چینی صدر شی جن پنگ کا پہلا دورہ ہانگ کانگ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption چینی صدر اپنی اہلیہ پینگ لیونگ کے ساتھ تین دن کے دورے کے لیے شہر کے چیک لیپ کاک ایئر پورٹ اترے

چین کے صدر شی جن پنگ ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کرنے کے 20 برس مکمل ہونے پر تقریب میں شرکت کے لیے ہانگ کانگ کے دورے پر ہیں۔

خیال رہے کہ برطانیہ نے بیس برس قبل ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کیا تھا۔

شی جن پنگ کا 2013 میں صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہانگ کانگ کا یہ پہلا دورہ ہے تاہم یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب سیاسی ماحول تھوڑا کشیدہ ہے۔

چینی صدر اپنی اہلیہ پینگ لیونگ کے ساتھ تین دن کے دورے کے لیے شہر کے چیک لیپ کاک ایئر پورٹ پر اترے۔ مارچنگ بینڈ اور ہاتھوں میں پھول سجائے بچوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر کی آمد پر شہر کے بعض علاقوں کو زبردست طریقے سے سجایا گیا ہے

اس موقع پر انھوں نے اپنے مختصر سے بیان میں کہا کہ ہانگ کانگ 'ہمیشہ میرے دل میں ہے۔'

ان کا کہنا تھا: 'بیجنگ کی مرکزی حکومت ہانگ کانگ کی ہمیشہ سے ہی حامی رہی ہے اور اس کی معاشی ترقی اور یہاں کے لوگوں کی زندگيوں کو بہتر بنانے کی ہمیشہ حمایت کرتی رہے گی۔'

انھوں نے مزید کہا: 'بیجنگ ہانگ کانگ کے 20 سالہ غیر معمولی سفر کو برقرار رکھتے ہوئے سماج کے سبھی سیکٹرز کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ 'ایک ملک دو نظام' استحکام کے ساتھ جاری رہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AAC LAWRENCE AFP GETTY IMAGES
Image caption زیادہ سیاسی آزادی کے لیے مظاہرے بھی ہتے رہے ہیں

بیجنگ نے اس وقت اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ وہ ہانگ کانگ پر 'ایک ملک دو نظام' کے تحت حکمرانی کرے گا۔ اس کے تحت شہر کا اپنا خاص قانونی نظام، محدود جمہوریت، مختلف سیاسی پارٹیوں، اسمبلی اور اظہار کی آزادی جیسے نکات کو تسلیم کیا گيا تھا۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہی چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے پیش نظر ہانگ کانگ میں اس بات کی تشویش پائی جاتی ہے کہ کہیں بیجنگ کی مداخلت سے اس کی اپنی آزاد سیاست اور روایات کمزور نہ پڑ جائیں۔ بہت سے سیاسی کارکن زیادہ سیاسی اختیارات کے لیے مہم بھی چلاتے رہے ہیں۔

بیس برس کے مکمل ہونے پر کئی سرکاری تقریبات ہونی طے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی جمہوریت کے حامیوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی بھی کال دی گئی ہیں۔

صدر کی آمد سے پہلے ہی کئی ایسے کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ جہموریت نواز گروپ میں طلبا شامل ہیں اور انھوں نے احتجاج کی کال دی ہے۔

انتظامیہ نے اسی کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور شہر کے بعض راستوں کو بلاک کر دیا گيا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں