ہلمند: کار بم دھماکے میں 34 ہلاک، 58 زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یہ دھماکہ رمضان کے مقدس مہینے میں کیا گیا ہے

افغانستان کے صوبے ہلمند میں ایک بینک کے باہر کار بم دھماکے میں کم از کم 34 افراد ہلاک اور 58 کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکہ لشکر گاہ میں نیو کابل بینک کے برانچ کے دروازے پر کیا گیا ہے۔

ہلاک اور زخمیوں میں عام شہری اور سکیورٹی فورسز کے لوگ شامل ہیں۔

طالبان کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ انھوں نے کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہلمند میں سکیورٹی فورسز طالبان کے خلاف لڑ رہی ہیں

لشکر گاہ کے مولا داد ہسپتال کے سربراہ نے بی بی سی پشتو سروس کو بتایا کہ ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پولیس کے ترجمان سلام افغان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا دھماکہ اس وقت ہوا جب عام لوگ اور اہلکار اپنی تنخواہیں لینے کے لیے بینک کے باہر قطار میں کھڑے تھے۔

افغانستان میں حالیہ برسوں میں بینکوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کیونکہ عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز کی تنخواہیں بینکوں کے ذریعے دی جاتی ہیں۔

افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے ترجمان نے ٹوئٹ کیا ہے کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے وہ بے قصور لوگ تھے جو عید کی شاپنگ کے لیے جا رہے تھے۔

افغانستان میں حالیہ دنوں میں طالبان کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اتوار کے روز مشرقی شہر گردیز میں ایک خودکش حملے میں 5 پولیس اہلکار اور 30 عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

31 مئی کو کابل میں ایک کار بم حملے میں 150 افراد مارے گئے تھے جو کہ 2001 سے اب تک سب سے بڑا حملہ ہے۔

مئی کے ہی آغاز میں گردیز کے نیو کابل بینک کی ایک برانچ میں دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات