انڈین فوج چینی علاقے سے فوراً نکل جائے: چین

چین تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چین نے انڈیا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے سرحدی محافظوں نے تبت اور سِکم کے درمیانی علاقے میں دراندازی کی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹر کے مطابق چین نے انڈیا کو خبردار کیا ہے کہ اس سے امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

چین نے متنازع علاقوں کے نام تبدیل کر دیے

میرا دوست چین!

چین نے کہا ہے کہ انڈیا کے سرحدی محافظوں نے چینی علاقے میں معمول کی زندگی کو متاثر کیا ہے اور انڈیا سے کہا ہے کہ وہ فوراً ان کے علاقے سے نکل جائے۔

انڈیا بھی حالیہ دنوں میں چین پر الزام عائد کرچکا ہے کہ چینی فوجیوں نے اس کے علاقے میں دراندازی کی ہے۔

چین اور انڈیا کا سرحدی علاقہ نتھو درہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے ہندو اور بدھ مت یاتری تبت میں یاترا کے لیے جاتے ہیں۔

انڈیا اور چین کے مابین 1967 میں اسی علاقے میں جھڑپیں ہو چکی ہیں اور اس کے علاوہ بھی وقتاً فوقتاً کشیدگی پیدا ہوتی رہی ہے۔

بی بی سی کے جنوبی ایشیا کے ایڈیٹر ایتھراجن انبرسن کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے مابین سرحد پر کشیدگی کا سنگین ترین واقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

خبر رساں ادارے روئٹر نے چینی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ بھارتی دراندازی سے امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ چین نےانڈیا پر مزید الزام عائد کیا ہے کہ وہ چین کے علاقے میں ایک سڑک کی تعمیر میں بھی رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔

بھارت نے چینی الزام پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ حالیہ ہفتوں میں چینی اور بھارتی سرحدی محافظوں کے مابین کشیدگی بڑھی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق چینی فوجیوں نے سِکم کے علاقے میں گھس کر انڈین آرمی کے عارضی مورچوں کو تباہ کیا ہے۔

چین پہلے ہی سرحد پار سے تبت میں یاتریوں کی آمد پر پابندی عائد کر چکا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں