انڈین وزارت داخلہ نے سپین اور مراکش کی سرحدی تصویر کو انڈیا کی سرحد بنا دیا

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Alt Website

سپین اور مراکش کے درمیان سرحد کی تصویر کو پاکستان سے متصل انڈین سرحد پر روشنیوں کی تصویر قرار دے کر شائع کرنے پر انڈیا کی وزارتِ داخلہ کا سوشل میڈیا پر مذاق اڑایا جا رہا ہے۔

اولٹ نیوز ویب سائٹ نے بدھ کو ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ انڈیا کی وزارت داخلہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں یہ تصویر استعمال کی ہے جس کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر فلڈ لائٹسں لگائی گئی ہیں۔

سرحد پر انڈین پرچم کیوں نہیں لہرا رہا؟

انڈیا کا سرحدوں پر سمارٹ باڑ لگانے کا منصوبہ

تاہم ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ یہ تصویر اصل میں 2006 میں سپین کے فوٹوگرافر ژاویئر مویانو نے کھینچی تھی۔

ویب سائٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے اس غلطی کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption شیکھر گپتا نے ٹویٹ کیا: ’اولٹ نیوز کی جانب سے عمدہ طریقے سے حقائق کو چیک کیا۔ کیوں بی ایس ایف کو تصویر کے لیے کہا جائے جب انٹرنیٹ سے تصویر چوری کی جا سکتی ہے‘

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو ماضی میں بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے غلط یا فوٹو شاپ ہوئی تصاویر سرکاری پریس ریلیزوں اور رپورٹس میں استعمال کیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

انڈیا کی سرکاری پریس انفارمیشن بیورو نے 2015 میں ایک ٹویٹ میں فوٹو شاپ کی گئی تصویر چھاپی جس میں نریندر مودی چنئی میں آنے والے سیلاب کا سروے کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption وزارت داخلہ کی غلطی سپین مراکش کی سرحد کو پاکستان انڈیا کی سرحد کے طور پر دکھا دی۔

این ڈی ٹی وی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ سیکریٹری داخلہ راجیو مہریشی نے حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔ ’اگر یہ وزارت کی غلطی ہے تو ہم معافی مانگیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ’بے سروپا! کیا مودی حکومت میں سب کچھ نقلی ہے؟ وزارت داخلہ کی رپورٹ میں سپین مراکش سرحد کو انڈیا کی سرحد پر لائٹنگ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔‘

واضح رہے کہ انڈیا نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پر سمگلنگ اور مبینہ دراندازی روکنے کے لیے فلڈ لائٹس نصب کی ہیں۔

وزارت کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پر 647 کلومیٹر کے علاقے پر فلڈ لائٹس لگائی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ غلط تصویر سالانہ رپورٹ میں کیسے چھپ گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں