جب مودی تشدد کی مذمت کر رہے تھے تبھی جھارکھنڈ کا علیم دین مارا گیا

انڈیا، گائے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈین وزیر اعظم نے نام نہاد گو رکشکوں کی پر تشدد کارروائیوں کے خلاف عرصے بعد سخت زبان کا استعمال کیا ہے

انڈیا میں گائے کے تحفظ کے نام پر بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کے پس منظر میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ گائے کے نام پر انسانوں کا قتل برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔

تاہم جب انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اس حوالے سے بات کر رہے تھے تو دوسری جانب جھارکھنڈ میں مجمعے نے ایک مسلمان نوجوان کو قتل کر دیا۔

رانچی سے ملحق رام گڑھ میں علیم دین نامی لڑکاگوشت خرید رہا تھا جب مجمعے نے اس پر حملہ کر کے ہلاک کر دیا۔

مجمعے نے علیم دین کی گاڑی کو بھی آگ لگا دی۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہو گئے اور پولیس کے اعلیٰ افسران نے وہاں کیمپ ڈال لیا ہے۔

ایک عینی نے بتایا کہ مجمع اس بات پر غصے کا اظہار کر رہے تھے کہ علیم دین ان کی گاڑی میں گائے کا گوشت ہے۔ اسی دوران لوگوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی جس کے بعد علیم دین کو قتل کر دیا گیا۔

ہمارے نامہ نگار سہیل حلیم نے بتایا کہ گجرات میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا ' کسی کو قانون اپنے ہاتھوں میں لینے کا حق نہیں ، میں ملک کی عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔'

انڈین وزیر اعظم نے نام نہاد گو رکشکوں کی پر تشدد کارروائیوں کے خلاف عرصے بعد سخت زبان کا استعمال کیا ہے لیکن حزب اختلاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صرف بیان دینے سے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

جھارکنڈ ریاست میں مردہ گائے پر فساد، مسلمان کے مکان کو آگ لگا دی

'گائے کا گوشت کھانے پر مسلمان لڑکوں کو نشانہ بنایا گیا'

انڈیا میں اب ہر گائے کی ہو گی اپنی الگ شناخت

کانگریس کے سینئیر لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا 'دلتوں اور اقلیتوں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے لیکن وفاقی اور ریاستی حکومتیں کوئی کارروائی نہیں کرتیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزیراعظم نریندر مودی کو اس الزام کا سامنا رہا ہے کہ وہ بیرون ملک تشدد کے واقعات کی تو مذمت فورا کرتے ہیں لیکن ملک کے اندر ہونے والے ان حملوں پر خاموش رہتے ہیں

انڈیا میں جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بنی ہے، اقلیتوں اور دلتوں پر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کبھی گائے کے تحفظ تو کبھی لو جہاں کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن نئی دہلی کے قریب ایک ٹرین میں ایک 16 سال کے لڑکے کے قتل کے بعد سے اس رحجان کے خلاف آواز اٹھنا شروع ہوئی ہے۔

16 سالہ جنید کو گذشتہ ہفتے قتل کیا گیا تھا اور تب سے ہی یہ کیس سرخیوں میں ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کو اس الزام کا سامنا رہا ہے کہ وہ بیرون ملک تشدد کے واقعات کی تو مذمت فورا کرتے ہیں لیکن ملک کے اندر ہونے والے ان حملوں پر خاموش رہتے ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے اپنے رد عمل میں کہا کہ بات کچھ اس نہج پر پہنچ گئی ہے اور اب ٹھوس کارروائی کی ضرورت ہے۔

بی جے پی کی اتحادی جماعت شو سینا نے بھی اپنی حکومت پر تنقید کی ہے۔

پارٹی کی ترجمان منیشا کیانڈے نے کہا کہ اس پورے مسئلے پر صرف سیاست کی گئی ہے اور اگر حکومت سنجیدہ ہے تو اسے سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔

اگرچہ نریندری مودی نے گو رکشوں پر گذشتہ برس اگست میں بھی تنقید کی تھی تاہم ابھی تک حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

اسی بارے میں