افغانستان میں جنگ، ناخواندگی اور امیدیں

Afghan school
Image caption ٹیچ افغانستان لڑکیوں کو بھی تعلیم کے برابر مواقع دینا چاہتا ہے

قوم کے ہونہار گریجویٹس کو ملک کے دور دراز علاقوں میں استاد بنا کر بھیجنے کے خیال پر امریکہ اور برطانیہ میں عمل کیا گیا جہاں یہ طریقہ کار ’ٹیچ امریکہ‘ اور ’ٹیچ فرسٹ‘ کے نام سے اپنایا۔ لیکن یہی طریقہِ کار ایک ایسے ملک میں کیسے کارگر ثابت ہوگا جہاں چار دہائیوں سے جاری جنگ کی وجہ سے نظامِ تعلیم ہی بکھر چکا ہو۔

اس سوال کا جواب افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں مل رہا ہے جہاں افغان یونیورسٹیوں سے گریجویشن کرنے والے 80 طلبا رواں تعلیمی سال کے آغاز سے ’ٹیچ فار افغانستان‘ یعنی افغانستان کے لیے پڑھاؤ نامی سکیم کے تحت 21 سکولوں کے 23000 لڑکے لڑکیوں کو پڑھا رہے ہیں۔

* یہودی سب سے زیادہ اور مسلمان کم ترین تعلیم یافتہ قوم

* ’آگ نے گھر تو جلایا مگر دیواریں مضبوط کر دیں‘

اس سکیم اس کے بانی اور چیف ایگزیکٹو 26 سالہ رحمت اللہ ارمان کے خواب کی تعبیر ہے جنہوں نے سماجی اصلاح کا چیلنج لیا۔

ارمان انڈیا کی پونے یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے سنہ 2011 میں افغانستان واپس آئے۔ وہاں انھوں نے ’ٹیچ فار انڈیا‘ پروگرام کے لیے رضا کارانہ طور پر کام کیا تھا۔

انڈیا کے سکولوں میں آنے والی تبدیلی سے متاثر ہو کر انھوں نے فیصلہ کیا کہ ایسا ہی کچھ وہ گھر لوٹ کر وہاں بھی کریں گے۔ لیکن اس سے پہلے انھیں خود بھی یہ سمجھنا تھا کہ افغانستان کے تعلیمی نظام اور سماجی تانے بانے میں کیا کچھ بچا ہے۔

وہ حیران بھی ہوئے اور متاثر بھی۔ امریکی حمایت کے ساتھ 14 سالہ تعمیر نو کے باوجود افغانستان میں 36 لاکھ بچے سکول نہیں جا رہے تھے، نصف اساتذہ کے پاس قابلیت نہیں تھی، 75 فیصد طلبا کو 15 سال کی عمر کے بعد سکولوں سے ہٹا دیا جاتا اور 60 فیصد بالغ افراد ان پڑھ تھے۔

ارمان کا کہنا تھا ’میرے لیے سب سے بڑی تحریک یہی تھی کہ جب میں سکول گیا تو وہاں نہ کرسیاں تھیں، نہ ڈیسک تھے اور کبھی تو اساتذہ بھی نہیں ہوتے تھے لیکن سکول پھر بھی بچوں سے بھرے رہتے تھے۔‘

’میں نے خاندانوں کو اپنے بچے سکول لاتے ہوئے دیکھا حتیٰ کہ ایسی جگہوں پر بھی جہاں کسی بھی وقت دھماکہ ہوسکتا تھا۔ ان تمام سکیورٹی خدشات کے باوجود جن کے بارے میں ہم سب آگاہ تھے 90 لاکھ بچے سکولوں جاتے تھے۔‘

’میں نے لوگوں میں امید دیکھی، ہار نہ ماننے کی لگن۔ انھوں نے اپنا مستقبل کھو دیا تھا لیکن شاید ان کے بچوں کا مستقبل ابھی باقی تھا۔‘

ارمان کو اس بات کا یقین ہے کہ وہ ان بچوں کو نہ صرف تعلیم دیں گے بلکہ بہت اچھی تعلیم دیں گے اور کسی غیر سے نہیں بلکہ افغانوں ہی ہاتھوں۔

Image caption رحمت اللہ ارمان نوجوان با صلاحیت نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کر رہے ہیں

اسی مقصد کے لیے انھوں نے سنہ 2013 میں عالمی تنظیم ’ٹیچ فار آل‘ کے تعاون سے ٹیچ فار افغانستان نامی سکیم شروع کی۔

ارمان نے اساتذہ کے لیے اعلیٰ معیار رکھا۔ ملازمت کے لیے نہ صرف ڈگری درکار تھی بلکہ 75 فیصد نمبر اور لیڈرشپ کا تجربہ اور اظہار خیال کی مہارت بھی لازمی قرار دی۔

ارمان کا کہنا تھا ’ایک بہت حیران کن چیز ہوئی۔ 80 ملازمتوں کے لیے 3000 درخواستیں آئیں۔ سب کے سب معیار کے مطابق تھے۔ ان میں سے 99 فیصد نے افغان یونیورسٹیز سے تعلیم حاصل کی تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جلا آباد ننگر ہار کا ایک سکول جہاں نہ کرسی ہے اور نہ ہی عمارت

لڑکیوں کی تعلیم

یہ بھی اہم تھا کہ ان میں سے کئی خواتین ہوتیں تاکہ یہ مثال پیش کی جا سکتی کہ ایک لڑکی تعلیم یافتہ ہوسکتی، ایک اچھی ملازمت کر کے، شادی کر سکتی ہے اور بچے بھی پیدا کر سکتی ہے۔

روایتی افغان معاشرے میں محض پڑھنا لکھنا سیکھ جانا لڑکیوں کے لیے کافی تعلیم سمجھی جاتی ہے۔ ’ٹیچ افغانستان‘ کا نظریہ الگ ہے۔

ارمان کہتے ہیں ’یہ سوچ بدلنے کی بات ہے اور یہ طویل المدتی عمل ہے۔‘

مثال کے طور پر ایک استانی منظورہ نے سنا کہ اس کی دو 14 اور 15 سال کی طالبات کو ان کے والدین سکول سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے والدین سے کہا کہ وہ ان سے آکر ملیں۔ ان کی والدہ سکول آئیں، پڑھائی دیکھی، اساتذہ سے بات کی اور گھر لوٹ گئیں۔ ایک طویل بات چیت کے بعد انھوں نے لڑکیوں کو تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

کیا افغانستان میں جاری تشدد کی وجہ سے ارمان کو اپنے تحفظ کا خوف ہے۔ ارمان کہتے ہیں ’درحقیقت نہیں، کیونکہ ہم مقامی سطح پر کام کرتے ہیں، ہمارے علاقے کے بڑوں اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔‘

’ہم نے جب سے کام شروع کیا ہے ہم پر ایک بھی حملہ نہیں ہوا، نہ کسی ساتھی پر نہ سکول اور نہ طالبِ علموں پر۔‘

شروع میں اگر کچھ اساتذہ یا حکام نے ’ٹیچ فار افغانستان‘ کو اپنا حریف سمجھا بھی تھا تو وہ بہت جلد ان کے ساتھی بن گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گذشتہ ماہ غزنی میں لڑکیوں کے ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا جہاں بتایا گیا کہ لڑکیوں کو زہر دی گئی

شدت پسندی سے نمٹنا

یہاں کے اساتذہ کو بھی اتنی ہی تنخواہ ملتی ہیں جتنی سرکاری اساتذہ کو ملتی ہے یعنی 9000 افغانی۔ ارمان اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ اچھی تنخواہ نہیں ہے۔ ’لیکن ہم نے انھیں قائل کیا ہے کہ ان کا مستقبل اچھا ہے۔ جو محض ایک تنخواہ ہی نہیں ہوگا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا اپنی دو سال کے معاہدے کے دوران انھیں لیڈر شپ کی تربیت اور کئی دوسرے مواقع حاصل کرنے کی تربیت دی جائے گی۔

ارمان سمجھتے ہیں کہ افغانستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں کی صلاحتیوں کو پہچاننے میں ہے۔ ’دنیا میں سب سے زیادہ نوجوان آبادی افغانستان میں ہے اور یہی ہمارا سب سے بڑا اثاثہ بن سکتے ہیں۔‘

ارمان سمجھتے ہیں کہ تعلیم ہی وہ مؤثر ذریعہ ہے جو شدت پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ انھوں نے پاکستان کی تعلیم کے لیے سرگرم ملالہ یوسفزئی کا قول دہرایا ’میں دہشت گردوں کو مارنا نہیں چاہتا، میں ان کے بچوں کو پڑھانا چاہتا ہوں۔‘

وہ کہتے ہیں: ’یہ میرے ملک میں دہشت گردی ختم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔‘

ملالہ فنڈ کی مدد سے ’ٹیچ افغانستان‘ نے مزید 30 اساتذہ بھرتی کیے ہیں جن میں 20 خواتین جبکہ 10 مرد ہیں۔ انھوں نے پروان صوبے میں رواں ماہ سے پڑھانا شروع کیا ہے۔

ارمان کو امید ہے کہ تمام 34 صوبوں میں اساتذہ مہیا کری گے۔ ’اس کے لیے قومی سطح تک جانے کی ضروت ہے، ضرورت بہت بڑی ہے اور ہم اسے پورا کریں گے۔ ‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں