1993 ممبئی دھماکے: عدالت نے ابو سلیم سمیت چھ افراد کو قصوروار قرار دے دیا

ابو سلیم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ابو سلیم کو پرتگال سے انڈیا لایا گیا تھا

انڈیا کے شہر ممبئی میں سنہ 1993 میں ہونے والے بم دھماکوں کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ابو سلیم سمیت چھ ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔

ٹاڈا کی خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں ابو سلیم کو مجرمانہ سازش میں شامل ہونے کا قصوروار پایا ہے۔ اس کے علاوہ انھیں دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کا بھی قصوروار پایا گیا ہے۔

ان کے علاوہ طاہر مرچنٹ، محمد دوسا، فیروز عبدالراشد خان اور كريم اللہ کو عدالت نے بم دھماکے کے لیے مجرم قرار دیا ہے۔

عدالت اس معاملے کے کل سات ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت کر رہی تھی جن میں سے ایک کو بری کر دیا گیا ہے۔

سنہ 1993 کے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے کا سب سے پہلا اور اہم فیصلہ 2006 میں آیا تھا۔

اس وقت عدالت نے 123 ملزمان میں سے 100 کو سزا سنائی تھی اور 23 کو باعزت بری کر دیا گیا تھا۔ جن ملزمان کو سزا سنائی گئی تھی ان میں فلم اداکار سنجے دت بھی شامل تھے۔

اسی فیصلے میں یعقوب میمن کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ یعقوب 1993 کے دھماکوں میں مطلوب ٹائیگر میمن کے بھائی تھے۔ یعقوب کو 30 جولائی 2015 کو مہاراشٹر کے يروڈا جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 1993 میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں میں 257 افراد ہلاک اور تقریبا 700 سے زخمی ہوئے تھے

تاہم ان سات ملزمان کا فیصلہ تب نہیں ہو پایا تھا۔ دراصل سنہ 2006 میں ٹاڈا کی عدالت نے اس کیس کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ ایک حصہ ’اے‘ اور دوسرا ’بی‘ ہے۔

عدالت کو ایسا اس لیے کرنا پڑا کیونکہ ان سات ملزمان کو سنہ 2002 کے بعد بیرونی ممالک سے انڈیا کے حوالے کیا گیا تھا جبکہ کیس کی سماعت 1995 سے چل رہی تھی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ان ساتوں کی سماعت بھی اگر ساتھ میں ہو گی تو فیصلہ آنے میں اور تاخیر ہوگی اس لیے ان سات ملزمان کے خلاف سماعت الگ سے شروع کی گئی۔

سنہ 1993 میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں میں 257 افراد ہلاک اور تقریباً 700 سے زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے اس کے لیے مافیا ڈان داؤد ابراہیم اور ٹائیگر ممین کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا جو آج تک فرار ہیں۔

یہ بم دھماکے سنہ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی میں ہونے والے مسلم مخالف فسادات کے بعد ہوئے تھے جس میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان ہلاک ہوئے تھے۔

فسادات کے رد عمل میں ہونے بم دھماکوں کا مقدمہ تو اپنے انجام کو پہنچا اور لوگوں کو سزائیں بھی ہوئیں لیکن ان فسادات کے دوران ایک ہزار افراد کو قتل کرنے والوں میں سے آج تک کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں