کابل ٹرک حملے میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں ہے: سراج الدین حقانی

افغان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان سپاہی کابل میں ٹرک بم کے دھماکے سے تباہ ہونے والی عمارت کے باہر کھڑا ہے

افغانستان میں ایک جانب جہاں حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حالیہ جان لیوا کابل حملوں کے پیچھے کون تھا، افغان طالبان تحریک کے نائب امیر سراج الدین حقانی نے پشتو میں دیے گئے ایک غیرمعمولی آڈیو بیان میں وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کی تحریک اس واقعہ میں ملوث نہیں تھی۔

11 منٹ کے اس آڈیو بیان میں سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ کابل شہر میں ٹرک حملے اور بعد میں ایک جنازے پر حملے میں ان کی اسلامی امارات کا ہاتھ نہیں تھا۔ 'ہم ایسا کوئی کام نہیں کرتے جس سے عام لوگوں کو نقصان پہنچے۔'

کابل کے سفارتی علاقے میں بم دھماکے میں 80 ہلاک

’حقانی نیٹ ورک نہ ہمارے دوست ہیں اور نہ پراکسی‘

کابل کے ایک بازار میں 31 مئی کی صبح کو ہونے والے ٹرک حملے میں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے مطابق ڈیڑھ سو عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے دو روز بعد ایک جنازے پر حملہ ہوا جس میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان دونوں حملوں کی ذمہ داری کسی بھی شدت پسند تنظیم نے آج تک قبول نہیں کی ہے جوکہ افغانستان میں جاری جنگی حالات میں غیرمعمولی بات ہے۔ اکثر اوقات شدت پسند تنظیمیں بڑھ چڑھ کر ایسے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں۔

تاہم افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس نے ٹرک حملے کے سلسلے میں شک کی انگلی حقانی نیٹ ورک کی جانب اٹھائی تھی اور شاید یہی وجہ ہے کہ سراج الدین حقانی کو معمول سے ہٹ کر یہ طویل وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا ہے۔

اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم جس نے افغانستان اور پاکستان میں دولت اسلامیہ خراسان کا نام اختیار کیا ہوا ہے، ان حملوں ہر مکمل طور پر خاموش ہے۔ بعض میڈیا چینلز نے ابتدا میں اس کا نام لیا لیکن بعد میں واضح ہوا کہ وہ درست دعوے نہیں تھے۔

ٹرک حملے کے چند گھنٹوں بعد دولت اسلامیہ کے حلقوں کی جانب سے اس کی مذمت ہوئی۔ یہ بیانات بھی سادہ الفاظ کی شکل میں سوشل میڈیا پر جاری ہوئے ان کے سرکاری ذرائع سے نہیں۔ تنظیم کا موقف ہے کہ وہ یہ اکاؤنٹ صرف ذمہ داریاں قبول کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں تردید کے لیے نہیں۔ بعض حلقے دولت اسلامیہ کی صلاحیت کے بارے میں بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ وہ اتنی بڑی مقدار میں دھمکہ خیز مواد حاصل نہیں کرسکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹرک حملے کے بعد کابل میں شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف مظاہرے کیے

اس کے ملوث نہ ہونے کی ایک بڑی دلیل اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہ کرنا بتاتے ہیں۔ دولت اسلامیہ نے عوام میں اپنی مقبولیت کا کبھی خیال نہیں رکھا۔ اگر وہ حملہ کرتی ہے تو اسے قبول بھی کرتے ہے۔ جس علاقے میں حملہ ہوا ایک انتہائی محفوظ اور سفارتی علاقہ ہے۔ یہ بات بھی شاید دولت اسلامیہ کو جواز تراشنے میں مدد دیتی۔

کابل میں جرمن سفارت خانے کے قریب ہونے والے اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ اسی لیے ان حملوں کے بعد کابل کے رہائشی شہر کی سڑکوں پر کئی روز سے حکومت اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف مسلسل احتجاج بھی کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق افغان طالبان اور داعش کے علاوہ 20 کے قریب دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔ اس میں القاعدہ بھی شامل ہے لیکن اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کے بعد سے یہ اتنی متحرک نہیں رہی ہے۔

لیکن افغان حکام پاکستانی تنظیموں جیسے جیش محمد اور لشکر جھنگوی کی ان کے ملک میں سرگرم ہونے کا الزام بھی عائد کرتے رہتے ہیں لیکن ان قدرے چھوٹی تنظیموں نے ماضی میں اس قسم کے بڑے حملے وہاں نہیں کئے ہیں۔

افغان حکام نے پاکستان پر بھی شک ظاہر کیا تھا لیکن اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا اور وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز دونوں انہیں مسترد کرچکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سراج الدین حقانی کے والد جلال الدین حقانی تھے جو کہ طالبان کے دور حکومت میں وزیر سرحدات تھے

سابق طالبان وزیر برائے سرحدات جلال الدین حقانی کے بیٹے سراج الدین حقانی کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں پاکستان نے کہنا شروع کیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اب پاکستان میں موجود نہیں ہے۔ بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ کابل ٹرک حملے کی طالبان کی جانب سے لاتعلقی نہیں بلکہ مذمت سامنے آئی تھی لیکن ایسے بڑے حملے کی صلاحیت بھی انہی کے پاس ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایک کروڑ ڈالرز کی سر کی قیمت والے سراج حقانی کے تازہ پیغام سے افغانستان کی تاریخ کے بدترین حملوں میں سے ایک قرار دیئے جانے والے کابل حملے کا معمہ حل نہیں بلکہ بظاہر مزید گنجلک ہوگیا ہے۔

سراج حقانی پر پاکستان کے انتہائی قریب ہونے کا بھی الزام ہے لہذا اپنے بیان میں دو تین مرتبہ انہوں نے بیرونی امداد نہ ملنے کا دعوی کیا ہے۔ وزیرستان میں پاکستانی فوجی کارروائی کے نتیجے میں اپنی جگہ کھونے کے بعد اس بیان کی ضرورت شاید سراج حقانی کی جانب سے مستقبل کے سیاسی دھارے میں اپنے لیے جگہ بنانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں