کیا طالبان اب بدل گئے ہیں؟

طالبان
Image caption موسیٰ قلعہ کی مارکیٹ کا ایک منظر۔

`امریکی حملے کے نیتجے میں بے دخل ہونے والے طالبان ایک بار پھر افغانستان پر قبضہ جما رہے ہیں۔ ملک اب بھی حالتِ جنگ میں ہے اور حالیہ دنوں میں کئی خونی حملے کیے گئے۔ جنوب میں اہم قصبے طالبان کے قبضے میں ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار اولیا اطرافی کو شدت پسندوں نے دعوت دی اور کہا کہ وہ چار دن ان کے ساتھ گزار کر ہلمند میں ان کے زیرِ قبضہ علاقوں کی زندگی دیکھیں۔

سنگین نامی قبصے کے مٹی سے بنے ایک احاطے میں دو درجن کے قریب افراد بیٹھے تھے۔ پورے چاند کی رات میں ان کی کالی پگڑیوں کا سایہ ان کے دھوپ میں جھلسے چہروں کو اور بھی تاریک بنا رہا تھا۔

افغان جیلوں میں طالبان کی عدالتیں

اشرف غنی کی طالبان کو دفتر کھولنے کی پیشکش

شدید لڑائی کے بعد طالبان کا قلعہ ذال پر قبضہ

جنوبی افغانستان کے اہم شہر سنگین پر طالبان کا قبضہ

یہ طالبان کے خصوصی دستے ’ریڈ یونٹ‘ کے اہلکار ہیں۔ وہ اپنی ایم فور مشین گنز کو جھولاتے خاموشی سے بیٹھے اپنے کمانڈر ملا تقی کو سن رہے تھے جو انھیں جنگ کی کہانیاں سنا رہے تھے۔ نائٹ وژن سے آراستہ یعنی رات میں دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والی یہ ایم فور گنز کا بھی ایک کمال تھا کہ انھوں نے ہلمند کا 85 فیصد حصہ خود سے کہیں کم مسلح افغان فورسز سے چھین لیا تھا۔

لیکن یہی فتوحات ان طالبان رہنماؤں کے لیے نا قابلِ قبول چیلنج لے کر آئی ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
طالبان کے زیر قبضہ علاقے میں زندگی

جن لوگوں پر اب ان کی حکمرانی ہے وہ ایک دہائی سے زیادہ حکومتی خدمات کے عادی ہیں۔ سکولز، ہسپتال، ترقیاتی کام لوگ ان سب چیزوں کے عادی ہو چکے ہیں۔ تو کیا اب ایک ایسا گروہ جس کا مقصد صرف علاقے پر قبضہ کرنا ہے، وہ اُن کی جگہ لے سکتا ہے جو نظام چلانے کی کوشش کر رہے تھے۔

طالبان کے علاقے میں دورہ ممکن بنانے کے لیے ہمیں مہینوں لگ گئے۔ برسوں بعد کسی بین الاقوامی میڈیا ہاؤس کے صحافی کو ایسی رسائی دی گئی۔ وسط مئی میں ہم موٹر سائیکل پر موجود ایک نوجوان کا پیچھا کرتے ہوئے اس لڑائی کی صفِ اول پار چلے گئے۔ ہم کابل سے ہیرات جانے والے قندھار جانے والی مرکزی سڑک پر قندھار کی جانب چل پڑے۔

طالبان
Image caption طالبان کی سپیشل فورسز اسلحے سے بہترین طور پر لیس ہوتی ہیں۔

افغان نیشنل آرمی کی چوکی کے فوراً بعد وہ لڑکا اچانک بائیں جانب مڑا اور ہائی وے پیچے رہ گئی۔ یہاں کہیں کہیں آبادی تھی۔ اس نے ہمیں دو طالبان محافظوں کے حوالے کر دیا۔ ایک ہمارے ساتھ گاڑی میں بیٹھا جبکہ دوسرا زنبولائی علاقے کی طرف موٹر سائیکل پر ہماری رہنمائی کرنے لگا۔

یہاں طالبان کی خصوصی فوج کے سربراہ ملا تقی ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ وہ اپنے آدمیوں کے ایک گروہ کے ساتھ کھڑے تھے جن کے پاس جدید ہتھیار تھے۔

اس دورے کے دوران ہمارے ساتھ مسلسل طالبان کی میڈیا ٹیم تھی۔

طالبان
Image caption بم حملے میں تباہ ہونے والے سنگین کے ایک پولیس سٹیشن کا منظر۔

ہمیں ایسی کسی چیز کی عکس بندی کی اجازت نہیں تھی جس کا تعلق افیون سے ہوتا۔ اس خطے میں افیون کی تجارت عام ہے۔ افغانستان دنیا بھر کی افیون کا 90 فیصد پیدا کرتا ہے۔ اسی سے طالبان کو فنڈز ملتے ہیں۔

میں نے ان کے میڈیا کے سربراہ اسد افغان کو انگریزی کے تصور ’ایلیفینٹ ان دی رُوم‘ کا مطلب سمجھانے کی کوشش کی۔ تو انھوں نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا اور کہا ’افیون ہماری معاشی ضرورت ہے لیکن ہم بھی اس سے اتنی ہی نفرت کرتے ہیں جتنی کہ آپ کرتے ہیں۔‘

حقیقت یہ ہے کہ منشیات سے حاصل ہونی والی رقم طالبان کے لیے اہم ہے کیونکہ اس سے وہ اسلحہ خریدتے ہیں اور اپنی جنگ کی امداد اکٹھی کرتے ہیں۔

ہم نے طالبان کی انتظامی صلاحیت کا پہلا مشاہدہ وہاں کے بازار میں کیا۔ سنگین میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک شدید لڑائی ہوئی۔ سینکڑوں برطانوی، امریکی اور افغان فوجیوں نے یہاں جانیں گنوائیں اور آخر کار رواں برس مارچ میں یہ طالبان کے ہاتھ آگیا۔

طالبان
Image caption سنگین میں طالبان کے میئر پیٹرول کے کین اٹھائے ہوئے۔

سنگین کا پرانا بازار لڑائی کے دوران تباہ کر دیا گیا تھا۔ ہم اس کے متبادل مقام سے گزر رہے تھے جو ترپالوں اور صندوقوں کا سمندر تھا۔ ایک ٹھیلے پر دو لوگ بحث کر رہے تھے۔

دکان دار حاجی سیف اللہ چلائے ’میں پڑھ نہیں سکتا، مجھے کیسے پتا چلاتا کہ یہ بسکٹ پرانے ہو چکے ہیں؟‘ اس نے پریشانی سے اپنی پگڑی کو ٹھیک کیا۔

دوسرا شخص سنگین کے طالبان کا میئر نور محمد تھا۔ اس نے حاجی سیف اللہ کو تین دن کی قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔

اس کے بعد میئر نے پیٹرول کے کنٹینرز کی جانچ کی کہ آیا وہ صحیح مقدار ڈال رہے ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد ان لوگوں کی تحقیقات کی گئیں جن کا دعویٰ تھا کہ وہ ڈاکرز ہیں لیکن میئر کو شک تھا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔

اس کے بعد ہم موسیٰ قلعہ گئے جو طالبان کا دارالحکومت ہے۔

قلعہ موسٰی افیم کی تجارت کے لیے مشہور ہے لیکن یہ ضلعی تجارت کا گڑھ بھی ہے۔ پاکستان افغانستان کے سرحدی علاقوں سے تاجر یہاں آتے ہیں۔

اس بازار سے آپ موٹر سائیکل، مویشی، آئس کریم اور غیر روایتی اشیا جیسا کے گولہ بارود بھی خرید سکتے ہیں۔

اے کے 47 کی گولیاں یہاں 25 روپے فی گولی مل جاتی ہیں۔ روسی ساختہ مشین گن کی گولیاں 40 روپے فی گولی ملتی تھی لیکن ان کی قیمت کم ہوکر 15 روپے کر دی گئی ہے کیونکہ دکاندار کے بقول ان میں سے بیشتر افغان سکیورٹی فورسز سے قبضے میں لی گئی ہیں۔

تاہم سنگین میں طالبان کی جانب سے صحت، تحفظ اور تجارتی معیار پر توجہ حیران کن تھی اور ابھی موسیٰ قلعہ میں مزید دریافتیں ہماری منتظر تھیں۔ طالبان کا دارالحکومت ہونے کے باوجود یہاں سکول اور ہسپتال کام کر رہے تھے اور ان کی مالی امداد کابل حکومت سے ہی آرہی تھی۔

طالبان
Image caption قلعہ موسیٰ میں موجود نوجوان تاجر۔

قلعہ موسٰی میں حکومت کی جانب سے تعینات تعلیم کے سربراہ عبد الرحیم کا کہنا تھا ’حکومت نے حال ہی میں جائزہ لیا ہے، ہمارے سکول سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہیں، ہماری تنخواہیں جو ایک سال سے رکی ہوئی تھیں اب جاری کر دی گئی ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کے طالبان کو حکومتی معائنہ کاروں سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا اور یہ نظام چل رہا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا ’حکومت نے ہمیں سٹیشنری اور باقی سب چیزیں دیں۔ ہم حکومت کا نصاب پڑھا رہے ہیں اور طالبان کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘

لیکن یہاں سب کچھ اتنا آرام سے نہیں چل رہا۔

امریکی حکومت کے بین الاقوامی امدادی ادارے یو ایس ایڈ کے مطابق افغانستان بھر میں سکولوں جانے والے طلبہ میں سے 40 فیصد لڑکیاں ہیں۔ لیکن قلعہ موسٰی میں ایسا نہیں۔ طالبان کے دارالحکومت میں 12 سال سے زیادہ کی کوئی بھی لڑکی سکول نہیں جاتی۔ لیکن طالبان کے آنے سے بہت پہلے سے ہی یہاں لڑکیاں تعلیم سے محروم تھیں کیونکہ یہ بہت قدامت پسند علاقہ ہے۔

ادھر لڑکوں کے لیے یہاں ناکافی بنیادی سہولیات ہیں۔

ایک طالب علم دادالحق کا کہنا تھا ’ہمارا سکول اچھا چل رہا ہے، تحفظ میں ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس مناسب کتابیں نہیں ہیں۔‘

کسی کے پاس ریاضی کی کتاب نہیں تو کسی کے پاس کیمسٹری کی کتاب نہیں ، سب بچوں کے پاس ایک جیسی کتابیں بھیں نہیں ہیں۔‘

طالبان
Image caption لڑکیاں وہاں صرف پرائمری سکول تک ہی پڑھتی ہیں جبکہ لڑکوں کے لیے آگے پڑھنے کا انتظام بھی موجود ہیں۔

یہاں مجھے ایسا لگا کہ کم از کم طالبان اپنی ماضی کی حکومت کے برعکس تعلیم تک وسیع تر رسائی دے رہے ہیں، کم از کم لڑکوں کے لیے ہی سہی۔ سنہ 2001 سے پہلے دیہی علاقوں میں بہت کم لڑکے سکول جاتے تھے۔ لیکن بسکٹ بیچنے والے حاجی سیف اللہ جیسے تجربات کے بعد دیہی افغانیوں کو اس بات کا احساس ہوا کہ تقلیم ان کے لیے کتنی ضروری ہے۔ انہیں اپنے باپ دادا کی طرح کافر بن جانے کا حوف نہیں رہا تھا۔

بظاہر لگتا ہے کہ اب طالبان کو احساس ہو گیا ہے کہ وہ جدید دنیا کے ساتھ ہمیشہ نہیں لڑ سکتے، اس لیے ان میں کچھ نے اسے اپنی شرائط پر اپنانے کا فیصلہ کر لیا۔

طالبان کے میڈیا کوارڈینیٹر اسد افغان نے اپنا موقف سمجھاتے ہوئے کہا ’آگ نے شاید ہمارا گھر تو جلا دیا ہے لیکن اس نے ہماری دیواریں مضبوط کر دی ہیں۔‘ ان کا مطلب تھا کہ طالبان نے ماضی میں خود کو جدید دنیا سے دور کرنے کی غلطیوں سے سبق سیکھا۔

کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ آزادی کم ہے لیکن طالبان کے آنے سے تحفظ آیا ہے۔ اس علاقے میں ایک عرصے تک فوج اور شدت پسندوں میں لڑائی ہوتی رہی لیکن اب یہاں تجارت میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سابق انتظامیہ کی نسبت وہ طالبان کے خامیوں والے لیکن فوری نظام انصاف کو ترجحیح دیتے ہیں۔ ان کے بقول وہ بدعنوانی اور سرپرستی کا نظام تھا۔

طالبان
Image caption ہلمند میں اب لوگ بجلی کے استعمال کے عادی ہو گئے ہیں۔

ہم نے ضلعی ہسپتال کا بھی دورے کیا، یہ بھی سکول کی طرح ہی حکومتی امداد سے چل رہا تھا لیکن اس کا انتظام طالبان کے ہاتھ تھا۔ یہ ایک لاکھ 20 ہزار افراد کے لیے ہے لیکن یہاں کئی بنیادی سہولیات ہی نہیں ہیں۔ یہاں ایک بھی خاتون ڈاکٹر نہیں اور نہ ہی بچوں کے لیے کوئی معالج۔ یہاں تو سینے کا ایکسرے کروانا بھی ممکن نہیں۔

خواتین مریضوں کے لیے طالبان نے ایک الگ عمارت میں انتظام کیا ہے جہاں عملہ خواتین پر مبنی ہے۔

ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ دہرے نظام کی وجہ سے ذمہ داریوں کا خلا پیدا ہوا ہے اور بدعنوانی کے لیے راستے کھل گئے ہیں۔ ’مجھے چھ ماہ سے تنخواہ نہیں ملی، نہ صرف مجھے بلکہ میرے ہسپتال کے سارے عملے کو۔‘

حکومتی سپروائزر کاغذ پر چیزیں لکھ دیتے ہیں جو حقیقیت میں نہیں ہوتیں۔ ہمارے لیے تین ماہ کے لیے آنے والے اودیات ایک ماہ بھی نہیں نکالتیں کیونکہ طالبان کو دوائیں اپنے لیے چاہیے ہوتی ہیں۔‘

ہم نے صحت کے لیے طالبان سپروائزر عطا اللہ سے پوچھا کے اگر ہم کسی خاتون نرس کا انٹرویو کر سکیں تو انھوں نے اس کے لیے منع کر دیا۔

نرس کے شوہر نے کہا کہ اسے انٹرویو دینے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن عطا اللہ کا کہنا تھا ’تمہارا حق ہے کہ تم اجازت دے دو لیکن میرا فرض ہے روکنا۔‘

ان کا کہنا تھا ’اگر ہم عورتوں کے انٹرویو کی اجازت دے دیں گے تو ہم میں اور حکومت میں کیا فرق رہ جائے گا۔‘

طالبان
Image caption ماضی میں طالبان کے زیرِ قبضہ علاقوں میں ایسے پوسٹرز نظر نہیں آئے۔

چار دن کے قیام کے دوران میں نے خواتین کو یا تو کلینک میں دیکھا یا مردوں کے ساتھ کہیں جاتے ہوئے۔ لیکن یہاں مردوں کی ترجحیح ہوتی ہے کہ عورتیں نظروں سے دور گھروں میں رہیں۔ حتیٰ کے اگر طالبان یہاں نہ بھی ہوتے تو یہ صورتحال شاید مختلف نہ ہوتی۔

یہاں کچھ چیزوں کی حد مقرر ہے۔ موسیٰ قلعہ میں سکیورٹی اور مذہبی وجوہات کی بنا پر موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال پر پابندی ہے۔ ہمارے طالبان میزبان واکی ٹاکی سے بات کرتے تھے۔ عکس بندی کرنا یا موسیقی کے آلات بجانا بھی ممنوع ہے۔ ایک نوجوان نے بتایا کہ اسے بالی وڈ کی فلم دیکھنے پر 40 کوڑے مارے گئے۔

طالبان نے ’بچہ بازی‘ کے خلاف کارروائی کی جو کم عمر نوجوانوں کی رقص کی محفل ہوتی ہے جس کا اختتام جنسی استحصال پر ہوتا ہے۔ انھوں نے ہم جنس پرستی کے خلاف بھی سختی برتی۔ تاہم ایسا بھی لگتا ہے کہ طالبان کا قانونی عمل دباؤ اور رشوت ستانی کا بھی شکار ہے۔

اس حوالے سے تضاد ہے۔ مثلاً ہمیں فلم بنانے (عکس بندی) کی اجازت دی گئی۔ ہم نے ایسے اشتہاری بورڈ دیکھے جن پر دانتوں کے علاج سے متعلق مغربی خواتین کی تصاویر تھیں۔ ماضی میں طالبان ایسی تصاویر پر پابندی عائد کرتے تھے۔

انٹرنیٹ پر پابندی کے باجود کئی جگہوں پر وائی فائی کے ہاٹ سپاٹ تھے جو بیرونی دنیا سے رابطے کا ذریعہ تھے۔

ترکی اور ہندوستانی ڈراموں کے بعض مخصوص مداحوں کے پاس چھوٹے سیٹلائٹ ڈش سے منسلک ٹی وی تھے۔

طالبان
Image caption قلعہ موسیٰ میں طالبان کے زیرِ اثر پلنے والے ان معصوم بچوں کا مسقبل کیا ہوگا؟

میں نے ایک نوجوان سے پوچھا تمہیں ڈر نہیں لگتا کہ طالبان کو پتہ چل جائے گا۔ اس نے کہا کہ 'انھیں ہمارے ٹی وی اور وائی فائی کے بارے میں علم ہے۔ لیکن میرے خیال سے وہ بس انتظار کر رہے ہیں کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔'

وہاں کے سفر میں ہمیں معلوم تھا کہ طالبان ہمارے ساتھ احتیاط سے کام لے رہے ہیں تاکہ ان کا اچھا تاثر قائم ہو۔ اس کے ساتھ ہی سنگین اور موسیٰ قلع ان کے لیے اہم ہے اس لیے وہ مقامی لوگوں کو خوش رکھ رہے ہیں۔ ہمیں پتہ چلا کہ دوسرے مقامات پر طالبان کا کنٹرول زیادہ سخت ہے۔

طالبان کے لیے جدت کے ساتھ مطابقت سیکھنا تکلیف دہ عمل ہے۔ اگر آپ اس کو قبول کرتے ہیں تو آپ مذہبی جواز کھو دیتے ہیں اور اگر اسے آپ مسترد کرتے ہیں تو آپ ایک جزیرہ بن کر رہ جاتے ہیں۔

جب بات گورننس کی آتی ہے تو ان کا سیاسی نظریہ یا اس سے زیادہ اس کی کمی ان کی دکھتی رگ بن جاتی ہے۔ ابتدا سے ہی ان کی توجہ کا مرکز جنگ رہی ہے اور ایسے میں سیاسی سوچ کے پیدا ہونے کی کم ہی گنجائش رہ جاتی ہے۔ ان کی کامیابی ان کی سب سے بڑی دشمن بن گئی ہے۔

اسے ایک سکول کے ہیڈ ماسٹر نے یوں بیان کیا: 'طالبان ہر چیز کو جنگ کی عینک سے دیکھتے ہیں اور وہ جنگ جیتنے کو اپنی زندگی کا واحد مقصد سمجھتے ہیں۔'

میں نے انھیں یاد دلایا کہ طالبان کے ہاں فرمانبرداری کا رواج ہے اور ان میں ڈسپلن ہے تو کیا وہ اس جنگی عقیدت کو سیاسی فن کی جانب مبذول نہیں کر سکتے؟ انھوں نے اپنا سر جھکا لیا، کچھ دیر غور کرتے رہے اور پھر شبہ ظاہر کرنے کے انداز میں سر ہلایا۔ ان کے خیال میں ایسا نہیں ہو سکتا ہے۔

رات کو ہم مقامی طالبان رہنماؤں کے ساتھ کھانا کھاتے اور ان چیزوں پر ان کے ساتھ بات کرتے۔

طالبان
Image caption سنگین کا پولیس ہیڈکواٹر جہاں اب بھی برطانوی دور کی رجمنٹ کا نام استعمال ہوتا ہے۔

ایک شام ایک طالبان رہنما نے ہمیں افغان حکومت کی ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے طالبان کی حکومت میں زندگی بسر کرنے کے فوائد گنوانے کی کوشش کی۔ لیکن مجھے محسوس ہوا کہ وہ جس طرح کی دنیا بنانا چاہتے ہیں وہ انسانی سماج کے لیے بہت زیادہ مطلق ہے۔

میں نے انھیں بتایا کہ معاشرہ بے ترتیب، پیچیدہ اور ہمیشہ بدلتا ہوا رہتا ہے اور اس بات پر حیرت کی کہ اگر کوئی حکومت اسے طے شدہ فریم ورک میں رکھنا چاہے تو وہ کتنی کامیاب ہوگی۔

طالبان رہنما مصور صاحب ناٹے قد کے لمبی داڑھی والے شخص ہیں جن کی آنکھیں نیلی ہیں۔ وہ بضد تھے: 'ہمارا طرز حکومت مقدس کتابوں پر مبنی ہے۔ یہ کسی انسانی سماج کے لیے بہترین حل ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'افغان خود کو نئے ماحول میں ڈھال لینے والے ہوتے ہیں۔ جب ہم نے پہلی بار حکومت سنبھالی تو بہت ہی جلدی لوگ ہماری طرح کے لباس پہننے لگے۔ اور جب امریکی آئے تو وہ امریکیوں کی طرز کا لباس پہننے لگے۔ اس لیے وہ پھر سے ہماری طرز حکومت میں ڈھل جائيں گے۔'

وہ اس خیال کو سمجھ ہی نہیں پا رہے تھے کہ لوگ طالبان کی مخالفت کر سکتے ہیں اور وہ انھیں زبردستی اپنی راہ پر لے آئيں گے۔

افغانستان

حکومت کے زیر انتظام علاقے میں واپس آنے کے بعد میں نے یہ محسوس کیا کہ باغی گروپ کو بیان کرنا بہت سیدھا سادہ نہیں اور وہ اختلاف سے پر ہے۔ طالبان میں نمایاں تبدیلی آئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اپنے ماضی سے چپکے ہوئے ہیں۔ انھیں محسوس ہوتا ہے کہ انھیں جدید دنیا کے ساتھ ڈھلنا ہے لیکن وہ یہ سوچتے ہیں کہ ان کا طریقہ حکومت بہترین ہے۔

جن علاقوں پر ان کا کنٹرول ہے ایسا لگتا ہے کہ وہاں وہ پرامن زندگی فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن دوسری جگہ وہ اپنی خونریز بمباری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا شدید اسلامی مملکت کے قیام کا مقصد نہیں بدلا ہے اور وہ ابھی تک برسرپیکار ہیں کیونکہ وہ خود کو فتح سے ہمکنار ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔

لیکن اب انھیں ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے۔ ان کے کنٹرول والے علاقوں میں لوگ زندگی میں بہتری، ہیلتھ کیئر اور بجلی چاہتے ہیں اور یہ نائن الیون کے بعد افغانستان کی تعمیر نو کے لیے برسنے والے اربوں ڈالر کی مضبوط وراثت ہے۔ طالبان اس سے کیسے نمٹیں گے؟

-

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں