مودی تحائف کا انتخاب کیسے کرتے ہیں

تاج محل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تاج محل دیکھنا دنیا بھر سے آنے والے بیشتر سیاحوں کی شاید پہلی پسند ہے

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گذشتہ دنوں بہار کے دورے پر کہا تھا کہ انڈیا آنے والے مہمانوں کو تحفے میں تاج محل یا دوسرے میناروں کا نمونہ دینا ہندوستانی تہذیب سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

انھوں نے اس ضمن میں وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا 'پہلی بار ہم نے دیکھا ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم جب باہر جاتے ہیں یا کوئی سربراہ مملکت انڈیا آتا ہے تو وہ انھیں گیتا اور رامائن تحفے میں دیتے ہیں۔'

خیال رہے کہ 'رامائن' اور 'گیتا' ہندوؤں کی مقدس کتابیں ہیں۔ انھوں نے یہ بات بہار کے معروف شہر دربھنگہ میں ایک خطاب کے دوران کہیں۔

بہار میں برسراقتدار جماعت آر جے ڈی کے ترجمان منوج کمار جھا نے یوگی آدتیہ ناتھ کی تاریخ کی فہم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا 'یہ ان کی تاریخ کی کج فہمی ہے جو وہ تاج محل کو غیر ہندوستانی سمجھتے ہیں۔'

٭ ایرانی رہنماؤں کے لیے نریندر مودی کے تحائف

ہندوستان کے معروف اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق بہار میں دوسری حمکراں جماعت جنتا دل (یو) کے قومی ترجمان کے سی تیاگی نے کہا کہ 'میرے خیال میں تاج محل اتنا ہی خوبصورت ہے جتنا بنارس یا امرتسر۔ یوگی آدتیہ ناتھ ان اشتعال انگیز بیانات سے فرقہ وارانہ پولرائزیشن پیدا کرنا چاہتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ narendramodi.in
Image caption نریندر مودی نے ایران کے دورے پر قراں مجید کےساتھ غالب کے فارسی دیوان کا نسخہ بھی پیش کیا تھا

یہ سچ ہے کہ نریندر مودی نے صدر اوباما کی ہندوستان آمد پر انھیں گیتا تحفے دی تھی اور جب وہ جاپان گئے تھے تو شاہ اکیہوتو اور وزیر اعظم شنزو ابے کے لیے گیتا لے گئے تھے۔ لیکن اگر ایک نظر ان کے تحائف پر ڈالیں تو یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعظم مودی کے تحائف کے انتخابات پر حیرت ہو سکتی ہے۔

انڈین کونسل آف ورلڈ افیئرز کے ریسرچ فیلو فضل الرحمان صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ 'نریندر مودی اپنے تحائف بہت سنجیدگی سے منتخب کرتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کا داخلی اور خارجی سطح پر مختلف ایجنڈا ہے۔'

انھوں نے بتایا کہ 'جب وہ سعودی عرب گئے تھے تو وہ سعودی عرب کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کے پیش نظر چیرامن کی جامع مسجد کا نمونہ یا نقش ثانی ساتھ لے گئے تھے۔'

اس مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ انڈیا میں پہلی مسجد ہے جسے 629 عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PMOINDIA
Image caption ایران کے سفر کے لیے خصوصی طور پر خط کوفی تحریر کردہ

اسی طرح جب نریندر مودی نے ایران کا دورہ کیا تو وہ ساتویں صدی کی خطِ کوفی میں تحریر کردہ نایاب قرآن مجید کا خصوصی طور پر تیار کردہ نسخہ تحفے میں لے گئے تھے۔

ازبکستان کے صدر کے لیے وہ ہندوستان کے 13ویں صدی کے معروف صوفی شاعر امیر خسرو کی تصنیف 'خمسۂ خسرو' کا نقش ثانی لے گئے تھے اور اسے بطور خاص تیار کرایا گیا تھا۔

اسی طرح جب وہ چین گئے تو مہاتما بدھ کی ایک پتھر کی مورت کے ساتھ ان کی بعض مقدس یادگار لے گئے تھے۔

آسٹریلیا گئے تو دیگر تحائف میں مہاتما گاندھی کا ایک چرخہ بھی شامل تھا جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کے دوران انھوں نے مہاتما گاندھی کی ایک پینٹنگ تحفے میں دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ narendramodi.in
Image caption امیر خسرو کی تصنیف خمسہ کا ایک صفحہ

ترکمنستان کے دورے پر انھوں نے خصوصی طور پر تیار کردہ گھوڑے کی ایک زین دی تھی جبکہ کرغستان گئے تھے تو انھوں نے ایک قالین تحفے میں دیا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر محمد سہراب نے اس حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ خارجی اور داخلی سطح پر دو مختلف قسم کا ایجنڈا اپنایا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مسلم ممالک کو دیے جانے والے تحائف سے یہ بات باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے انڈیا کثیر مذہبی سیکولر ملک ہے لیکن انڈیا میں ہندوتوا کا ایجنڈا نافذ کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ narendramodi.in
Image caption ترکمنستان کے دورے پر وزیر اعظم مودی نے خصوصی طور پر تیار کردہ گھوڑے کی ایک زین دی تھی

انھوں نے بتایا کہ جاپان میں گیتا لے جانے پر ایک قسم کا تنازع بھی کھڑا ہوا تھا کہ اس کتاب کا تعلق بودھ مذہب سے تو نہیں ہے جو کہ جاپان میں اہمیت کا حامل ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں