بنگلہ دیش میں طوفانی بارشیں اور مٹی کا تودہ گرنے سے 135 ہلاک

بنگلہ دیش تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بنگلہ دیش میں حکام کا کہنا ہے کہ طوفانی بارشوں کے باعث ملک کے جنوب مشرقی کوہستانی علاقے میں مٹی کے تودے گرنے کے واقعے میں مرنے والوں کی تعداد 135 ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق مرنے والوں میں پانچ فوجی بھی شامل ہیں۔

چٹاگونگ کے کوہستانی علاقے میں متاثرہ مقامات پر امدادی کام جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سینکڑوں افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں جبکہ امدادی کارکنوں کو دور دراز کے علاقوں تک پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔

سمندری طوفان مورا کی تباہ کاریاں

سمندری طوفان :تقریباً 10 لاکھ افراد محفوظ مقامات پر منتقل

امدادی کارروایئوں میں بھی بارش کی وجہ سے خلل پڑ رہا ہے۔ مواصلات اور بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے۔

ابھی تک تقریبا چار ہزار افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا ہے۔ خیال رہے کہ شدید بارش سے منگل کو مٹی کے تودے گرنے کے واقعات رونما ہوئے تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے ادارے برائے ڈزاسٹر مینجمینٹ کے سربراہ ریاض احمد نے کہا کہ ’ہم کئی متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ بارشیں رکیں گی تو ہمیں اس تباہی کا درست اندازہ ہو سکے گا اور اس کے بعد امدادی کارروائیاں کی جائیں گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سب سے زیادہ متاثر ضلع رنگامتی ہے اور اس کے اہم شہر کا راستہ ملک کے باقی حصوں سے منقطع ہے۔

رنگامتی ضلعے کی انتظامیہ کے ترجمان نے بتایا کہ صرف ان کے ضلع میں 100 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

فوج کے ترجمان نے بتایا کہ رنگامتی میں چند فوجی ایک مٹی کا تودہ گرنے کے بعد راستہ صاف کر رہے تھے جب ان پر ایک اور تودہ گر گیا۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق بنگلہ دیش میں مون سون کی شدید بارشوں کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 134 ہے۔

اے پی پی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے تین بچے بھی شامل ہیں۔

امدادی کارکنوں کے چٹاگانگ میں دور دراز علاقوں تک پہنچنے کے بعد پولیس نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ پولیس کے مطابق ٹیلی فون اور آمد و رفت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔

بارشوں کی وجہ سے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ اور دوسرے اہم شہر چٹاگانگ میں بھی ٹریفک میں خلل پڑا ہے۔

گذشتہ ماہ آنے والے سائیکلون مورا سے آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے تھے جبکہ دس لاکھ افراد کو احتیاطی وجوہات کی بنا پر ان کے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں