سرحد پر کشیدگی، چین نے 300 انڈین یاتریوں کو روک دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ انڈیا کے سرحدی محافظوں کی جانب سے تبت اور سِکم کے درمیانی علاقے میں دراندازی کے بعد سکیورٹی خدشات کے باعث انڈیا سے آنے والے 300 ہندو اور بدھ مت یاتریوں کو روک دیا گیا ہے۔

چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ آئندہ چند ہفتوں میں ہندو اور بدھ مت یاتری کی آمد پر پابندی کے حوالے سے سفارتی چینل کے ذریعے انڈیا کو مطلع کر دیا گیا ہے۔

انڈین فوج چینی علاقے سے فوراً نکل جائے: چین

’چین نے دریائے برہم پتر کے ایک معاون دریا کا پانی روک دیا‘

دوسری جانب انڈیا کی جانب سے چین کی جانب سے لگائے جانے والے الزام کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا گیا ہے۔

تاہم پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق دہلی میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سِکم کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

چین اور انڈیا کا سرحدی علاقہ نتھو درہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے ہندو اور بدھ مت یاتری تبت میں یاترا کے لیے جاتے ہیں۔

انڈیا اور چین کے مابین 1967 میں اسی علاقے میں جھڑپیں ہو چکی ہیں اور اس کے علاوہ بھی وقتاً فوقتاً کشیدگی پیدا ہوتی رہی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ چین نے انڈیا کو مطلع کر دیا ہے کہ بیجنگ دہلی کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے حق میں ہے لیکن اپنی خودمختاری اور فوائد کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک سوال کے جواب میں لو کانگ نے کہا کہ سِکم کے علاقے میں چین اور انڈیا کی سرحد کی حدبندی کا تعین ہو چکا ہے۔

'برطانیہ اور چین کے درمیان سکم اور تبت سے متعلق 1890 کے معاہدے کی پہلی شق میں کہا گیا ہے کہ سکم اور تبت کی سرحد اس سلسلہ ہائے کوہ کا بلند ترین مقام ہوگا جو کہ سکم تیستا میں داخل ہونے والے دریاؤں اور اس کے ذیلی ندی نالوں کو تبتی موچو اور شمال کی جانب دیگر تبتی دریاؤں میں شامل ہونے والے پانی سے الگ کرے گی۔ یہ سرحدی لکیر بھوٹان کی سرحد پر گپموچی نامی پہاڑ سے شروع ہوگی اور دریاؤں کے ساتھ ساتھ اس مقام پر ختم ہوگی جہاں سے نیپال کی حدود کا آغاز ہوتا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ چین اور انڈیا کی حکومتیں سِکم کی سرحدی حدبندی کو تسلیم کر چکی ہیں۔ اس بات کی تصدیق انڈین رہنما، انڈیا کے سرکاری دستاویزات اور انڈیا کا خصوصی وفد جو سِکم اور تبت کی سرحدی حدبندی کے لیے چین کے وفد سے ملا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ انڈیا کا اس کنونشن اور دستاویز کا احترام کرنا بین الاقوامی ذمہ داری ہے جس سے بچا نہیں جا سکتا۔

انڈیا میں اعلیٰ اجلاس

انڈیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق چین کی جانب سے دراندازی کا الزام لگانے کے بعد اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سِکم کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اس اجلاس میں فوج، انڈو تبتن سرحدی پولیس اور وزارت داخلہ کے نمائندگان نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ انڈیا اور چین کی سرحد 3488 کلو میٹر ہے جس میں سے سِکم کی سرحد 220 کلومیٹر طویل ہے۔

سیکریٹری داخلہ راجیو مہریشی کا کہنا تھا کہ چین نے 100 یاتریوں کو سرحد سے واپس بھیج دیا جبکہ ان یاتریوں کے پاس ویزے بھی تھے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سِکم میں ہونے والا واقع چین کی جانب سے ایک اور فرنٹ کھولنے کی کوشش ہے۔

حکام نے مزید کہا کہ جموں اور کشمیر، اترکھنڈ اور ارون چل پردیش میں چین نے کئی بار دراندازی کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں