شرمیلی دلہن کے 'فرسودہ تصور' کو چیلنج کرنے والی ویڈیو

دلھن تصویر کے کاپی رائٹ COOLBLUEZ
Image caption امیشا بھاردواج کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کہانی خود لکھنا چاہتی تھیں

'صرف دولہے ہی سارے مزے کیوں کریں؟' یہ کہنا ہے امیشا بھاردواج کا جن کی شادی کی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے اور اسے یو ٹیوب پر 60 لاکھ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔

اس ویڈیو میں امیشا نیكر اور عروسی جوڑے کے بلاؤز میں رقص کرتی نظر آ رہی ہیں اور 'چیپ تھرلز' کے گانے کو گنگناتی بھی نظر آرہی ہیں۔

امیشا کو یقین نہیں ہو رہا ہے کہ ان کا ویڈیو وائرل ہو گئی۔ انہوں نے کہا: 'ویڈیو کے وائرل ہونے پر میں اب تک حیرت زدہ ہوں کیونکہ اس میں تو صرف اتنا ہی تھا کہ اپنی شادی کے دن دلہن موج مستی کر رہی ہے۔ یہ عجیب بھی نہیں۔'

٭ پانچ ارب روپے کی شادی پر لوگوں کی برہمی

٭ لڑکی نے شادی کے منڈپ سے دولھے کو اغوا کر لیا

لیکن یو ٹیوب پر امیشا کے ویڈیو پر ڈھیروں لوگ كمینٹس کر رہے ہیں، بطور خاص ان کے لباس اور ان کی پسند اور نغمے کی دھن پر۔

امیشا کہتی ہیں: 'میرا خیال ہے کہ میری ویڈیو اس روایتی سوچ سے مختلف ہے جس میں ہندوستانی دلہنوں کو شرم اور حیا کی مورت سمجھا جاتا ہے، وہ رقص نہیں کر سکتی ہے۔ جس طرح کے کپڑے میں نے پہنے ہیں، ویسے کپڑے نہیں پہن سکتی ہے۔‘

امیشا کے مطابق: 'بھارتی دلہن کے متعلق یہ سوچ صدیوں سے چلی آ رہی ہے، دلہن ہنسے نہیں اور جب رخصت ہو تو روئے۔ لیکن آج کی دلہن اپنی کہانی خود لکھ رہی ہے۔

ابھی حال تک انڈیا میں شادی کا ویڈیو بنانے میں کافی محنت درکار ہوتی تھی اور یہ بہت تھکا دینے والا عمل تھا۔ ويڈيوگرافر شادی کی تمام تقاریب کو شوٹ کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ COOLBLUEZ
Image caption امیشا کا کہنا کہ ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کتنی پراعتماد خاتون ہیں

لیکن اب بالی وڈ کے گانوں پر رقص کی ویڈیو بنائی جانی عام ہے اور اس میں دلہنیں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔

امیشا کہتی ہیں: میں نے دانستہ طور پر ویڈیو کومختلف نہیں بنایا۔ لیکن اب میں سوچتی ہوں تو کہتی ہوں میرے تحت الشعور میں اعتماد تھا کہ میں جو چاہوں کروں۔

اور یہ اعتماد اس بات سے آتا ہے کہ میں کون ہوں۔ جدید انڈیا کی نوجوان خاتون۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ دلہنوں سے شرمیلی ہونے کی امید کیوں کرتے ہیں جبکہ دلہوں کو رقص اور شراب نوشی کے ساتھ ہر قسم کی موج مستی کی اجازت ہوتی ہے۔ وقت بدل رہا ہے۔ اور دلہنیں بھی بدل رہی ہیں اور لوگوں کو اس بات کو تسلیم کر لینا چاہیے۔

امیشا کے ویڈیو پر ہونے والے تبصرے سے یہ ظاہر ہے کہ لوگ اس تبدیلی کو قبول کر رہے ہیں۔ بہت سے تبصرے تعریفی ہیں جبکہ بعض ایسے بھی ہیں جس میں انھیں ہندوستانی ثقافت کو 'برباد' کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

شادی کا ویڈیو بنانے والے سپريت کور اور پون سنگھ کا خیال ہے کہ ہندوستانی دلہنیں اب بدل رہی ہیں۔ پون سنگھ کہتے ہیں: 'دس سال پہلے جب ہم نے شادی کے ویڈیو بنانی شروع کی تھیں تب دلہنیں خوبصورت اور پتلی نظر آنا چاہتی تھیں، لیکن اب زیادہ تر نیا نیا تجربہ کرنا چاہتی ہیں۔

سپريت کور کہتی ہیں؛ 'دلہنیں اب یہ محسوس کر رہی ہیں کہ شادی ان کی زندگی کا سب سے اہم واقعہ ہے۔ لہٰذا وہ جیسی ہیں ویسی بنی رہنا چاہتی ہیں۔'

پون سنگھ کے مطابق گذشتہ دس سالوں میں انڈیا کافی بدلا ہے، زیادہ سے زیادہ خواتین اب جاب میں آ رہی ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'امیشا اکیلی نہیں ہیں، آپ تلاش کریں تو آپ کو ایسے بہت سے ویڈیوز مل جائیں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ COOLBLUEZ
Image caption سپريت کور اور پون سنگھ گذشتہ دس سالوں شادی کے ویڈیوز بناتے آ رہے ہیں

ایسی ہی ایک دلھن ايشیتا گردھر بھی ہیں جو رخصتی کے وقت نہیں روئيں۔

ان کا کہنا ہے کہ 'شادی خوشی کا موقع ہوتا ہے اس لیے میں نے رقص کرنا منتخب کیا اور جو میرے پاس تھے ان اس میں شامل کیا۔ '

گردھر کے مطابق بالی وڈ کی فلمیں اور ٹی وی سیریلز کے سبب لوگوں کی سوچ روایتی ہے۔

وہ کہتی ہیں: 'فلموں میں دلہن کو شرملي دکھایا جاتا ہے، تو لوگوں کو لگتا ہے کہ دلہن ایسی ہی ہونی چاہیے۔'

مننمیتا کمار نے بھی شادی کے دوران شوہر کے ساتھ رقص کرتے ہوئے اپنا ویڈیو تیار کرایا تھا۔ مننمیتا کہتی ہیں: 'اگر آپ شرم و حیا کی پیکر ہیں تو وہی رہیں۔ لیکن کسی روایتی سوچ کے لیے خود کو مت بدلیے۔'

لیکن ہر دلہن کو ایسا کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ سپريت کور کہتی ہیں کہ چھوٹے شہروں اور کئی بار بڑے شہروں میں بھی لڑکیوں کے پاس آزادی نہیں ہوتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ COOLBLUEZ
Image caption مننمیتا ایسی خواتین کی حمایت کرتی ہیں جو تنگ نظری کے خلاف لڑ رہی ہیں

سپريت بتاتی ہیں: 'ایک بار ایک کلائنٹ نے میرے ساتھ کام کرنے سے منع کردیا کیونکہ وہ خاتون کیمرہ پرسن پر اعتماد نہیں کر سکتا تھا۔ اور ایک بار ایک دولہے نے شوٹ کو اس لیے منسوخ کردیا کیونکہ دلہن تنہا ویڈیو کے لیے تیار ہو گئی تھی۔ '

سپريت کہتی ہیں کہ تبدیلی تو آ رہی ہے لیکن ہر دلہن اپنی شادی کے دن اپنی مرضی کے لحاظ سے رہے ویسے دن کے لیے ابھی طویل سفر درکار ہے۔

امیشا یہ بھی کہتی ہیں کہ وہ ایسا ویڈیو اس لیے بنا پائیں کیونکہ ان کے شوہر کو اس سے کوئی پریشانی نہیں تھی۔

ان کے شوہر پرنب ورما کہتے ہیں کہ انھیں تو پتہ ہی نہیں چلا کب امیشا نے یہ ویڈیو شوٹ کی۔ پرنب کے مطابق ان کی بیوی کے ویڈیو سے دلہے کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ دلھن کے متعلق روایتی سوچ اب تبدیل ہو رہی ہے۔

امیشا کہتی ہیں: 'ہم نے روایتی سوچ کو تبدیل کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں