کیا عبادت کے لیے لاؤڈ سپیکر ضروری ہے؟

لاؤڈسپیکر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں زیادہ تر مذہبی عمارتوں پر لاؤڈسپیکر نظر آتے ہیں

اترپردیش کے مغربی شہر بریلی میں کئی مسلم اور ہندو شہریوں نے مقامی انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ رمضان کے اس مہینے میں سحری کے وقت روزے داروں کو جگانے کے لیے لاؤڈ سپیکروں کے استعمال پر پابندی لگا دے۔

حکام نے متعلقہ مسجدوں کے منتطمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ لاؤڈ سپیکروں کی آواز معقول حد تک کم کر دیں ورنہ ان عبادت گاہوں سے لاؤد سپیکرز ہٹا دیے جائیں گے۔

٭ ’ہماری سرکار ہے نماز ادا کرنےنہیں دیں گے‘

٭ سونو نگم سو رہے ہیں!

سپریم کورٹ نے لاؤڈ سپیکروں کے استعمال کے لیے ایک رہنما اصول متیعن کیا ہے۔ اس کے تحت اس کی آواز کی ایک حد طے کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک لاؤڈ سپیکروں کے استعمال پر پابندی عائد ہے کیونکہ آئین کی دفعہ 21 کے تحت پر سکون نیند سونا انسان کے بنیادی حقوق کے دائرے میں شامل ہے۔

ایک شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ ان کے والد دل کے مریض ہیں۔ گذشتہ برس ان کا آپریشن ہوا ہے۔ لاؤڈ سپیکروں کے شور شرابے سے ان کے والد اور 73 برس کی والدہ کئی راتوں سے سو نہیں سکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خواہ وہ مندر ہو یا مسجد، کسی کو بھی دوسرے کا سکون غارت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

گذشتہ دنوں کیرالہ سے خبر آئی ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت والے خطے ملاپورم میں بعض مسجدوں نے اذان کے لیے رضا کارانہ طور پر لاؤڈ سپیکرز کا استعمال بند کر دیا ہے تاکہ مقامی لوگوں بالخصوص غیر مسلموں کو تکلیف نہ پہنچے۔

ابھی کچھ عشرے پہلے تک یہاں مولویوں میں یہ بحث چھڑی ہوئی تھی کہ لاؤڈ سپیکر پر آذان دینا اسلامی ہے یا غیر اسلامی۔ آج انڈیا کی لاکھوں مسجدوں میں شاید ہی ایسی کوئی مسجد ہو جہاں لاؤڈ سپیکرز نہ لگے ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لاؤڈسپیکر انڈیا میں شور کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے

سال کے گیارہ مہینوں میں تو صرف آذان لاؤڈ سپیکرز پر دی جاتی ہے لیکن رمضان کے مہینے میں تو بہت سی مسجدوں سے لاؤڈ سپیکر پر تراویح اور نمازیں بھی نشر کی جاتی ہیں۔ صبح تین بجے سے ہی لاؤڈ سپیکروں سے روزے داروں کو پوری طاقت سے جگانے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

مندروں میں صبح ہوتے ہی لاؤڈ سپیکروں پر بھجن کیرتن اور پروچن (وعظ) شروع ہو جاتے ہیں۔ مذہبی مسابقت اور ٹکراؤ کے اس دورمیں لاؤڈ سپیکروں کی آواز اور تعداد بڑھتی گئی ہے۔

لاؤ ڈسپیکر اب مذہبی ٹکراؤ اور نفرت کا ایک اہم ذریعہ بن گئے ہیں۔ ان کا استعمال ملک کی اکثریت کے لیے ایک وبال بن گیا ہے۔ آج کی پیچیدہ اور بھاگتی زندگی میں مذاہب اور روحانیت کی اہمیت پہلے سے بڑھ گئی ہے لیکن عبادتگاہوں میں لاؤڈ سپیکروں کے استعمال نے روحانیت کی پرسکون فضا کو بے پناہ شور سے منتشر کر دیا ہے۔

مذاہب امن و محبت کا پیغام دیتے ہیں۔ لاؤڈ سپیکروں کی آوازوں کے شور میں یہ پیغام تو کہیں کھو گیا ساتھ ہی آبادیوں کا امن وسکون بھی درہم برہم ہو گیا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ مساجد اور دوسری عبادتگاہیں اس حقیقت کو سمجھیں کہ مذہب اور روحانیت کی خدمت لاؤڈ سپیکر کے بغیر بہتر طریقے سے انجام دی سکتی ہے۔ اگر لاؤڈ سپیکر سے شہریوں کو تکلیف پہنچ رہی ہے تو پھر اسے ہٹا دینا ایک انسانی اور مذہبی فریضہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں