انڈیا میں حکومت کا 31 لاکھ کسانوں کے قرضے معاف کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مہاراشٹر میں کسان قرضوں معافی کے لیے 11 دنوں سے تحریک چلا رہے تھے

انڈیا کی ریاست مہاراشٹر حکومت نے کسان رہنماؤں سے ملاقات کے بعد کسانوں کے قرض معاف کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔

حکومت کے عوامی کاموں وزیر چدركات پاٹل کے مطابق حکومت کے فیصلے سے 31 لاکھ کسانوں کو فائدہ ہوگا۔ کل 30،500 کروڑ روپے کا قرض معاف کیا جا رہا ہے۔

* ’کسانوں کی موت کو روکو‘

* مدھیہ پردیش کے کسان پرتشدد کیوں ہوا

جن کسانوں کے پاس پانچ ایکڑ سے کم زمین ہے ان قرض معاف کیا جا رہا ہے۔ باقی کسانوں کے قرض کو لے کر 23 جولائی تک فیصلہ کیا جائے گا۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسان نئے قرض لے سکیں گے۔

چدركات پاٹل نے کہا، ’وفد سے بات چیت کے بعد سارے کسانوں کو قرض معافی دینے کی تجویز کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن جو چھوٹے کسان ہیں ان کا سارا قرض اسی وقت سے معاف کر دیا گیا ہے، وہ کل سے نئے قرضے کے لیے بینکوں میں درخواست دے سکتے ہے۔

پاٹل نے کہا، ’ حالانکہ حکومت نے قرض معافی کا فیصلہ کیا ہے، لیکن قرض انہی کسانوں کا معاف کیا جائے گا جو ذریعہ معاش کے لیے مکمل طور کاشتکاری پر انحصار کرتے ہیں۔ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جن کسانوں کے پاس پانچ ایکڑ سے کم زمین ہے ان قرض معاف کیا جا رہا ہے

مہاراشٹر حکومت نے دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ دودھ کی نئی قیمتوں کا اعلان دو دن کے اندر اندر کیا جائے گا۔

کسانوں نے حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ کسانوں کی تنظیم کے صدر رگھوناتھ دادا پاٹل نے کہا، ’آج کسانوں کی صحیح معنوں میں فتح ہوئی ہے. ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘

مہاراشٹر میں کسان قرضوں معافی کے لیے 11 دنوں سے تحریک چلا رہے تھے جس سے حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔

اسی سال اپریل میں یوپی کی نئی حکومت نے 36000 کروڑ روپے کا کسانوں کا قرض معاف کیا تھا جس کے بعد دیگر ریاستوں میں بھی کسان قرض معافی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ایسے ہی مطالبات کو لے کر مدھیہ پردیش میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں جہاں پولیس فائرنگ میں چھ کسان ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں