کابل: شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد میں ’دھماکہ‘، ہلاکتوں کا خدشہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکام کے مطابق حملہ شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد میں ہوا ہے (فائل فوٹو)

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل میں اقلیتی شیعہ مسلمانوں کے اکثریتی علاقے کی ایک مسجد میں دھماکہ ہوا ہے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ ’دہشت گردی کا واقعہ‘ الزہرا نامی مسجد میں پیش آیا ہے۔

پولیس نے بی بی سی کے ہارون نجفزادہ کو بتایا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں تین افراد جن میں اہلکار اور ایک یونٹ کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ان کے علاوہ 10 دیگر افراد زخمی ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ یہ حملہ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ حملہ افطار کے وقت ہوا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ مسجد میں عبادت کی غرض سے چند اعلیٰ حکام نے بھی آنے تھا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر افغانستان کی وزارت داخلہ کہ ترجمان نجیب دانش کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اسے اس ہال تک پہنچنے سے روکا گیا جہاں نماز ادا کی جا رہی تھی۔

جس کے بعد حملہ آور نے کچن میں ہی دھماکہ سے کر دیا۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ دھماکے کے بعد شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی حالیہ دنوں میں کابل کو ایسی ہی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

کابل کے ایک بازار میں 31 مئی کی صبح ایک ٹرک حملہ ہوا تھا جس میں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے مطابق ڈیڑھ سو عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے دو روز بعد ہی ایک جنازے پر حملہ ہوا جس میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں