چین مغوی شہریوں کی پاکستان میں تبلیغی سرگرمیوں کی تحقیقات کرے گا

چین تصویر کے کاپی رائٹ EPA

چین کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر ان اطلاعات کی تحقیقات کرے گا کہ گذشتہ ماہ اغوا کیے جانے والے دو چینی باشندے پاکستان میں تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔

یہ بات چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے دارالحکومت بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتائی۔

’لاشیں ملنے تک ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کر سکتے‘

شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع پر چینی تشویش

کوئٹہ سے دو چینی باشندے اغوا کر لیے گئے

24 سالہ زنگ یانگ اور 26 سالہ خاتون مینگ لی سی کو کوئٹہ سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا اور حال ہی میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے انھیں ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی ہے۔

پاکستانی فوج نے ان کے اغوا کے بعد بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں دولتِ اسلامیہ سے منسلک شدت پسندوں کے خلاف آپریشن بھی کیا تھا جس میں 12 شدت پسند ہلاک کیے گئے تھے۔

پاکستانی حکام نے تاحال ان کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ لاشیں ملنے تک مصدقہ طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ دونوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاشوں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں لو کانگ نے کہا کہ چین کو اپنے دو باشندوں کے مبینہ طور پر قتل کیے جانے کی اطلاعات کے بارے میں شدید تشویش ہے لیکن ابھی تک حکومت پاکستان نے ان کی موت کے بارے میں تصدیق نہیں کی ہے۔

'ہم پاکستان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ اس سلسلے میں حتمی تصدیق جلد سے جلد کی جا سکے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'چین اور پاکستان کے حکام ایک دوسرے کے قریبی رابطے میں ہیں اور ہم پاکستان کی ان دونوں مغویوں کو رہا کرانے کی کوششوں اور چینی شہریوں اور اداروں کا پاکستان میں تحفظ فراہم کرنے کے عزم کا اعتراف کرتے ہیں۔'

لو کانگ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ مختلف ممالک میں جانے والے چینی باشندوں کو تنبیہ کریں گے کہ وہ ان ملکوں کی ثقافتی اقدار اور ملک کے قوانین کی پاسداری بھی کریں اور کسی بھی خطرے کے بارے میں آگاہی رکھیں۔'

چینی باشندوں کے تبلیغی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار سے منسوب ایک بیان میں سامنے آئی تھیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ ان افراد کو بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے نے کاروباری ویزا جاری کیا تھا تاہم انھوں نے اس کا غلط استعمال کیا۔

اس واقعے کے بعد وزیرِ داخلہ نے ملک میں مختلف منصوبوں پر کام کرنے کے لیے آنے والے چینی باشندوں کا ڈیٹا بینک بنانے کا حکم بھی دیا ہے اور تیاری کے بعد یہ ڈیٹا بینک ملک کی تمام سکیورٹی ایجنسیوں کو بھیج دیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں