جنگ ختم کرنے یا اسے طول دینے کی ذمہ داری امریکہ کے کندھوں پر ہے: طالبان امیر

طالبان تصویر کے کاپی رائٹ AFGHAN ISLAMIC PRESS

افغانستان میں طالبان تحریک کے سربراہ ہبت اللہ اخندزادہ نے عید الفطر کی مناسبت سے اپنے سالانہ پیغام میں کہا ہے کہ جنگ ختم کرنے یا اسے طول دینے کی ذمہ داری امریکہ کے کندھوں پر ہے اور مزید فوجیں بھیجنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔

پانچ زبانوں میں بیک وقت جاری کیے گئے اس طویل بیان میں ہبت اللہ اخندزادہ کا کہنا تھا کہ جارحیت کے ختم ہونے کے بعد پرامن طریقے سے افغان مسئلے کا حل ان کی پالیسی کا اہم جز ہے اور اسی وجہ سے طالبان کے قطر میں سیاسی دفتر کو پرامن حل تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

بیان میں زیادہ تنقید امریکی پالیسیوں پر کی گئی ہے اور موجودہ صورتحال کا ذمہ دار بھی اسے ٹھرایا گیا ہے۔ ’یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ موجودہ جنگ کا آغاز غاصبوں کی جانب سے ہوا ہے۔ وہ دنیا کے دور افتادہ علاقوں سے افغانستان پر قبضہ جمانے اور اسلامی نظام کے خاتمے کی نیت سے آئے ہیں۔ اس جنگ کو ختم یا طول دینا بیرونی غاصبوں پر منحصر ہے۔‘

ہبت اللہ اخندزادہ کا اصرار تھا کہ امریکہ کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ افغانستان میں جنگ کے دوام، بمباری میں اضافے، افغانوں کے قتل عام، ان کی سرزمین میں اپنے سیاسی حریفوں کو ڈرانے اور جدید اسلحہ آزمانے، ان کی مزاحمت کو بدنام اور کمزور کرنے کی خاطر ان کے خلاف مختلف ناموں سے مسلح گروہوں کو سامنے لانے، ان کی فنڈنگ اور تشہیر کرنے، افغانوں کے درمیان قومی، علاقائی اور لسانی نفرتوں کو ابھارنے جیسے فتنوں کو بھڑکانے سے وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

’اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ اپنی فوجی موجودگی اور تعداد میں اضافے سے ہمارے حوصلوں کو شکست دے دیں گے تو یہ بڑی غلط فہمی ہے۔ ہوشیاری یہ ہے کہ حقائق سمجھ کر اپنی جنگی پالیسی تبدیل کی جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افغانستان کے ہمسایہ ممالک کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب بھی افغانستان میں جنگ ختم ہو جائے گی، تب وہ امریکہ سمیت تمام پڑوسیوں اور عالمی برادری کے ساتھ اچھے تعلقات اور معاملات کو اصول کے دائرے میں نبھائیں گے۔

’امارت اسلامیہ کسی کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی چاہتی ہے اور نہ ہی کسی کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت دیتی ہے۔ اسی طرح کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی کہ افغان سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال کر سکے۔‘

حالیہ دنوں میں افغانستان میں عام شہریوں پر بڑھتے ہوئے حملوں سے متعلق ہبت اللہ اخندزادہ نے ہدایت دی کہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے دوران شہری نقصانات کے معاملے کو سختی سے مدنظر رکھا جائے۔ ’جن حملوں میں شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچتا ہو، ہمیں کسی طور پر قابل قبول نہیں ہیں۔ ان سے گریز کیا جائے۔‘

عید کے موقع پر افغان طالبان رہنماؤں کی جانب سے ایسے پیغامات کا جاری کیا جانا ایک معمول ہے لیکن اس سے مبصرین کو تحریک کی سوچ اور ارادے سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں