خاتون کے لباس پر اعتراض کے بعد دہلی گالف کلب کی معافی

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption تیلن لنگدوہ کا تعلق شمال مشرقی ریاست میگھالیہ سے ہے

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے معروف گالف کلب نے اپنے ملازمین کی جانب سے ایک خاتون کو روایتی لباس پہننے کی وجہ سے اسے کلب سے باہر نکالنے کے واقعے کے بعد معافی مانگی ہے۔

تیلن لنگدوہ کا تعلق شمال مشرقی ریاست میگھالیہ سے ہے اور انھوں نے اپنے کھاسی قبائل کا روایتی لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ وہ اپنی مالکن کے ساتھ دلی کے گالف کلب گئی تھیں۔

کلب کے سٹاف نے ان سے کہا کہ چونکہ وہ ایک 'گھریلو خادمہ' کی طرح دکھ رہی ہیں اس لیے کلب سے باہر نکل جائیں۔

گالف کلب کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں اس سے بہتر طور پر بھی نمٹا جا سکتا تھا اور متعقلہ سٹاف کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا رہی ہے۔

کلب نے اپنے ایک بیان میں کہا: 'ہم نے سٹاف سے وضاحت طلب کی ہے اور تادیبی کارروائی کا عمل بھی شروع کیا جا چکا ہے۔ اس رکن سے معذرت پیش کی گئی ہے جو مہمان کو کلب لے کر آئی تھیں۔ اسے بلا شرط منظور بھی کر لیا گیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کولف کلب کی انتظامیہ نے معذرت پیش کی ہے

اطلاعات کے مطابق لنگدوہ ڈاکٹر نیویدتا برتھاکر سوندھی کے گھر میں ملازمت کرتی ہیں۔ سوندھی کو کلب کے ایک رکن نے دعوت دی تھی اور انھیں کے ساتھ لنگدوہ نے اتوار کے روز کلب کا دورہ کیا تھا۔

انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے ڈاکٹر سوندھی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ'ہمارے پہنچنے کے تقریباً 10 یا پندرہ منٹ کے بعد مینیجر اجیت پال ایک خاتون کے ساتھ آئے اور لنگدوہ سے ٹیبل سے ہٹنے اور کمرے سے باہر جانے کو کہا۔'

'جب میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا کہ وہ ایک نوکرانی کی طرح دکھتی ہیں۔ میں ان سے پوچھا کہ وہ اس نتیجے پر کیسے پہنچے؟ انھوں نے کہا کہ وہ الگ دکھتی ہیں، کپڑے ایک نوکرانی کی طرح کے پہن رکھے ہیں اور اور ایک نیپالی کی طرح نظر آتی ہیں۔ یہ بہت بے عزت کرنے والا سلوک تھا۔ میں اس طرح کے امتیازی سلوک کو برداشت کرنے کے لیے قطعی تیار نہیں تھی۔'

سوندھی کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ ایک انڈین شہری کے روایتی لباس کی توہین کر رہے تھے اس لیے انھوں نے اس پر سخت احتجاج کیا۔

اس معاملے پر انڈین ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا میں بھی کافی بحث ہوئی اور لوگوں نے کلب کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نکتہ چینی کی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں