کشمیریوں کا مسلکی اتحاد کا انوکھا مظاہرہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ق کشمیر اور جموں کے بعض علاقوں میں شیعہ آبادی کا تناسب کل ملا کر دس فی صد ہے

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے بڈگام علاقے میں مقامی شیعہ اور سنی آبادی نے ایک ہی مسجد میں نماز پڑھنے کا فیصلہ کیا۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان تازہ کشیدگی کے بارے میں انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں سنی اور شیعہ دونوں حساس ہیں۔ دونوں فرقوں کے علمائے دین آج کل مسلکی اتحاد کو مزید مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ ضلع بڈگام کے ماگام علاقے کے لوگوں نے عبادات کے لیے ایک ہی مسجد کو مخصوص کرکے اس اتحاد کا ایک نادر مظاہرہ کیا۔

Image caption ماگام میں شیعہ اور سنی فرقوں سے تعلق رکھنے والے سبھی شہریوں نے ایک ہی مسجد میں نمازوں کا اہتمام کیا ہے

ماگام میں شیعہ اور سنی فرقوں سے تعلق رکھنے والے سبھی شہریوں نے ایک ہی مسجد میں نمازوں کا اہتمام کیا ہے۔ یہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ یہ اقدام انھوں نے دنیا میں شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان بڑھ رہی کشیدگی کے بعد اس لیے اُٹھایا ہے کہ کشمیر کی شیعہ اور سنی آبادی مسلکی منافرت کا شکار نہ ہوجائے۔

ماگام کی عالیشان تین منزلہ جامع مسجد میں شیعہ، سنی اور دوسرے فرقوں سے وابستہ سبھی مسلمان نہ صرف ایک ساتھ نماز پڑھتے ہیں بلکہ آج کل ایک ساتھ افطار بھی مشترکہ ہوتا ہے۔

Image caption یہ مسجد پوری دنیا کے لیے اتحاد، رواداری اور بھائی چارہ کی مثال بن جائے گی: سید ریاض شیرازی

مقامی شعیہ عالم حامد حسین موسوی کہتے ہیں ’ظاہر ہے کشمیر چھوٹی جگہ ہے۔ ہم نہیں کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی بڑا کام کیا ہے۔ لیکن اتحاد اور بھائی چارہ کا یہ مظاہرہ ہمیں باہر سے آنے والی منافرت کی فضا سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔‘

علاقے کے سُنی امام سید ریاض شیرازی کا کہنا ہے کہ ’اگر یہ چھوٹی سی کوشش صرف کشمیر میں ہی مسلکی اتحاد کو یقینی بناسکے تو یہ مسجد پوری دنیا کے لیے اتحاد، رواداری اور بھائی چارہ کی مثال بن جائے گی۔‘

مقامی لوگ بھی اتحاد کے اس نایاب مظاہرے سے مطمئین ہیں۔ ماگام کے شہری جاوید عباس کہتے ہیں کہ انھیں احساس ہے کہ مشرق وسطی میں جو کچھ ہورہا ہے وہ مستقبل قریب میں کوئی بڑا طوفان برپا کرنے والا ہے۔ ’ہم نہیں چاہتے کہ یہاں کے لوگ اس طوفان کا شکار ہوکر ایک دوسرے کی گردنیں کاٹیں۔‘

Image caption اتحاد اور بھائی چارہ کا یہ مظاہرہ ہمیں باہر سے آنے والی منافرت کی فضا سے محفوظ رکھ سکتا ہے: شیعہ عالم حامد حسین موسوی

مردم شماری کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق کشمیر اور جموں کے بعض علاقوں میں شیعہ آبادی کا تناسب کل ملا کر دس فی صد ہے، تاہم ماہرین کہتے ہیں شیعہ علما اور مبلغین کا کشمیر کی سیاسی، مذہبی اور ثقافتی تارِیخ میں اہم کردار رہا ہے۔ لداخ، کرگل اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر گلگت بلتستان خطوں میں شیعہ اکثریت میں ہیں۔

شعیہ رہنما مولانا عباس انصاری اور آغاحسن بڈگامی علیحدگی پسند تحریک کے اہم رہنماوں میں سے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ گذشتہ ستائیس سال سے کشمیر میں محرم کے دوران عاشورہ کے جلوس پر پابندی ہے، اور جب بھی شیعہ عزادار جلوس نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تو پولیس ان کا لاٹھی چارج کرتی ہے۔ سُنی رہنما یاسین ملک عزاداری کی محفلوں میں ہر سال شریک ہوتے ہیں۔

مبصرین کہتے ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث دونوں فرقوں کے بیچ جو کشیدگی پائی جاتی ہے، ماگام کی مسجد ہونے والا یہ انوکھا مظاہرہ اس کشیدگی کے خلاف اتحاد اور بھائی چارہ کا پیغام ہے۔

Image caption مشرق وسطی میں جو کچھ ہورہا ہے وہ مستقبل قریب میں کوئی بڑا طوفان برپا کرنے والا ہے:جاوید عباس

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں