سری لنکا: مسلمانوں پر حملوں کے الزام میں سخت گیر بودھ مذہبی رہنما گرفتار

گنن سارن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سخت گیر تنظیم پر اس سے پہلے بھی 2014 میں مذہبی فسادات بھڑکانے کے الزامت عائد ہو چکے ہیں

سری لنکا میں پولیس نے مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں ملوث ایک بودھ مذہبی رہنما کو گرفتار کیا ہے۔

گرفتار کیے جانے والے 32 سالہ شخص کا تعلق سخت گیر بودھ تنظیم ’بودو بالا سینا‘ سے ہے۔

ان پر مسلمانوں کے خلاف حملے اور آتش زنی کرنے جیسے متعدد الزامات ہیں جس سے ملک میں مذہبی منافرت اور کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

پولیس کے ترجمان پریاناتھا جے کوڈی کا کہنا ہے کہ گذشتہ اپریل سے مسلمانوں کے مکانات، ان کے کاروبار، مساجد اور قبرستانوں میں آگ زنی کے اب تک کے 16 واقعات سے متعلق تفتیش کا عمل جاری ہے۔

انھوں نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ’ہم ایسے جرائم کے خلاف سخت موقف اختیار کر رہے ہیں۔‘

پولیس کا کہنا ہے جس شخص کو حراست میں لیا گیا ہے ان کا کولمبو کے مضافات میں ہونے والی آتشزدگی سے براہ راست تعلق ہے۔ گرفتار کیے گئے مذکورہ شخص کو پوچھ گچھ کے لیے پولیس کی تحویل میں لیا گیا ہے۔

سری لنکا میں مسلم اقلیتوں کو پیٹرول بموں سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور پولیس پر اس سلسلے میں فرار ہونے والے ایک سرغنہ گلاگودتی گنناساران کو نہ پکڑنے پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گننا سارن کا تعلق بود بالا سینا سے ہے جو اس وقت فرار ہیں

پولیس کا کہنا ہے کہ جس شخص کو حراست میں لیا گیا ہے وہ گنناسارن کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک ہیں۔ گنن سارن سخت گیر بودھ مذہبی رہنما ہیں جو گذشتہ مئی سے اس وقت سے لاپتہ ہیں جب سے پولیس نے انھیں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا۔

اس دوران بود بالا سینا کے ایک ترجمان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان کی تنظیم مسلمانوں کے خلاف ہونے والے حملوں میں ملوث نہیں ہے تاہم تنظیم نے حکومت پر یہ کہہ کر نکتہ چینی بھی کی ہے کہ وہ بودھوں کی اکثریت والے ملک میں اسلامی شدت پسندی کو بڑھاوا دے رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک دو عشرے میں ہی سری لنکا میں بدھ مت کے ماننے والوں کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔

اس سخت گیر تنظیم پر اس سے پہلے بھی 2014 میں مذہبی فسادات بھڑکانے کے الزامت عائد ہو چکے ہیں، اس دوران چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں