے۔ غریب کسان تو پریشان تھے ہی لیکن جو متوسط اور اعلی طبقے کے کسان ہے، وہ بھی ایسی حالت میں پہنچ چکا ہے کہ اسے بھی مدد کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔

نوٹ بندی نے کسانوں کی کمر توڑ دی

گزشتہ سال آٹھ نومبر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے پانچ سو اور ایک ہزار کے پرانے نوٹ بند کرنے کا اعلان کیا تھا اس سے کسانوں کے بری طرح متاثر ہونے کی خبریں آتی رہیں۔

وشنو بیراگي کا کہنا ہے کہ مندسور میں بہت سے کسانوں نے انہیں بتایا کہ بینکوں میں کسانوں کے چیک کو کیش ہونے میں آٹھ آٹھ دن لگ گئے، نقد نہ ملنے کی وجہ سے کسانوں کو کافی نقصان ہوا اس کے بعد حکومت نے بینکوں سے کسانوں کو نقد میں ہی ادا کرنے کو کہا تو بینکوں نے بھی نوٹوں کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے جان چھڑا لی۔

یوگیش دیوان کا کہنا ہے کہ مندسور اور مالوہ کا کسان اتنی بری حالت میں نہیں ہے کہ وہ اپنی کھیتی اپنا گاؤں چھوڑ کر شہر کی طرف بھاگے

اتر پردیش اور مہاراشٹر کے گنا کسان سے لے کر تمباکو کسان کی طرح مندسور کے کسانوں کو ہر سال لہسن، مرچ، پیاز جیسی فصلوں کی قیمت کی جنگ لڑنی پڑتی ہے۔

مندسور کے کسانوں کی جنگ غریبی اور قرض معافی کی لڑائی سے زیادہ ان کی پیداوار کے صحیح قیمت ملنے کی جنگ ہے۔

آر ایس ایس کے گڑھ میں کسان مشتعل کیوں؟

1925 میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے قیام کے وقت سے ہی مندسور اور نیمچ میں سنگھ کا کافی دبدبہ رہا ہے۔

یوگیش دیوان کہتے ہیں کہ جس زمانے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو رہنما ہوا کرتے تھے تب ایک رہنما مندسور سے جیتا تھا۔

مدھیہ پردیش میں بی جے پی حکومت کسانوں کو گزشتہ 13 سال سے سرکاری قیمت میں کچھ بونس دیتی تھی لیکن مرکزی حکومت نے اسے بند کر دیا۔

مندسور میں کسان طے شدہ سرکاری قیمت کے علاوہ قرض معافی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

یوگیش دیوان بتاتے ہیں کہ مدھیہ پردیش حکومت نے مشکل سے پانچ فیصد کسانوں کا قرضہ معاف کیا ہے۔

کسان زیادہ تر کوآپریٹو بینکوں سے قرض لیتے ہیں لیکن وشنو بیراگي کہتے ہیں کہ کسانوں کے لیے کوآپریٹو بینک میں اکاؤنٹ ہونا بھی ایک مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ علاقے کے کسان بتاتے ہیں کہ کوآپریٹو بینکوں میں آنے والی سبسڈی یا مدد بینک پہلے قرض کے عوض میں کاٹ لیتے ہیں اور پھر بچا ہوا پیسہ کسانوں تک پہنچتا ہے ایسے میں کسان نقصان میں ہی رہتا ہے۔