کشمیر: سکیورٹی فورسز کا گھیراؤ، ایک شخص ہلاک

سری نگر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سری نگر میں مظاہرہ (فائل فوٹو)

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں سری نگر سے جنوب کی جانب 35 کلومیٹر دُور بیج بہاڑہ علاقے میں جمعے کی صبح ہزاروں مظاہرین اُس مکان کے نزدیک جمع ہو گئے جہاں فوج کے مطابق کئی شدت پسندوں کا محاصرہ کیا گیا تھا۔

تصادم کے دوران مظاہرین نے شدید نعرے بازی کی اور فورسز پر پتھراؤ کر کے محصور شدت پسندوں کا گھیرا توڑنے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین کے مطابق اس کے جواب میں فوج، نیم فوجی اہلکاروں اور پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس، چھرے اور گولیاں برسائیں جس کے باعث درجنوں افراد زخمی ہوگئے اور محمد اشرف نامی نوجوان مارا گیا۔

تصادم اب بھی جاری ہے۔

فوج کو شبہ ہے کہ بیج بہاڑہ کے آروانی گاوں میں لشکر طیبہ کے دو یا تین اعلیٰ کمانڈر محصور ہیں تاہم ابھی تک کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس واقعے کے فوراً بعد حکام نے وادی میں پھر ایک بار انٹرنیٹ کی فراہمی معطل کر دی۔

مسلح تصادموں کے نزدیک مظاہروں کا رجحان چند برس قبل شروع ہوا تھا، تاہم گذشتہ برس جولائی میں معروف مسلح رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد اس میں شدت آگئی ہے۔ گذشتہ چار ماہ کے دوران بھارتی فوجی سربراہ جنرل بپن راوت اور مقامی پولیس کے سربراہ شیش پال وید نے واضح الفاظ میں لوگوں کو متنبہ کیا تھا کہ مسلح تصادموں کے دوران فوجی آپریشنوں میں خلل ڈالنے والوں کو شدت پسندوں کے سہولت کار سمجھ کر ان کے سخت کارروائی کی جائے گی۔

پولیس ذرائع کے مطابق فوجی سربراہ کی وارننگ کے بعد سے اب تک ایسا 15 سے زیادہ مرتبہ ہوا ہے کہ لوگوں نے محصور شدت پسندوں کو بچانے کے لیے گولیوں اور چھروں کا سامنا کیا ہے۔ دو سال کے دوران ایسے مظاہروں میں ایک خاتون سمیت دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Image caption شہزاد صوفی کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی

دریں اثنا جمعرات کو سری نگر کے رنگریٹ علاقے میں مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک ہوگیا۔ سری نگر ہی میں جمعرات کو ایک پولیس پارٹی پر نامعلوم اسلحہ برداروں نے ایک پولیس اہلکار شہزاد صوفی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جبکہ حملے میں ایک اور اہلکار زخمی ہو گیا۔

اُدھر کولگام میں جمعرات کو نامعلوم حملہ آوروں نے شبیر احمد نامی پولیس اہلکار کو قتل کر دیا۔ ابھی تک کسی مسلح گروپ نے ان ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ میں جب پولیس اہلکار شہزاد کی لاش پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا۔ مقامی نوجوان اعجازالحق نے بتایا کہ پولیس اہلکار کے جنازے میں شامل ہزاروں لوگوں نے انڈیا مخالف مظاہرے کیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں