’پاکستانی ٹیم کے مداحوں‘ کے خلاف غداری کا مقدمہ خارج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس نے گرفتار کیے گئے 15 مسلمان افراد کے خلاف بغاوت کے الزامات واپس لے لیے ہیں۔

ان 15 مسلمان مردوں کو چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل کے بعد مبینہ طور پر ’پاکستان کے حق میں اور انڈیا کے خلاف‘ نعرے بازی کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

مدھیہ پردیش کی پولیس نے صحافیوں کو بتایا کہ ان افراد کے خلاف بغاوت کے الزامات 'ابھی ثابت ہونے ہیں' تاہم ان کے خلاف 'فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان' پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

چیمپیئنز ٹرافی: پاکستان کی جیت پر انڈیا کے خلاف نعرے، غداری کا مقدمہ

ان افراد کو ان کے ہندو ہمسائیوں کی شکایت پر گرفتار کیا گیا جن کے مطابق ان لوگوں نے میچ کے دوران آتش بازی کی اور 'پاکستان کے حق' میں نعرے لگائے تھے۔

خیال رہے کہ چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں پاکستان نے انڈیا کو 180 رنز سے شکست دی تھی۔

سینئر پولیس افسر آر آر پری ہار کا کہنا ہے کہ ان افراد کے خلاف سازش کرنے کا اضافی چارج خارج نہیں کیا گیا ہے۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا 'ان افراد کے خلاف بغاوت کے الزام کو ثابت کرنا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔'

ملزمان کو منگل کو جیل بھیج دیا گیا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گرفتار افرار کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان گرفتاریوں کو ’انتہائی احمقانہ' قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ تعزیراتِ ہند میں بغاوت کا شمار سنگین الزامات میں ہوتا ہے۔

جن افراد کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا جاتا ہے انھیں اپنے پاسپورٹ حکام کے حوالے کرنے پڑتے ہیں، وہ سرکاری نوکریوں کے لیے نااہل ہو جاتے ہیں، انھیں عدالت کے حکم پر پیش ہونا ہوتا ہے ، تمام قانونی کاروائیوں کے لیے رقم بھی ادا کرنی ہوتی ہے اور اگر جرم ثابت ہو جائے تو انھیں عمر قید ہو سکتی ہے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ انڈیا میں مسلمانوں کو پاکستان کرکٹ ٹیم کی حمایت کرنے پر مشکل کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

سنہ 2014 میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں 66 طلبا کو اتر پردیش کی یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا اور ان پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں