’عوامی گروہ کو مشتعل ہجوم میں تبدیل کر نے میں سوشل میڈیا کا بڑا ہاتھ‘

مشتعل ہجوم
Image caption مشتعل ہجوم کے واقعات کے پیچھے افواہوں کا اہم کردار ہوتا ہے

انڈین ریاست جھارکھنڈ کے جمشید پورعلاقے میں اتم کمار کے تین بھائیوں کو پیٹ پیٹ کر قتل کا معاملہ ہو یا پھر راجستھان کے الور میں پہلو خان کا قتل۔

ان تمام معاملات میں بھیڑ کو اکسانے کا کام سوشل میڈیا کے ذریعہ ہی ہوا تھا جھارکھنڈ میں ہونے والے واقعات کے پیچھے صرف افواہوں کا ہی اہم کردار رہا ہے۔

ریاست کے سینئر پولیس افسران کا دعوی ہے کہ ان واقعات کے بعد تشدد کے مزید واقعات ہوئے جس کے بعد ضلعی انتظامیہ کو انٹرنیٹ کی سروسز کو بند کرنا پڑا۔

اسی طرح جب جب وادی کشمیر میں تشدد بھڑکتا ہے ، انتظامیہ کا سب سے پہلا قدم ہوتا ہے انٹرنیٹ سروسز کو بند کرنا۔

انتظامیہ اور پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ امن و قانون کو برقرار رکھنے میں 'سوشل میڈیا' ایک بڑا چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ زیادہ تر پُرتشدد واقعات کے پیچھے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی نفرت ہوتی ہے۔ ہجوم والی سوچ سوشل میڈیا کی دین ہے۔

کیونکہ گزشتہ چند ماہ کے دوران دیکھنے میں آیا ہے کہ تشدد پر آمادہ ہجوم کو اکسانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جاتا رہا ہے چاہے وہ 'فوٹوشاپ' کے ذریعہ تیار کی گئی اشتعال انگیزتصاویر ہوں یا پھر لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے والی پوسٹ ہوں۔

'سائبر کرائم' کی ماہر وکیل انوجا کپور کہتی ہیں کہ ایسا نہیں کہ صرف ان پڑھ ہی 'سوشل میڈیا' کے چکر میں پھنس جاتے ہیں بلکہ اس طرح پھیلائی جانے والی افواہوں کا شکار پڑھے لکھے لوگ زیادہ ہو رہے ہیں۔

انوجا کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسے قانون نہیں بن پائے ہیں جن کے ذریعہ اس طرح افواہیں پھیلانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جا سکے۔

ان کا خیال ہے کہ صرف 'انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ' کے ذریعہ سوشل میڈیا پر زہر پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی، اس کے لیے اور بھی اقدامات کئے جانے چاہیں جس میں پولیس کے ساتھ ساتھ دوسری تنظیموں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم میں پولیس اور تحقیقاتی ایجنسیاں انٹرنیٹ کے ذریعہ کیے جانے والے فراڈ کے کیسز میں ہی زیادہ مصروف رہتیں ہیں جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعہ اشتعال پھیلانے والوں پر قانونی کاروائی نہیں کی جاتی۔

دہلی میں تعینات بھارتی پولیس سروس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں اور لوگوں کو اکسانے والے عناصر کے خلاف اس لیے کارروائی نہیں ہو پاتی ہے کیونکہ پتہ ہی نہیں لگ پاتا ہے کہ ان سب کے پیچھے کون ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Gau Raksha Dal website
Image caption ستیش کمار گؤ رکھشک ہیں اور پنجاب میں سرگرم ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر اور فیس بک پر اگر کچھ اشتعال انگیز مواد آتا ہے تو پھر بھی کچھ کارروائی کرنا ممکن ہو جاتا ہے جبکہ واٹس ایپ تو ایک 'كلوذڈ گروپ' ہے جہاں اس کا پتہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون اشتعال انگیز تصاویر یا پوسٹ ڈال رہا ہے۔

مشتعل ہجوم نے ملک کے مختلف حصوں میں کئی لوگوں کی جان لی ہے اور اس کے خلاف مہم چلانے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کے گروہوں کو مشتعل ہجوم میں تبدیل کر نے میں 'سوشل میڈیا' کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔

ندیم اختر ایسے ہی کارکنوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں مشتعل ہجوم کا شکار ہونے والوں پر معلومات جمع کرنے کا کام کیا ہے۔

وہ ایسے لوگوں کے خاندانوں کو انصاف دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ندیم اختر کہتے ہیں کہ جمشید پور میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں اتم ورما کے بھائیوں کے قتل میں بھی 'سوشل میڈیا' نے اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ ’واٹس ایپ' اور فیس بک پر کئی دنوں سے ماحول بنایا جا رہا تھا۔

اسی طرح سرائے کیلا كھرساوا ضلع کے شوبھاپور علاقے میں جس ہجوم نے شیخ نعیم، سجاد، شیخ حلیم اور سراج خان کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا اس واقعہ سے پہلے بھی معاملے کو سوشل میڈیا کے ذریعہ ہی کئی دنوں تک بھڑکایا گیا تھا۔

ندیم اختر کہتے ہیں 'پہلو خان ہریانہ کے کسان تھے جو راجستھان کے الور ضلع میں جانوروں کے میلے سے دودھ دینے والی گائے خرید کر لا رہے تھے۔ واٹس ایپ کے ذریعہ نفرت پھیلائی گئی اور ان کے قتل کے بعد واٹس ایپ کے ذریعہ ایسی مہم چلائی گئی جس سے ان کے قتل کو جائز قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ انہیں گائے کے سمگلر کے طور پر دکھایا جا رہا تھا جبکہ یہ سچ نہیں تھا۔‘

متعلقہ عنوانات