جھارکنڈ ریاست میں مردہ گائے پر فساد، مسلمان کے مکان کو آگ لگا دی

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انڈیا کی ریاست جھارکھنڈ میں مردہ گائے ملنے پر فساد کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ مجمعے کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے فائرنگ کی۔

یہ واقعہ گریڈیہ ضلع کے ہساگرست گاؤں میں پیش آیا جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پر قابو پانے کے لیے سی آر پی ایف کے جوانوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔

جھارکھنڈ پولیس کے ترجمان آر کے ملک نے بتایا 'اس واقعے میں زخمی عثمان انصاری کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ پولیس فائرنگ میں زخمی ہونے والا شخص کرشنا بھی ہسپتال میں داخل ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں 11 افراد کو گرفتار کیا ہے۔'

’گائے کا گوشت کھانے پر مسلمان لڑکوں کو نشانہ بنایا‘

لنچنگ رپبلک آف انڈیا

پولیس کے ترجمان آر کے ملک نے بی بی سی کو بتایا 'بیريا گاؤں کا رہائشی عثمان انصاری ڈیری چلانے کا کام کرتے ہیں۔ ان کی ایک گائے کی بیماری سے موت ہو گئی تھی۔ عثمان نے مردہ جانوروں کو تلف کرنے والے ایک شخص سے بات کی۔ پیسے کے حوالے سے دونوں میں گرما گرمی ہو گئی تو عثمان نے خود ہی گائے کو تلف کر دیا۔ اسی دوران کسی نے گائے کا سر اور پاؤں کاٹ دیا۔'

آر ملک نے مزید بتایا 'منگل کو ہفتہ وار مارکیٹ جاتے لوگوں نے سر کٹی گائے کی لاش دیکھی تو افواہ پھیلی کہ عثمان انصاری نے ہی گائے کو مارا ہے۔ اس کے بعد ہجوم نے عثمان کے گھر پر حملہ کر دیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اطلاع ملتے ہی پولیس گاؤں پہنچی اور فسادیوں کو قابو میں کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور فائرنگ کی۔

'لاٹھی چارج اور فائرنگ کے نتیجے میں عثمان انصاری کے گھر کے لوگوں کو بچایا جا سکا۔ اس میں ایک شخص پاؤں پر گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔ اس دوران ہجوم نے عثمان انصاری کو بری طرح پیٹا۔'

عثمان انصاری کے بیٹے سلیم نے بتایا کہ جب ہجوم نے ان کے مکان کو آگ لگائی تو اس وقت ان كي والدہ، بیوی سمیت خاندان کے تمام اراکین مکان کے اندر ہی تھے۔

سلیم نے بتایا کہ اگر پولیس نہ آتی تو ان کے والد کو لوگ وہیں پر مار دیتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں