رمضان کھانوں کی بہار کا مہینہ

افطار تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دہلی کی تاریخی جامع مسجد میں دور دور سے لوگ افطار کرنے آتے ہیں

ماہ صیام کی رعنائیوں میں روزہ افطار و سحری کا ایک مخصوص کردار ہے۔ کھانوں کی لذت ہمارے حواس پر چھا جاتی ہے اور گھر کی خواتین نت نئے پکوان کی تیاریوں میں لگ جاتی ہیں۔

افطار کا دسترخوان فن ذائقہ کا بہترین نمونہ ہے گو اس میں موسم کے لحاظ سے غذائيں تیار کی جاتی ہیں۔

اس مہینے کی بہار کا کیا کہنا۔ زہد و تقوی اپنی جگہ لیکن یہ مہینہ اجتماعی طور پر ایک دوسرے کو قریب لاتا ہے۔

افطار کے سامان سے سجے تھال ہمسایوں، قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے گھر بھیجے جاتے ہیں جبکہ بازاروں میں ظہر کی نماز کے بعد ہی افطار کے سامان بنانے کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں اور دکانیں انواع و اقسام کے پکوانوں سے سج جاتے ہیں۔

٭ سورت میں کھاؤ پیو، کاشی میں مرو

٭ ’سجی کی لذت اس کے سادہ پن میں ہی ہے‘

افطار کے کچھ اصول ہیں جن پر اگر عمل کیا جائے تو رمضان واقعی صحت مند زندگی کا عملبردار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مختلف کنبے کے لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر افطار کرتے ہیں

دن بھر خالی پیٹ رہنے کے سبب شوگر کی سطح کو بحال کرنا ضروری ہے اس لیے کھجور سے روزہ کھولنا بدن میں قدرتی شکر پیدا کرتا ہے۔

نمک سے افطار کرنا بھی اتنا ہی مفید ہے۔ موسم گرما میں نمک کی کمی کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ جسم کو چکناہٹ کی ضرورت ہوتی ہے پروٹین کی کمی کو پورا کرنا ہے، پیاس بجھانی ہے۔ لیکن افطار کے ساتھ ہی مشروبات سے پیٹ بھر لینا عقل مندی کا سودا نہیں۔

روزہ کشائی کے مرغن کھانوں کے بعد رات کے کھانے کی گنجائش نہیں رہ جاتی اس لیے ضروری ہے کہ افطار کا دسترخوان ہلکی غذاؤں پر مبنی ہو اور رات کا کھانا ترک نہ ہو۔

رمضان کھانوں کی بہار کا بھی مہینہ ہے۔ جو پکوان ہم سال بھر نہیں بناتے ہیں رمضان کے مہینے میں بنائے جاتے ہیں۔ اب افطار پارٹیاں عام ہیں اور ہر کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کی دعوت دوسروں کی دعوت سے بہتر ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption لبنان کے شہر بیروت میں افطار کے کٹورے تیار کیے جا رہے ہیں

شاید دو چار صورتیں اب بھی کہیں نہ کہیں ایسی ہوں گی جنھوں نے دہلی کے مسلمانوں کا نصف صدی پہلے کا تمدن دیکھا ہو جب رمضان المبارک کا اہتمام بڑے چاؤ سے کیا جاتا تھا۔

خواتین نے ظہر کی نماز ادا کی اور دالیں بھگو دیں تاکہ تین چار گھنٹوں میں ان کی سختی دور ہو جائے۔ عصر کے بعد خواتین باورچی خانے میں گھس جاتیں اور غریب سے غریب گھروں میں بھی افطار کی تیاریاں بڑے لگن سے ہوتیں۔

اس کے نتیجے میں روزہ کا مشکل وقت کام میں باآسانی گزر جاتا اور افطار کا دسترخوان دہی بڑے، دالیں، پھلکیوں، قلمی بڑے، پتے پالک، فیرنی، شربت کے کٹورے، تازہ موسمی پھلوں اور چاٹ وغیرہ سے بھر جاتے۔

سب سے پہلے افطار کا حصہ مسجد میں بھیجا جاتا تھا یا کسی غریب کو دیا جاتا تھا۔ مسجد میں ہر گھر سے آنے والے افطار کے سامان کو ملا دیا جاتا اور پھر انھیں تقسیم کیا جاتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption افطار سب سے پہلے مسجد میں بھیجا جاتا تھا

چھوٹے چھوٹے بچے افطاری لیتے ہی چلاتے ہوئے یہ کہتے بھاگتے:

'روزہ والی روزہ کھولو'

اب سحری کا ذکر کرتے ہیں۔ اس وقت نہ الارم تھا نہ موبائل فون کی گھنٹی بجتی تھی۔گھر گھر سحری کے لیے جگانے والے ڈنڈا بجا کر آواز لگاتے: سحری کو اٹھو، غفلت چھوڑو۔‘

ان سحری میں جگانے والوں کی بھی دلچسپ کہانی ہے۔ مشرق وسطی میں یہ گلے میں ڈھول لٹکائے قرآن شریف کی آیتیں پڑھتے لوگوں کو گہری نیند سے جگاتے۔

کہا جاتا ہے کہ خلفائے عباسی کے عہد حکومت میں مصرکے خلیفہ الناصر نے سحری کے لیے جگانے کا یہ طریقہ اختیار کیا تھا۔

مصر کے حاکم عطیہ ابن اسحاق بذات خود یہ نیک کام انجام دیتے اور ثواب کماتے۔ قاہرہ کی گلیوں میں باآواز بلند کہتے تھے۔ نیند کے متوالو اٹھو، نہیں تو عبادت کا وقت نکل جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption افطار میں موسمی پھلوں کا بہت استعمال ہوتا ہے

مجھے بخوبی یاد ہے کہ بمبئی کی گلیوں میں بھی سحری کے لیے اٹھانے والے زور زور سے دروازے پر دستک دیتے اور آواز لگاتے: سحری کو اٹھو، نیند سے جاگو، سحری کو اٹھو۔

دور حاضر میں یہ روایتیں کھو گئیں جن میں ایک رومان ہوتا تھا، گلیوں میں رونق ہو جاتی تھی اور گھروں کے چراغ روشن ہو جاتے تھے۔ رمضان کے اختتام پر سحری کے لیے جگانے والے اپنا انعام لینے کے لیے گھر گھر پہنچ جاتے۔

گلاب یادو اترپردیش کے مبارک پور کے باسی ہیں، وہ سال کے گیارہ مہینے دہلی میں کام کرتے ہیں اور رمضان کے لیے اپنے گاؤں چلے جاتے ہیں جہاں وہ لوگوں کو سحری کے لیے جگانے کا کام کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے یہ کام شروع کیا تھا اور ان کے بعد ان کے بڑے بھائی اور وہ اس کام کو پوری لگن سے انجام دیتے ہیں۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں اور مذہبی ہم آہنگی کی مثال قائم کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption عام طور پر افطار کی ابتدا کھجور سے کی جاتی ہے

عصرحاضر میں دہلی کی جامع مسجد کے گرد و نواح میں رمضان واک کا آغاز بھی ایک دلچسپ قدم ہے۔ لوگ بڑے شوق سے اس میں شامل ہوتے ہیں اور افطار کے روایتی کھانوں کا لطف اٹھاتے ہیں۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں