کشمیری لڑکی کی ’نمدا رولنگ مشین‘

ذوفا اقبال تصویر کے کاپی رائٹ Majid jahangir
Image caption نمدا رولنگ مشین بنانے کا خیال ذُوفا کو دو سال پہلے آیا.

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سری نگر کے لال بازار کی رہنے والی 17 سال کی ذُوفا اقبال نے 'نمدا رولنگ مشین' بنا کر کامیابی کی نئی داستاں لکھی ہے۔

نمدا گھر کے فرش کی سجاوٹ کے کام آتا ہے جو گدّے یا میٹرس کی شکل کا ہوتا ہے.

نمدا رولنگ مشین بنانے کا خیال ذُوفا کو دو سال پہلے آیا.

ذُوفا اقبال بتاتی ہیں: ’جب میں سری نگر کے پریزنٹیشن کانونٹ سکول میں تھی تو ایک پروگرام کے سلسلے میں مجھے ایک پراجیکٹ بنانا تھا. ہم لوگ کشمیر یونیورسٹی گئے تو انھوں نے کہا کہ آپ کوئی ایسی چیز بنائیں جس سے لوگوں کو بھی فائدہ ہو . اس کے بعد میں نے ٹی وی پر نمدوں کی صنعت سے منسلک ایک ڈاکومنٹری دیکھی۔ اس طرح میں نے نمدا مشین پر کام کرنا شروع کیا۔‘

ذُوفا کہتی ہیں کہ جب انھوں نے اس منصوبے پر کام کرنا شروع کیا تو انھیں معلوم نہیں تھا اسے کیسے مکمل کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Majid jahangir
Image caption ذُوفا اقبال

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے سب سے پہلے اسے کارڈ بورڈ پر بنایا. پھر میں ان لوگوں کے پاس گئی جو نمدا بناتے ہیں. اسے مکمل طور سمجھا اور اس پر کام شروع کیا۔‘

ہاتھ سے بنائے جانے والے نمدا میں قریب پانچ گھنٹے کا وقت لگتا ہے لیکن ذُوفا کا دعویٰ ہے کہ جو مشین انھوں نے بنائی ہے اس سے کافی کم وقت میں نمدا بنایا جا سکتا ہے۔

اس نمدا رولنگ مشین میں موٹر لگی ہوتی ہے جو بجلی سے چلتی ہے۔ نمدے کا خام مال تیار کر کے اس رولنگ مشین میں ڈال دیا جاتا ہے، پھر تیار نمدا مشین سے نکل آتا ہے۔

ذُوفا کو ہر جگہ مقابلوں میں ججوں کے سامنے اس مشین سے تیار نمونے دینے پڑے ہیں.

تصویر کے کاپی رائٹ Majid jahangir
Image caption ذُوفا کے والد شیخ احمد اقبال کہتے ہیں کہ انھیں اپنی بیٹی پر ناز ہے۔

ان کے بقول ’ایسا میرے ساتھ کئی بار ہوا جب لوگوں نے مجھ سے کہا گیا کہ پتہ نہیں تم کس خيالی دنیا میں رہتی ہو اور ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے. لیکن میرا بچپن سے یہ خواب تھا کہ میں کچھ ایسا کروں کہ ایک دن تمام مجھے اخبارات اور ٹی وی پر دیکھیں اور میں نے اب ایسا کر دکھایا ہے۔‘

ذُوفا کو اس کارنامے پر متعدد ایوارڈز بھی ملے ہیں۔ ان میں سال 2016 میں ملنے والا اے پی جے عبدالکلام ایوارڈ بھی شامل ہے۔

ذُوفا کے والد ایک کاروباری شخص ہیں اور انھوں نے ہمیشہ اپنی بیٹی کو اپنے خوابوں کو عملی شکل دینے میں مدد کی ہے۔

ذُوفا کے والد شیخ احمد اقبال کہتے ہیں کہ انھیں اپنی بیٹی پر ناز ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Majid Jahangir
Image caption ذُوفا کو اس کارنامے پر متعدد ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔

لڑکیوں کے آگے آنے کے حوالے سے ذُوفا کہتی ہیں کہ ’وہ زمانہ گیا جب سمجھا جاتا تھا کہ لڑکیاں کچھ نہیں کر سکتی ہیں. اب نہ صرف کشمیر میں بلکہ پوری دنیا میں لڑکیاں آگے بڑھ رہی ہیں۔‘

سرینگر میں کرافٹ ڈیزائن انسٹیٹیوٹ سے منسلک یاسر احمد کہتے ہیں کہ ذُوفا نے جو مشین بنائی ہے وہ کشمیر میں اپنی قسم کی پہلی مشین اور اس مشین سے اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو ضرور فائدہ ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں