سرینگر کی جامع مسجد کے باہر پولیس افسر کو مار مار کے ہلاک کر دیا گیا

نوہٹہ کی تاریخی جامع مسجد تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر کے شہر سری نگر کے نوہٹہ علاقے میں واقع اسی تاریخی جامع مسجد کے باہر لنچنگ کا واقع پیش آيا

انڈيا کے زیرانتظام کشمیر میں جمعرات کی شب لوگوں نے تاریخی جامع مسجد کے باہر تعینات ایک پولیس افسر کو مار مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

پولیس اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کے باہر مشتعل ہجوم نے محمد ایوب پنڈت نامی ایک پولیس افسر کو دبوچ کر اس قدر مارا پیٹا کہ ان کی موت ہوگئی۔

پولیس حکام نے اعتراف کیا ہے کہ پولیس افسر وردی کے بغیر جامع مسجد کے باہر 'اینٹی سبوتاژ' یعنی انسداد تخریب کاری کی ڈیوٹی پر تعینات تھے۔

سرینگر کے علاقے نوہٹہ میں واقع یہ صدیوں پرانی جامع مسجد علیحدگی پسند رہنما میر واعظ عمر کا موروثی پلیٹ فارم ہے جہاں وہ مذہبی و سیاسی امور سے متعلق لوگوں اور اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہیں۔

پولیس ترجمان منوج کمار نے ایک مختصر بیان میں کہا 'ڈیوٹی کے دوران ایک اور پولیس افسر کو ہجوم نے نوہٹہ میں مار پیٹ کے ذریعے ہلاک کیا۔'

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ محمد ایوب پنڈت مسجد کے صدر دروازے پر تلاشی کے لیے تعینات پولیس کے انچارج تھے۔

لیکن نوہٹہ کے باشندوں کا کہنا ہے کہ جمعرات کی رات ہزاروں لوگ جامع مسجد میں عبادت کے لیے داخل ہوئے اور جامہ تلاشی کے لیے مسجد کی انتظامیہ کے کارکن وہاں پر موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

دیگر عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں نے جب بغیر وردی کے مسلح شخص کو دیکھا تو وہ اس پر جھپٹ پڑے جس پر ایوب نے سائلنسر لگی پستول سے فائر کیا اس کی وجہ سے دو نوجوان زخمی ہوگئے۔

اس کے بعد مشتعل ہجوم نے ایوب کو پکڑ لیا اور مار پیٹ کے دوران ان کی موت ہوگئی۔

اس ہلاکت کے خلاف سیاسی اور سماجی حلقوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک بیان میں کہا: 'پورے ملک میں ہماری پولیس بہترین فورس ہے۔ ہماری پولیس نہایت ضبط اور تحمل کے ساتھ کام کرتی ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کا سابقہ ان کے اپنے ہی لوگوں کے ساتھ ہے۔'

سابق وزیر اعلی عمرعبداللہ نے ٹویٹ کیا: 'ایوب کی موت ایک صدمہ ہے، اور جن حالات میں یہ موت ہوئی وہ ایک بھونڈا مذاق ہے۔ خدا کرے ایوب کے قاتل اپنے گناہوں کے عوض جہنم میں داخل ہوں۔'

واضح رہے کہ کشمیر کی مقامی پولیس کے خلاف نہ صرف عوامی سطح پر غم و غصہ بڑھ گیا ہے بلکہ مسلح شدت پسندوں نے بھی ان پر حملوں میں شدت لائی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں